پاکستان تحریکِ انصاف کا حکومت میں ایک سال: کتنا کامیاب، کتنا ناکام؟


  • | 0 PKR

    گذشتہ برس جب پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے 18 اگست کو وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا تو پوری قوم کی پر امید نظریں ان پر مرکوز تھیں۔
    994180cb-4f54-441b-9780-9bf86e92f4ff-image.png
    سنہ 2013 سے لے کر سنہ 2018 کے الیکشن ہونے تک، اُن پانچ سالوں میں عمران خان اور ان کی جماعت نے جہاں ایک جانب ماضی کے حکمرانوں پر سخت ترین تنقید کے تیر برسائے، تو وہیں ساتھ ساتھ انھوں نے اپنی جماعت کو اس حیثیت میں پیش کیا جو برسر اقتدار آتے ہی صرف 90 دن میں ملک کے حالات ‘تبدیل’ کر دے گی۔

    اس پس منظر میں بی بی سی نے حکومت کے بارہ ماہ مکمل ہونے پر حکمراں جماعت کے رہنماؤں اور چند تجزیہ کاروں سے گفتگو کی اور ان سے ایک سادہ سا سوال پوچھا: ’گذشتہ ایک سال میں پی ٹی آئی حکومت کی سب سے بڑی کامیابی کیا رہی اور سب سے بڑی ناکامی کیا تھی؟‘

    کامیابی اور ناکامی جانچنے کا پیمانہ کیا ہے؟
    یہ حقیقت ہے کہ کامیابی اور ناکامی کا تعین کرنا آسان نہیں۔ کچھ چیزیں، مثلاً معیشت کا تو گذشتہ سالوں سے موازنہ کر کے یہ کہا جا سکتا ہے کہ کامیابی یا ناکامی کیا ہے، لیکن کئی ایسی چیزیں ہیں جیسے کہ حکومتی امور، جنھیں عموماً ‘گُڈ گوورننس’ کہا جاتا ہے جو ان اعداد و شمار کی پیمانوں پر پورا نہیں اترتیں۔

    اُس صورت میں جواب دینے والوں کی طرفداری ابھر کر سامنے آ جاتی ہے اور ان کے جوابات کی نوعیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ آیا وہ حکومت کے حلیف ہیں یا ناقد۔

    وزیر اعظم کے مشیر برائے میڈیا افتخار درانی سے جب کارکردگی کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انھوں نے ناکامیوں کے حوالے سے تو کوئی جواب نہیں دیا۔ البتہ کامیابیوں کی ایک 32 نکاتی فہرست بھیج دی جس میں انھوں نے خارجہ پالیسی کی کامیابی، فاٹا کا انضمام، سادگی اور کفایت شعاری مہم کی مدد سے ہونے والے بچت، کرپشن پر کریک ڈاؤن، صحت انصاف کارڈ، غربت کے خاتمے کے پروگرام، ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے شجر کاری مہم اور کئی دیگر کامیابیوں کا ذکر کیا۔

    دوسری جانب جب چند تجزیہ نگاروں سے بات ہوئی تو انھوں نے دوست ممالک کی حمایت حاصل کرنا، خارجہ تعلقات کی بہتری کو کامیابی گردانا اور سعودی عرب، قطر اور چین کی جانب سے معاشی امداد حاصل کرنے کی تعریف کی۔

    کرتارپور راہداری کو کھولنا اور وزیر اعظم کی جانب سے غربت کے خاتمے کے منصوبے ’احساس‘ اور بے گھر افراد کے لیے ’پناہ گاہ‘ پروگرام کے انعقاد کو بھی سراہا گیا۔

    مگر ساتھ ساتھ ان ماہرین نے معاشی شعبے کو بڑی ناکامی قرار دیا اور کہا کہ ملک کی معاشی حالات کو جاننے کے باوجود عالمی مالیاتی ادارے کے پاس اتنی تاخیر سے جانا غلطی تھی۔
    14d218c8-0aa5-497b-9708-81650b5d10bd-image.png
    تصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES

    موجودہ حکومت کو کرتارپور راہداری منصوبے پر کافی فخر ہے

    ’سب سے بڑی کامیابی، ویزا حصول کی آسانی‘
    وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری سے جب بی بی سی نے یہ سوال کیا تو ان کا جواب بڑا واضح تھا۔

