Advertisements
Want create site? Find Free WordPress Themes and plugins.

تصویر کے کاپی رائٹ
facebook

Image caption

ڈاکٹر عبدالسلام کا شمار 20ویں صدی میں تھیوریٹیکل فزکس یعنی نظری طبیعیات کے میدان میں دنیا بھر کی نمایاں شخصیات میں ہوتا ہے

پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائداعظم یونیورسٹی کے شعبۂ طبیعیات کا نام تبدیل کرنے سے متعلق ایک قرارداد کی منظوری سے تنازع پیدا ہو گیا ہے۔ قومی اسمبلی میں جمعرات کو منظور کی جانے والی اس قرارداد میں اس شعبے کا نام مسلمان سائنسدان ابوالفتح عبدالرحمان منصور الخزینی سے منسوب کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ اسی کے ساتھ ہی ذرائع ابلاغ اور بالخصوص سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر خبریں گردش کرنے لگیں کہ قائداعظم یونیورسٹی میں واقع طبیعیات کے جس مرکز کا نام سنہ 2016 میں پاکستان کے پہلے نوبیل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام سے منسوب کرنے کی منظوری دی گئی تھی اب اس کا نام تبدیل کیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
PMO OFFICE

Image caption

کیپٹن (ر) صفدر نے قرارداد پیش کی جس پر دیگر 19 ارکان پارلیمان کے دستخط تھے

حقیقت کیا ہے؟قومی اسمبلی میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد کپنٹن ریٹائرڈ صفدر کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کا عنوان تھا ’نام تبدیلی شعبۂ فزکس قائداعظم یونیورسٹی‘ اور اس میں کہا گیا ہے کہ طبیعیات کے شعبے کو ابوالفتح عبدالرحمان سے منسوب کیا جائے کیونکہ یہ دنیا میں مسلمانوں کے سب سے بڑے طبیعیات دان تھے۔ سنہ2016 میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے جس ادارے کا نام ڈاکٹر عبدالسلام سے منسوب کرنے کی اصولی منظوری دی تھی وہ شعبۂ طبیعیات نہیں بلکہ نیشنل سنٹر فار فزکس تھا اور حقیقت یہی ہے کہ قائداعظم یونیورسٹی کا شعبۂ طبیعیات اور اس کی حدود میں واقع نیشنل سنٹر فار فزکس دو الگ الگ ادارے ہیں۔نیشنل سینٹر فار فزکس ایک خودمختار ادارہ ہے اور اس کی دیکھ بھال پاکستانی فوج کا ادارہ سٹریٹیجک پلاننگ ڈویژن (ایس پی ڈی) کرتا ہے۔ اس کا قیام مئی 2000 میں عمل میں آیا تھا اور اس کا افتتاح پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے اس وقت کے چیئرمین نے کیا تھا۔اس ادارے کے قیام کا مقصد فزکس کے مختلف شعبوں میں بین الاقوامی معیار کے مطابق تحقیقات کرنا ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ 2016 میں اس سینٹر کا نام تبدیل کرنے کی منظوری دیے جانے کے باوجود ابھی تک باقاعدہ طور پر اس کا نام تبدیل نہیں کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
National Centre for Physics (NCP)

Image caption

نیشنل سینٹر فار فزکس ایک خودمختار ادارہ ہے اور اس کی دیکھ بھال پاکستانی فوج کا ادارہ سٹریٹیجک پلاننگ ڈویژن (ایس پی ڈی) کرتا ہے

اس ادارے کے ایک اہلکار کے مطابق نام کی تبدیلی کی منظوری دی گئی تھی لیکن انتظامی مسائل کی وجہ سے ابھی تک نام تبدیل نہیں ہو سکا ہے کیونکہ نام کی تبدیلی میں وقت درکار ہوتا ہے اور کئی چیزوں کو دیکھنا پڑتا ہے۔‘سرکاری موقف کے برعکس قائداعظم یونیورسٹی میں شعبہ فزکس سے منسلک ڈاکٹر ہود بھائی نے نام کی تاحال تبدیلی کی وجہ سے احمدیوں کے خلاف پائے جانے والے تعصب کو قرار دیا۔’یہ واضح ہے کہ عبدالسلام احمدی تھے اور پاکستان میں احمدیوں کے خلاف تعصب پایا جاتا ہے، خصوصاً این سی پی پاک فوج کا حصہ ہے اس کی فنڈنگ سے چلتا ہے اور جب یہ احکامات پہنچائے گئے تو انھیں نظر انداز کر دیا گیا۔’

