Advertisements
Want create site? Find Free WordPress Themes and plugins.

Image caption

پی ٹی ایم کا دعویٰ ہے کہ ان کا جلسہ ناکام بنانے کے لیے ان کے متعدد کارکنان کو پکڑا گیا ہے

پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں پشتون تحفظ موومنٹ کی جانب سے سہراب گوٹھ میں جلسے کا آغاز ہوچکا ہے۔ تاہم اس تحریک کے سربراہ منظور پشتین تاحال کراچی نہیں پہنچ سکے ہیں۔ لاہور سے ہوائی ٹکٹ منسوخ کیے جانے کے بعد وہ بذریعہ سڑک کراچی پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سہراب گوٹھ جلسہ گاہ میں مزدور رہنما، خواتین تنظیمیں اور مبینہ طور پر لاپتہ ہونے والے پشتون اور بلوچ افراد کے لواحقین شامل ہیں۔ نامہ نگار کے مطابق جلسہ گاہ کے اردگرد رینجرز اور پولیس کی نفری تعینات ہے اور پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں نے ایک بار پھر حکام پر الزام عائد کیا ہے کہ جلسے کے لیے آنے والے ان کے حامیوں کو روکا جا رہا ہے۔ مزید پڑھیے’مشران محبت سے بات کرتے تھے تو کوئی نہیں سنتا تھا‘پی ٹی ایم کی سوشل میڈیا پر مقبولیت کا رازلونڈیہار پن سے باز آئیے’پشتین ٹوپی‘ ایک علامتخیال رہے کہ سنیچر کو سندھ کی صوبائی حکومت نے پشتون تحفظ موومنٹ کو سہراب گوٹھ میں واقع ایک میدان میں جلسے کی اجازت دے دی تھی جبکہ پولیس حکام کا کہنا تھا کہ پی ٹی ایم کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ جلسہ پرامن ہوگا اور اس میں اشتعال انگیزی نہیں کی جائے گی۔

Image caption

سہراب گوٹھ جلسہ گاہ میں مزدور رہنما، خواتین تنظیمیں اور مبینہ طور پر لاپتہ ہونے والے پشتون اور بلوچ افراد کے لاحقین شامل ہیں۔

اس سے قبل پشتون تحفظ موومنٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ کراچی میں تنظیم کا جلسہ روکنے کے لیے ان کے 12 سے زائد کارکنوں اور حامیوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ تنظیم کے سربراہ منظور پشتین کا ہوائی ٹکٹ منسوخ کر دیا گیا ہے۔کراچی جاتے ہوئے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں انھوں نے کہا کہ راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ ٹوئٹر پر جاری بیان میں انھوں نے کہا کہ کوئی بھی رکاوٹ پشتونوں کے عزم کو کم نہیں کر سکتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ
EPA

Image caption

‘ہم پندرہ سال سے جنگ دیکھ رہے ہیں اور یہ مشکلات اُن مشکلات سے بہت کم ہیں۔ ہم سب کو پرامن رہنا ہے۔’

منظور پشتین نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ہم پندرہ سال سے جنگ دیکھ رہے ہیں اور یہ مشکلات اُن مشکلات سے بہت کم ہیں۔ ہم سب کو پرامن رہنا ہے۔‘دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ کہ پرامن اجتماع کرنا پاکستان کے تمام لوگوں کا آئینی حق ہے۔ ’پی ٹی ایم کے خلاف ریاستی جبرمیں ایک بارپھرتیزی دیکھنے میں آئی ہے جو کہ تشویشناک بات ہے۔‘ ایچ ار سی پی کا کہنا ہے کہ ’اگر اس حقیقیت کو مدنظر رکھا جائے کہ آج تک پی ٹی ایم کی جتنی بھی ریلیاں ہوئی ہیں وہ پرامن رہیں، تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ حکام نے طاقت کا جو بے جا استعمال کیا ہے، اس کی ہرگزضرورت نہیں تھی۔‘پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے ایک پیغام میں پی ٹی ایم کو جلسے کی اجازت ملنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ہر چیز پرامن ہو گی۔پی ٹی ایم نے 13 مئی کو باغ جناح میں جلسہ عام کا اعلان کیا تھا، جس میں عوام کی شرکت کے لیے جمعے کی شام ایک ریلی نکالی گئی جو شہر کے پشتون علاقوں قصبہ سہراب گوٹھ، اورنگی اور بنارس سمیت دیگر علاقوں سے گزری۔سندھ حکومت نے پھر پی ٹی ایم کو باغ جناح پر جلسے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال کا کہنا ہے کہ اسی روز مذہبی جماعت نے بھی احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے، اس لیے اسی مقام پر جلسے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔تاہم سنیچر کی شام حکومت سندھ نے پشتون تحفظ موومنٹ کو کراچی میں سہراب گوٹھ پر الاآصف سکوائر کے عقب میں واقع میدان میں جلسے کی اجازت دے دی تھی۔پی ٹی ایم کے رہنما محسن داوڑ کے مطابق انھیں کمشنر آفس سے ٹیلیفون آیا کہ وہ انتظامی امور پر ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم تین گاڑیوں میں سوار ہو کر ملاقات کے لیے کمشنر آفس پہنچے مگر پیچھے آنے والی دو گاڑیوں کو قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں نے روک کر موبائل چھین لیے اور ہمارے تین ساتھیوں مرجان، ہاشم مندوخیل اور سیف افغان کو ساتھ لے گئے۔

Image caption

قومی میڈیا پر پشتون موومنٹ کو اتنی کوریج تو نہیں ملتی تاہم تنظیم نے سوشل میڈیا پر اپنا پیغام دیا

تنطیم کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں ان کے لاپتہ کارکنوں اور ہمدردوں میں منور، خان جان، اکبر جان، سیف افغان، گل مرجان، ہاشم خان، زین الدین، طارق خان، اجمل خان، عالم زیب، رضا وزیر، سعد عالم، ارمان لونی، امن خٹک شامل ہیں، جبکہ کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر ریاض احمد بھی لاپتہ ہیں جو ان کے حامی ہیں۔رہنما محسن داوڑ کا کہنا ہے کہ منظور پشتین کراچی آنے کے لیے جب اسلام آباد ہوائی اڈے پر پہنچے تو ایئر لائن نے انھیں بتایا کہ ان کا ٹکٹ منسوخ کیا جاچکا ہے جبکہ کسی بھی دوسری ہوائی کمپنی نے انھیں آج اور کل کے لیے ٹکٹ دینے سے انکار کردیا۔انھبں نے کہا کہ ’یہ جتنی بھی پکڑ دھکڑ کی گئی ہے یہ ہمارا جلسہ ناکام بنانے کی کوشش ہے۔ پہلے جب ہم نے اعلان کیا تو تمام جماعتوں نے اعلان کر دیا جس کے بعد ہم نے تاریخ تبدیل کر دی۔‘

Did you find apk for android? You can find new Free Android Games and apps.
Advertisements
0 Comments

Leave a reply

©2018 Cyberian.pk

 
or

Log in with your credentials

or    

Forgot your details?

or

Create Account