    ان کے مطابق گذشتہ 12 ماہ میں ان کی حکومت کی سب سے اہم کامیابی پاکستان کے لیے ویزا حاصل کرنے کے نظام میں آسانی لانا تھا۔

    سابق وفاقی وزیر برائے اطلاعات نے اس بارے میں بتایا کہ حکومت نے بہت ہی قلیل عرصے میں کئی سالوں سے چلی آنے والی پالیسی کو تبدیل کیا ہے اور اس کے نتیجے میں کاروباری افراد بزنس ویزا فوراً حاصل کر سکتے۔

    انھوں نے کہا کہ سب سے بڑی تبدیلی یہ آئی ہے کہ چین، ملائیشیا، ترکی، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات کے شہریوں کو ‘ویزا آن ارائیول’ یعنی پاکستان پہنچنے پر ان کو فوراً ویزا دیا جا سکتا ہے۔
    a48988a1-602b-462f-8745-00679c696a05-image.png
    تصویر کے کاپی رائٹPID

    فواد چوہدری کے مطابق گذشتہ 12 ماہ میں ان کی حکومت کی سب سے اہم کامیابی پاکستان کے لیے ویزا حاصل کرنے کے نظام میں آسانی لانا تھا
    وفاقی وزیر کے مطابق ان پانچ ممالک سے ابتدا کی گئی ہے لیکن اگلے چھ ماہ میں اس تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔

    ‘اس پروگرام کی کامیابی کا اندازہ آپ ایسے لگائیں کہ گذشتہ تین ماہ میں پاکستان نے 16 ہزار ای ویزے جاری کیے ہیں۔’

    وزارت داخلہ کی ویب سائٹ کو دیکھیں تو وہاں پر درج تفصیلات کے مطابق اس وقت ای ویزا صرف پانچ ممالک کے شہریوں کو دیا جا رہا ہے جبکہ 50 ممالک کے شہریوں کے لیے ویزا آن ارائیول کی سہولت ہوگی۔

    اس کے علاوہ ویب سائٹ پر 175 ممالک کی فہرست درج ہے جہاں کے شہری مستقبل میں ای ویزا حاصل کر کے پاکستان آ سکتے ہیں۔

    حکومت کے اس اقدام سے قبل صرف 24 ممالک کو پاکستان کے لیے ویزا آن ارائیول کی سہولت میسر تھی اور ای ویزا کا نظام وضع نہیں تھا۔

    دیگر قابل ذکر کامیابی کا تذکرہ کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں کے برعکس اس حکومت کے ایک سال میں اب تک کرپشن کا کوئی بھی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔

    57a16617-987f-4e22-9622-0dbbcaa20050-image.png
    تصویر کے کاپی رائٹPTI
    وزیر اعظم عمران خان لاہور کے پناہ گاہ کا دورہ کرتے ہوئے

    پناہ گاہ پروگرام کی کامیابی

    وفاقی وزیر برائے ڈاک اور کمیونیکیشن مراد سعید نے بی بی سی کے سوال پر کہا کہ ان کی حکومت کی بڑی کامیابی ’اب تک کسی کرپشن سکینڈل کا سامنے نہ آنا‘ ہے۔

    ساتھ ساتھ انھوں نے اپنی وزارتوں کی کارکردگی بیان کی جس میں ان کے مطابق محکمہ ڈاک نے ایک سال میں 18 ارب روپے کا منافع حاصل کیا جو کہ ماضی کے مقابلے میں 70 فیصد زیادہ ہے اور وزارت کمینونیکیشن نے 52 فیصد اضافے کے ساتھ 43 ارب روپے کا منافع حاصل کیا۔

    مگر مراد سعید کے مطابق حکومت کی سب سے بڑی کامیابی وزیر اعظم کا ’پناہ گاہ‘ پروگرام ہے۔

    ’ہماری حکومت نے جب ذمہ داری سنبھالی تو ہماری کوشش تھی کہ ہم مدینے کی ریاست کے طرز پر پاکستان کو بنائیں اور اس سلسلے میں ہمارا سب سے اہم قدم پاکستان کے بڑے شہروں میں جگہ جگہ ‘پناہ گاہ’ پروگرام کے تحت غریب عوام کو چھت فراہم کرنا ہے جس کی مدد سے کوشش کی جا رہی کہ کوئی شخص کھلے آسمان کے نیچے نہ سوئے۔‘

