پاکستان

70 سالہ سول ملٹری جھگڑے کا بھی جے آئی ٹی کی کارروائی پر اثر ہوا ہے: نواز شریف

Want create site? Find Free WordPress Themes and plugins.

نوازتصویر کے کاپی رائٹ
AFP

سابق وزیر اعظم اور حکمراں جماعت کے قائد میاں نواز شریف نے ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت کی طرف سے پوچھے گئے سوالوں کے جواب میں کہا ہے کہ ان کے خلاف تحقیقات کے لیے بنائی گئی جے آئی ٹی میں فوج کے خفیہ اداروں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے نمائندوں کا شامل ہونا درست نہیں تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ 70 سالہ سول ملٹری جھگڑے کا بھی ان کے خلاف بنائی گئی جے آئی ٹی کی کارروائی پر اثر ہوا ہے۔

ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ میاں نواز شریف نے کہا کہ میری اطلاعات کے مطابق بریگیڈیئر نعمان سعید ڈان لیکس کی انکوائری کمیٹی کا حصہ تھے اور ڈان لیکس کی وجہ سے سول ملٹری تناؤ میں اضافہ ہوا۔

’ممبئی حملوں کے حوالے سے بیان غلط اور گمراہ کن ہے‘

’قومی سلامتی کمیٹی نے غلط رپورٹنگ کی مذمت کی ہے‘

نواز شریف آخر چاہتے کیا ہیں؟

غداری کیا ہے، غدار کون ہے؟

عدالت کی طرف سے پوچھے گئے127 سوالوں کا جواب دیتے ہوئے سابق وزیر اعظم نے کہا کہ جے آئی ٹی میں تعیناتی کے وقت نعمان سعید آئی ایس آئی میں نہیں تھے۔ اُنھوں نے کہا کہ نعمان سعید کو آؤٹ سورس کیا گیا کیونکہ ان کی تنخواہ سرکاری ریکارڈ سے ظاہر نہیں ہوتی۔

اُنھوں نے کہا کہ برگیڈیئر کامران کا تعلق ایم آئی سے تھا اور جے آئی ٹی میں ان دونوں فوجی افسران کی موجودگی مناسب نہیں تھی۔

سابق وزیر اعظم نے سوالوں کے جوابات تحریر شدہ تھے اور اُنھوں نے روسٹم پر آکر سوالوں کے جواب پڑھ کر دیے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں شامل جے آئی ٹی کے دیگر ممبران کی سیاسی جماعتوں سے وابستگی ظاہر ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ جے آئی ٹی ممبر ایس ای سی پی سے وابستہ بلال رسول سابق گورنر پنجاب میاں اظہر کے حقیقی بھانجے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ بلال رسول خود مسلم لیگ نواز حکومت کے خلاف تنقیدی بیانات بھی دے چکے ہیں۔ نواز شریف کے بقول جے آئی ٹی کے ایک اور رکن عامر عزیز بھی جانبدار ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ عامر عزیز مشرف دور میں میرے اور میری فیملی کے خلاف نیب ریفرنسز نمبر پانچ کی تحقیقات میں بھی شامل رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Google Street View

Image caption

ایون فیلڈ کا کبھی حقیقی یا بنیفشل مالک نہیں رہا اور نہ ہی ایون فیلڈ پراپرٹی کی خریداری کے لیے فنڈز فراہم کیے: نواز شریف

اُنھوں نے کہا کہ وہ ایون فیلڈ کے کبھی حقیقی یا بنیفشل مالک نہیں رہے اور نہ ہی ایون فیلڈ پراپرٹی کی خریداری کے لیے فنڈز فراہم کیے۔

اُنھوں نے کہا کہ منی ٹریل کے بارے میں سوال ان سے متعلقہ نہیں ہے بہتر ہے کہ یہ سوال حسن اور حسین نواز سے پوچھا جائے۔

اُنھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کی طرف سے اکٹھے کیے گئے شواہد کی روشنی میں ریفرنس دائر کرنے کا کہا۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں یہ نہیں کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کو بطور شواہد ریفرنس کا حصہ بنایا جائے۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا بھی جانبدار تھے اور اُنھوں نے اپنے کزن کو سولیسٹر مقرر کیا جنہوں نے جھوٹی دستاویزات تیار کیں۔ اُنھوں نے کہا کہ استغاثہ کی طرف سے کوئی ایسے شواہد پیش نہیں کیے گئے جن سے میرا لندن فلیٹس سے تعلق ظاہر ہو۔

اُنھوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے برطانیہ اور سعودی عرب کو جو ایم ایل اے بھجوائے وہ عدالت میں پیش نہیں کیے گئے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے جن گواہان کے بیان ریکارڈ کیے وہ عدالت میں یہاں بطور گواہ پیش نہیں کیے گئے۔ اُنھوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کی طرف سے اخذ کیا گیا نتیجہ رائے پر مبنی تھا جو قابل قبول شہادت نہیں ہے۔

حدیبیہ اور گلف سٹیل ملز کے بارے میں پوچھے گئے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ان کے قیام میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے۔

Did you find apk for android? You can find new Free Android Games and apps.
Advertisements
Show More

Related Articles

Close
Close