Image caption

قائد اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اشرف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں واقعی میں بہت ابہام پایا جاتا ہے

قائداعظم یونیورسٹی میں شعبہ فزکس کے نام پر ابہامارکان پارلیمان شاید یہ بھی نہیں جانتے کہ یونیورسٹی کے کسی شعبے کا نام تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔قائد اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اشرف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں واقعی میں بہت ابہام پایا جاتا ہے کیونکہ 2016 میں نیشنل سینٹر فار فزکس کا نام ڈاکٹر عبدالسلام سے منسوب کیا گیا تھا۔ڈاکٹر جاوید اشرف کے بقول انھیں پہلے ایسے کسی منصوبے کے بارے میں نہیں بتایا گیا تھا اور اخبارات کے ذریعے ہی معلوم ہوا ہے کہ شعبہ فزکس کا نام تبدیل جا رہا ہے لیکن ایسا ہو نہیں سکتا ہے۔’ہمارے کسی شعبے کا نام کسی سے منسوب نہیں ہے اور میرے خیال میں ان کا مقصد نیشنل سینٹر فار فزکس کا نام تبدیل کرنے کا تھا اور اس میں واقعی میں کنفیوژن ہے۔‘سوشل میڈیا پر ردعملاس قرارداد کے بعد سوشل میڈیا میں گردش کرنے لگی کہ شعبہ فزکس کا نام اب ڈاکٹر عبدالسلام کی بجائے ابوالفتح عبدالرحمان رکھنے کی قرارداد منظور کی گئی اور ٹوئٹر پر صارفین نے اس پر تنقید کی۔نصر بھٹی نے بنگلہ دیش میں ڈاکٹر سلام کے مجسمے کی تصویر کے ساتھ ٹویٹ کی کہ بنگلہ دیش میں ڈاکٹر عبدالسلام کا مجسمہ طالب علموں کو متاثر کرنے کے لیے نصب کیا گیا ہے۔ کوئی بے وقوفوں کی جنت میں رہ رہا ہو گا اگر یہ سجمھے کہ ان کا نام یونیورسٹی سے ہٹانے سے روشن ستارے کی شہرت پر کوئی اثر پڑے گ۔ وہ ہمیشہ پاکستان کے چمکتے ستارے رہیں گے۔ ایک اور صارف ایزبی نے ٹویٹ کی کہ’ افسوس ہے کہ قوم جو اپنے ہیروز کی قدر نہیں کرتی۔‘ڈاکٹر محمد عبدالسلام کون ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ
KEYSTONE

ڈاکٹر عبدالسلام کا شمار 20ویں صدی میں تھیوریٹیکل فزکس یعنی نظری طبیعیات کے میدان میں دنیا بھر کی نمایاں شخصیات میں ہوتا ہے اور انھیں 1979 میں نوبیل انعام سے نوازا گیا تھا۔وہ یہ انعام حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی تھے، اس کے علاوہ انھیں جنرل ضیاالحق کے دور میں ہلالِ امتیاز بھی دیا گیا تھا۔ڈاکٹر عبدالسلام نے حکومتِ پاکستان سائنس کے امور کے مشیر کے طور پر 1960 سے 1974 تک خدمات انجام دیں اور اِس عہدے پر رہتے ہوئے اُنھوں نے ملک میں سائنسی ڈھانچے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر عبدالسلام انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے بھی کام کرنا چاہتے تھے وہ پاکستان میں فزکس میں تحقیق کا ادارہ بنانا چاہتے تھے لیکن چونکہ ان کا تعلق جماعتِ احمدیہ سے تھا، جسے سنہ 1974 میں بھٹو کے دور میں غیر مسلم قرار دے دیا گیا جس کے بعد ان کے لیے حالات مشکل ہو گئے۔سائنسدان ابوالفتح عبدالرحمنٰ منصور الخرینیقرارداد کے مطابق ابوالفتح عبدالرحمنٰ منصور الخرینی دنیا میں مسلمانوں کے سب سے بڑے فزکس کے سائنسدان تھے۔ انھوں نے سب سے پہلے سائنس کی دنیا میں اپنے استاد البیرونی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فزکس کی دنیا میں حیرت انگیز کارنامے سرانجام دیے اور پورے یورپ اور دنیا نے اس مسلمان سائنسدان سے فائدہ حاصل کیا۔

Did you find apk for android? You can find new Free Android Games and apps.
Advertisements

©2018 Cyberian.pk

 
or

Log in with your credentials

or    

Forgot your details?

or

Create Account