    ’مدرسہ اصلاحات ایک اہم قدم‘
    ed775c69-581d-482d-bdf9-746403fadb0b-image.png
    تصویر کے کاپی رائٹAAMIR QURESHI
    وفاقی وزیر شفقت محمود نے کہا کہ ماضی کے برعکس اس بار مدرسہ اصلاحات پروگرام میں فرق ہے
    وفاقی وزیر برائے تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے اس سوال پر کہا کہ ان کے نزدیک اس حکومت کی بڑی کامیابی مدرسہ تعلیم کی نظام میں اصلاحات کے بارے میں پیشرفت ہے۔

    شفقت محمود نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ایسے پروگرامز کے برعکس اس بار بڑا فرق یہ ہے کہ مختلف مسالک کے علما نے حکومت کے ساتھ متعدد میٹنگز کی اور تمام سٹیک ہولڈرز کی تجاویز کو سامنے رکھتے ہوئے ایک معاہدے پر اتفاق ہوا ہے جو کہ آج سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔

    'ہمارا مقصد ہے کہ ملک میں تعلیمی نظام کو یکساں بنایا جائے۔ اس سلسلے میں ہم نے پہلے تنظیم وفاق المدارس سے کئی طویل میٹنگز کی ہیں اور اس کے بعد ہم متفقہ طور پر معاہدے پر دستخط کرنے پر کامیاب ہوئے ہیں۔

    ماضی کے بر عکس ہم ان کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوئے کہ ہم مدارس کا کنٹرول اپنانے کی کوشش نہیں کر رہے بلکہ ہمارے مقصد صرف ان کو نظام کے ساتھ چلانا ہے تاکہ یکساں قانون ہو اور ان کی پاسداری کی جائے۔’

    ’نیت اچھی، مگر منصوبہ بندی کا فقدان‘
    پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی کے بارے میں جب ماہرین اور تجزیہ کاروں سے کیا گیا تو بیشتر کی رائے متفق تھی کہ حکومت کی نیت پر کوئی شک نہیں مگر ان کی اب تک کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ شاید منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔
    8b279b88-8ac7-417a-a64b-36375c3d076c-image.png
    تصویر کے کاپی رائٹAFP

    تجزیہ کار عزیر یونس کے مطابق ڈالر کی قدر میں اضافہ کامیابی ہے
    واشنگٹن ڈی سی میں مقیم جنوبی ایشیائی امور کے ماہر، عزیر یونس نے حکومت کی کامیابیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے حالیہ مہینوں میں تقریباً نو ارب ڈالر کے قرضے لیے ہیں جس سے کہا جا سکتا کہ معاشی بوجھ میں اضافہ ہوا ہے۔

    لیکن ان کے نزدیک یہ ایک کامیابی ہے کیونکہ یہ قرضے پاکستان کے قریبی دوستوں سے لیے گئے ہیں اور پاکستان کے معاشی حالات بہتر بنانے کے لیے یہ امداد لازمی تھی۔

    ‘پی ٹی آئی حکومت آنے کے بعد سے ڈالر کی قیمت میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور روپے کے قدر تاریخ کی سب سے کم سطح پر پہنچ گئی ہے۔ کئی لوگ اسے ناکامی گردانیں گے لیکن میرے خیال میں یہ ان کی کامیابی ہے کیونکہ انھوں نے ایک مشکل، مگر حقیقت پسندانہ فیصلہ لیا۔اس سے عوام کو تکلیف ضرور پہنچے گی مگر یہ کرنا ضروری تھا۔’

    آکسفورڈ یونی ورسٹی سے منسلک ماہر معاشیات شاہ رخ وانی نے حکومت کی کامیابیوں کے حوالے سے کہا کہ صرف ایک سال کی کارکردگی سے یہ اندازہ لگانا قدرے دشوار ہوگا کہ وہ کتنے کامیاب ہوئے ہیں۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شاہ رخ وانی نے کہا کہ پاکستان کی معیشت بوسیدہ اور کمزور بنیادوں پر کھڑی ہے اور اس وجہ سے وہ موجودہ حکومت کو ملک کی ابتر معاشی صورتحال کا ذمہ دار نہیں سمجھتے۔

    ’ہاں اگر سوال یہ ہو کہ کیا اس حکومت نے ان بنیادوں کو ٹھیک کرنے کے لیے کوئی اصلاحی منصوبہ بندی کی ہے تو ہمیں اس سمت میں کچھ اشارے ضرور ملتے ہیں۔’
    a53727c5-80f0-4eef-993f-47cd72faac68-image.png
    تصویر کے کاپی رائٹ AFP

