پاکستان

’ہم بجٹ میں جو اعلان کر رہے ہیں اُس سے آپ کو بہت تکلیف ہو گی‘

Want create site? Find Free WordPress Themes and plugins.

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

سپیکر نے اجلاس ملتوی کرنے سے پہلے مفتاح اسمائیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کسی ‘میمن’ نے پہلی بار بجٹ پیش کیا ہے۔

موجودہ حکومت کو بجٹ پیش کرنے کا اختیار ہے یا نہیں، پورے سال بجٹ حکومت کیسے پیش کر سکتی ہے؟ بجٹ پیش کون کرے گا؟ انھی سوالات اور اسی کشمکش میں بجٹ کا اجلاس شروع ہوا تو حکومت بجٹ پیش کرنے میں پرعزم تھی جبکہ حزبِ اختلاف بھی بھرپور اجتجاج کی تیاری سے پارلیمان آئی تھی۔بجٹ اجلاس شروع ہوتے ہی قائد حزبِ اختلاف خورشید شاہ نے حکومت سے کہا کہ وہ اخلاقی طور پر پورے سال کا بجٹ پیش نہیں کر سکتی اور ایسا کر کے وہ آئندہ آنے والی حکومت کا حق چھین رہی ہے۔ اپوزیشن نے نئے وزیر خزانہ مفتاح اسمائیل کو آڑے ہاتھوں لیا۔ایوان میں حکومتی اراکین خاصی تعداد میں موجود تھے۔ ایسے میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی نے وزیراعظم سے کہا کہ وہ منتخب رکنِ قومی اسمبلی اور وزیر مملکت برائے خزانہ رانا افضل سے کہیں کہ بجٹ تقریر پڑھیں کیونکہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل پارلیمان کے رکن نہیں ہیں۔مزید پڑھیےموجودہ بجٹ میں مختلف کیا ہے؟بجٹ 18-2017: ’دفاعی بجٹ میں 79 ارب کا اضافہ‘اپوزیشن کا کہنا تھا ’ووٹ کو عزت دو‘ کی مہم چلانے والی حکومت ایک ایسے شخص سے بجٹ تقریر کروا رہی ہے، جو کہ ایوان کے منتخب رکن ہی نہیں ہیں۔ ایسے میں اپوزیشن کی جانب سے ‘گو مفتاح گو، گو مفتاح گو’ کے نعرے بھی گونجنے لگے۔پیپلز پارٹی کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف بھی احتجاج میں آگے آگے تھی۔ مفتاح اسماعیل کی تقریر شروع ہونے سے قبل وزیراعظم نے ایوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ پیش کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ وزیراعظم پرجوش تھے کہ آئندہ چار ماہ کے بعد بھی اُن ہی حکومت آئے گی۔ ایسے میں انھوں نے اپوزیشن کو مخاطب کر کے کہا کہ ہم بجٹ میں جو اعلان کر رہے ہیں اُس سے آپ کو بہت تکلیف ہو گی۔ اس کے ساتھ ہی سپیکر ایاز صادق نے مفتاح اسماعیل کو بجٹ تقریر شروع کرنے کو کہا۔مفتاح اسماعیل نے اپنی پہلی بجٹ تقریر شروع کی تو اپوزیشن نعرے بازی کرنے لگی اور کافی عرصے کے بعد ایوان میں نوے کی دہائی والی ہنگامہ آرائی نظر آئی۔پیپلز پارٹی نے خورشید شاہ کی قیادت میں ایوان سے واک آؤٹ کیا اور انھیں منانے کی کوشش بھی سود مند ثابت نہ ہوئی۔وزیر خزانہ نے تقریر شروع کی تو اپوزیشن اراکین وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے سامنے کھڑے ہو گئے اور انھوں نے ‘نامنظور نامنظور’ کے نعرے لگائے اور بعض اراکین نے بجٹ دستاویزات پھاڑ کر پھینک دیں۔ مفتاح اسماعیل کے گرد اپوزیشن کا گھیرا تنگ ہوا تو چند حکومتی اراکین اُن کے دفاع میں آگے بڑھے اور انھیں اپنے حصار میں لے لیا تاہم نئے وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل بھی رکے نہیں بجٹ تقریر میں ریلیف اور کامیابیوں کے گن گاتے رہے۔ ادھر اپوزیشن اراکین بھی احتجاج کر کر تھک جانے کے بعد ایوان سے باہر چلے گئے۔ایسے میں ایوان میں اپوزیشن میں سے صرف ایم کیو ایم کے اراکین ہی موجود تھے جبکہ حکومتی اراکین بھی بغیر کسی دلچسپی کے بجٹ تقریر ختم ہونے کے منتظر تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

پاکستان میں بجٹ کا اعلان عموماً مئی کے آخر یا جون کے شروع میں ہوتا ہے

کوئی اور تو کیا خود وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بجٹ تقریر کے دوران مختلف اراکین سے بات چیت میں مصروف رہے۔نہ ہی کسی نے اچھے اقدامات پر ڈیسک بجا کا تعریف کی اور ایسے میں سیدھی سیدھی بجٹ تقریر ختم ہو گئی۔ وزیرِ خزانہ تقریر پڑھتے پڑھتے تھک گئے اور آخر میں شاعرِ مشرق علامہ اقبال کو شاعر مشرق قائد اعظم کہہ گئے۔ یوں بجٹ تقریر ختم ہو گئی۔سپیکر نے اجلاس ملتوی کرنے سے پہلے مفتاح اسماعیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کسی ‘میمن’ نے پہلی بار بجٹ پیش کیا ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ اجلاس ختم ہو گیا، بجٹ پیش ہو گیا، اپوزیشن اپنا کام کر کے چلی گئی اور حکومت نے اپنا کام تمام کیا۔

Did you find apk for android? You can find new Free Android Games and apps.
Advertisements
Show More

Related Articles

Close
Close