    پی ٹی آئی نے اقتدار میں آ کر پاکستان میں ٹیکس چوری کے کلچر کو ختم کرنے کے حوالے سے کام کیا ہے جو کہ قابل تعریف ہے
    صوبہ پنجاب کے بلدیاتی نظام کے قانون کی بات کرتے ہوئے شاہ رخ وانی نے اسے ایک اہم قدم قرار دیا اور کہا کہ اگر اس قانون کا صحیح معنوں میں اطلاق ہو جائے تو یہ ایک بڑی کامیابی ہوگی۔

    تجزیہ نگار اور وکیل ریما عمر نے بی بی سی کو بتایا کہ پی ٹی آئی نے اقتدار میں آ کر پاکستان میں ٹیکس چوری کے کلچر کو ختم کرنے کے حوالے سے ترجیحی بنیادوں پر کام کیا ہے جو کہ قابل تعریف ہے کیونکہ یہ مسئلہ پاکستانی معیشت کو دیمک کی طرح چاٹ رہا تھا۔

    ‘ہم اس بارے میں بحث کر سکتے ہیں کہ اس سلسلے میں ان کے اقدامات کیسے ہیں اور ان کے اہداف حقیقت پسندانہ ہیں یا نہیں، لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت اس سیکٹر میں بہتری لانے کے لیے پوری طرح کوشاں ہے اور یہ درست سمت میں ایک اہم قدم ہے۔’

    پاکستانی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے صحافی اور تجزیہ کار رضا رومی کے نزدیک پی ٹی آئی حکومت نے خارجہ محاظ پر اہم پیش قدمی کی ہے، بالخصوص امریکہ سے تعلقات میں بہتری لانا ایک اہم کامیابی تھی۔
    d75a33a9-b70b-4fd7-bba4-d7a3b3e22758-image.png
    تصویر کے کاپی رائٹ
    GETTY IMAGES
    ‘گذشتہ چند برسوں میں پاکستان اور امریکہ کہ تعلقات ابتری کی جانب مائل تھے لیکن اس حکومت نے ان تعلقات کو عمران خان کے حالیہ دورے کے بعد بڑی حد تک بہتر بنایا ہے۔ یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ اس کا کتنا سہرا عمران خان کو جاتا ہے اور کتنا پاکستان کی فوج کو ، لیکن وہ مل جل کر حکومت چلا رہے ہیں اس لیے یہ حکومت کی ہی کامیابی تصور کی جائے گی۔’

    تجزیہ کار رضا رومی کے مطابق اس حکومت نے امریکہ سے تعلقات کو عمران خان کے حالیہ دورے کے بعد بڑی حد تک بہتر بنایا ہے
    ناکامیاں
    اقتدار میں آنے کے بعد سے پی ٹی آئی کو حزب اختلاف سے تابڑ توڑ تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    معیشت کے شعبے میں خاطر خواہ پیشرفت نہ کرنے اور غیر ضرورتی اخراجات کی کمی کے لیے کفایت شعاری کی مہم سے لے کر حزب اختلاف کے رہنماؤں کے خلاف مبینہ بدعنوانی کرنے پر کاروائی، اس حکومت کے ہر فیصلے اور ہر قدم پر ناقدین کی جانب سے نکتہ چینی دیکھنے میں آئی ہے۔

    بی بی سی نے جب غیر جانبدار تجزیہ کاروں اور ماہرین سے اس حوالے سے سوالات کیے تو اُن کے پاس بھی اس حکومت کی کمزوریوں اور ناکامیوں کی لمبی فہرست موجود تھی لیکن وفاقی وزیر فواد چوہدری کے علاوہ، دیگر حکومتی اراکین کی جانب سے ناکامیوں کے بارے میں مفصل جوابات نہیں دیے گئے۔

    ’متوسط طبقے کی امیدوں پر پورے نہیں اترے‘
    وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کی سب سے زیادہ مقبولیت پاکستان کے مڈل کلاس یعنی متوسط طبقے میں ہے اور انھی کی حمایت کی مدد سے پی ٹی آئی اقتدار میں آئی مگر وہ معاشی صورتحال کے پیش نظر ان کے لیے کوئی سہولت نہ دے سکی۔
    18cf9e24-b3cc-4f10-88a7-b8c0400afad6-image.png
    تصویر کے کاپی رائٹ
    AFP
    معیشت کے حالات اتنی مخدوش ہیں کہ متوسط طبقے کے مدد نہ ہو سکی
    ‘ہمارے سب سے زیادہ ووٹرز اُس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جن کی تنخواہیں ماہانہ 30 ہزار سے لے کر ایک لاکھ روپے تک ہے اور انھی کی بدولت ہمیں انتخابات میں جیت ملی لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ معیشت کے حالات اتنی مخدوش ہیں کہ ہم ان کی آسانی کی لیے کچھ نہیں کر سکے۔’

    فواد چوہدری نے مزید کہا کہ ان کی نظر میں ایک اور شعبہ جہاں ان کی حکومت اپنے اہداف مکمل نہ کر سکی وہ سرکاری اداروں میں اصلاحات کا ہے۔

    ‘جب ہماری حکومت آئی تو اقتصادی حالات ایسے تھے کہ ہماری ساری توجہ ان پر مرکوز تھی اور اُس کی وجہ سے ہم ان اصلاحات پر کام نہ کر سکے جتنا ہمارا ارادہ تھا۔’

    البتہ وفاقی وزیر مراد سعید نے کہا کہ وہ حکومت کے اب تک اقدامات میں سے کسی کو ناکام نہیں کہیں گے کیونکہ ہر شعبے میں کام ضرور ہو رہا ہے۔

    ‘ہمیں سب سے پہلے معیشت کو دیکھنا تھا اور ہم نے آتے کے ساتھ ہی اس پر کام شروع کر دیا ہے لیکن یہ فوراً ٹھیک ہونے والی چیز نہیں ہے۔ میں اس کو ناکامی نہیں سمجھتا۔’

    ’لگتا ہے کہ حکومت کے پاس کوئی حکمت عملی نہیں ہے‘
    ناکامیوں کے حوالے سے سوال پر عزیر یونس کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کی سب سے بڑی ناکامی اقتدار میں بغیر تیاری آ جانا تھا۔
    15c31cf0-aa1e-4a4b-9b63-c9fb62c8b304-image.png
    تصویر کے کاپی رائٹ
    AFP
    ’اسد عمر کو دیکھ لیں، سب کو علم تھا کہ وہ وزیر خزانہ بنیں گے لیکن ان کا منصوبہ کیا تھا‘
    ‘ایک ایسی پارٹی جو اقتدار میں آنے کے لیے پانچ سال سے تیاری کر رہی تھی، ان کو نہ صرف اقتدار کی خواہش تھی بلکہ انھیں انتخابات میں اپنی کامیابی پر یقین تھا، انھوں نے کوئی تیاری ہی نہیں کی تھی۔ اسد عمر کو دیکھ لیں، سب کو علم تھا کہ وہ وزیر خزانہ بنیں گے لیکن ان کا منصوبہ کیا تھا؟’

    عزیر یونس نے معاشی حالات پر حکومتی کارکردگی کو آڑے ہاتھ لیتے ہوئے کہا کہ مہنگائی میں کافی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور کھانے پینے کی اشیا کی قیمت میں اضافے کا براہ راست اثر سب سے غریب طبقے پر ہوگا۔

    ‘دوسری طرف دیکھیں تو نظر آتا ہے کہ حکومت نے ٹیکس کی مد میں آمدنی کی بات تو بہت کی ہے لیکن سٹیٹ بینک رپورٹ کے مطابق کوئی بہتری نظر نہیں آتی اور اس کی وجہ سے سامنے والے اثرات کا ایک ڈومینو ایفیکٹ آئے گا اور مجھے نہیں لگتا کہ اس سے نپٹنے کے لیے حکومت کے پاس کوئی حکمت عملی ہے۔’

    شاہ رخ وانی نے بھی پی ٹی آئی حکومت کی ناکامیوں پر تبصرہ دیتے ہوئے کہا کہ اس حکومت کو متعدد شعبوں میں چیلنجز کا سامنا ہے۔

    ‘سول سروس یعنی بیورو کریسی میں اصلاحات لانا، تعلیم و تحقیق کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنا، اور کاروبار کرنے والوں کے لیے سودمند ماحول فراہم کرنا اہم ترین ترجیحات ہونی چاہیے۔ لیکن موجودہ حالات دیکھتے ہوئے میرا نہیں خیال کہ حکومت کو اس بات کا اندازہ ہے۔’

    ریئل سٹیٹ کے شعبے میں کام کرنے والے تجزیہ کار ابراہیم خلیل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے اعلان کے مطابق ‘نیا پاکستان ہاؤسنگ’ منصوبہ اونچی عمارتوں پر مشتمل ہوگا جو کہ ایک قابل ستائش قدم تھا البتہ پنجاب میں کم آمدنی والوں کے لیے متعارف کرائے گئے منصوبے کم اونچائی والے مکانات (دو منزلہ) کے ہیں جو کہ ماحول کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔
    a99e65bd-fe82-4da6-8ffe-68ccc842a894-image.png
    تصویر کے کاپی رائٹ
    PID
    عمران خان کے اعلان کے مطابق ‘نیا پاکستان ہاؤسنگ’ منصوبہ اونچی عمارتوں پر مشتمل ہوگا جو کہ ایک قابل ستائش قدم تھا
    ہاؤسنگ کے شعبے میں اعلان کیے گئے منصوبوں پر تنقید کرتے ہوئے ابراہیم خلیل کا کہنا تھا کہ کم آمدنی والے طبقے کے نام پر بنائے گئے منصوبوں میں اس طبقے کے لیے فائدہ نظر نہیں آیا۔

    ‘چند شہروں میں سب سے کم قیمت والا مکان تقریباً 16 لاکھ کا ہے اور اس پر 20 سال کا قرضہ ہے۔ موجودہ شرح منافع پر ماہانہ قسط 20 ہزار کے لگ بھگ بنتی ہے جو کم آمدنی والے طبقے کی گنجائش سے زیادہ ہے ۔ کم آمدنی والے کون لوگ ہوں گے جو ماہانہ یہ قسط دے سکیں گے؟’

    ابراہیم خلیل نے کہا کہ حکومت کو چھوٹے پیمانے کی ایک یا دو اسکیموں سے آغاز کرنا چاہیے اور ان پائلٹ پراجیکٹ سے یہ جاننے کی کوشش کریں کہ کونسا ماڈل کام کرتا ہے۔ ‘ایک دفعہ حکومت ایک کامیاب ماڈل بنا لیتی ہے، تو پھر اس کو پورے ملک میں پھیلانا آسان ہوگا۔’

    ’حکومت میں ہو کر بھی اپوزیشن جیسی باتیں کرتے ہیں’

    5cf6a19e-ae23-4425-9541-71f5d62148a1-image.png
    تصویر کے کاپی رائٹ
    AFP
    اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اہم معاملات کے لیے اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے
    رضا رومی نے بھی معاشی حالات کی گراوٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا لیکن ان کے نزدیک حکومت کی سب سے بڑی ناکامی سیاسی استحکام کے لیے کوشش نہ کرنا ہے۔

    رضا رومی نے کہا کہ اس بات سے قطع نظر کہ یہ ایک مٹھی بھر اکثریت کے ساتھ بنائی گئی حکومت ہے اور ان کے ساتھ دیگر مختلف قوتوں کی حمایت ہے، اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ حکومتی امور، بالخصوص سلامتی، خارجہ، داخلہ اور ٹیکس پالیسی جیسے معاملات کے لیے اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔

    ‘حکومت کی یہ ایک بڑی خامی رہی ہے کہ وہ اقتدار میں آ کر بھی گذشتہ سال کے انتخاب سے پہلے کا بیانیہ چلا رہی ہے اور پی ٹی آئی والے حکومت میں ہوتے ہوئے بھی اپوزیشن جیسی باتیں کرتے ہیں۔ اس سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ حکومتی امور پر سنجیدہ نہیں ہیں۔’

    ریما عمر کے نزدیک اس حکومت کی سب سے بڑی ناکامی عوام کے حقوق، بالخصوص آزادی اظہار رائے کو سلب کرنا ہے۔ ان کے مطابق گھٹن کا یہ ماحول اتنا زیادہ ہے کہ پی ٹی آئی کے سخت ترین ناقدین نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد یہ حالات ہوں گے۔

    ‘پہلے صرف ریاست پر سوال اٹھائے جانے پر ممانعت تھی، اب ریاست اور حکومت کو یکجا کر دیا گیا ہے اور کسی معاملے پر حکومتی بیانیے پر سوال اٹھانے کی جگہ گھٹتی جا رہی ہے۔’


    source


Log in to reply
 

Join Us Get Reward Earning!

Cyberian is not a free learning community! We provide to Members earning way with learning. How lets me explain check HERE. if you have any question please post in reply. Thanks!

Online Users

| |