Advertisements
Want create site? Find Free WordPress Themes and plugins.

تصویر کے کاپی رائٹ
DANIAL BASHIR

مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس سے ملاقات کے بعد نوجوان ڈاکٹر ڈینیئل بشیر نے پادری بننے کا فیصلہ کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پوپ کا دنیا میں امن کے لیے دعاگو ہونا اور ان کی حلیم طبیعت نے انہیں اتنا متاثر کیا کہ انھوں نے اپنی زندگی چرچ کی خدمت میں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔کراچی کے نوجوان ڈینیئل بشیر رواں سال مارچ میں روم گئے تھے، جہاں پوپ فرانسس کے ساتھ اجرک میں ان کی سیلفی کافی وائرل ہوئی تھی۔ ڈینیئل بشیر نے بتایا کہ 19 سے 24 مارچ تک روم میں نوجوانوں کی ایک کانفرنس ہوئی جس میں پوپ فرانسس نے دنیا بھر سے تین سو کے قریب مسیحی، مسلم، ہندو، بودھ، سکھ اور لادین نوجوانوں کو مدعو کیا تھا۔ پاکستان میں کیتھولک چرچ کے بشپ نے اس کانفرنس کے لیے ان کا انتخاب کیا تھا۔ویٹیکن: پوپ نے یہ نہیں کہا کہ جہنم نہیں ہے’بموں کی ماں‘ پر پوپ فرانسس کا اعتراضپوپ فرانسس کا اعتراف، عبادت کے دوران سو جاتا ہوںاس کانفرنس کا موضوع تھا: ’ایمان، نوجوان اور پیشہ ورانہ فہم و فراست‘ جس میں نوجوانوں نے چرچ کو اپنے مسائل بیان کیے۔ بعد میں 12 نوجوانوں پر مشتمل گروپ بنایا گیا جس نے سفارشات مرتب کیں۔ اس گروپ میں بھی ڈینیئل بشیر شامل تھے۔ ’ہماری سفارشات یہ تھیں کہ ہماری قیادت کو نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اور نوجوانوں کی تعلیم پر توجہ زیادہ ہو اور خاص طور پر وہ خاندان جو معاشی طور پر پسماندہ ہیں۔ ان کے لیے ایسے وسائل پیدا کیے جائیں کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دے سکیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
DANIAL BASHIR

روم میں اس کانفرنس کے دوران ڈینیئل بشیر کی دو بار پوپ فرانسس سے ملاقات ہوئی۔ جس میں انھوں نے پوپ کو اجرک کا تحفہ پیش کیا اور سیلفی میں یہ لکھا کہ ’میرا دل خوشی سے لبریز ہے۔‘’میرے دل میں تھا کہ پوپ کے لیے کیا تحفہ لے کر جاؤں اگر کوئی مہنگی سے مہنگی چیز بھی لی تو وہ ان کے پاس موجود ہوگی پھر مجھے یاد آیا کہ میں کراچی میں رہتا ہوں اور یہ سندھ کا حصہ ہے، میرے لیے سب سے بہترین یہ تھا کہ میں ان کے لیے اجرک لے کر جاؤں، میرا مقصد ہرگز یہ نہیں تھا کہ اجرک دوں گا تو بہت زیادہ مشہور ہو جاؤں گا، میرا مقصد یہ تھا کہ میں انہیں سندھ کی ثقافت کا تحفہ دوں۔ میں نے انہیں بتایا کہ یہ وادی مہران کی تہذیب کا تسلسل ہے یہ ہم اپنے بڑوں کو دیتے ہیں۔‘ ڈینیئل بشیر پر بعض حلقوں کی جانب سے تنقید بھی کی گئی کہ انھوں نے پوپ کو پاکستان کا جھنڈہ کیوں نہیں دیا۔ ڈینیئل کا کہنا ہے کہ انہیں اس پر بہت دکھ ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
DANIAL BASHIR

’میرا لباس دیکھیں تو میں نے پوپ فرانسس سے ملاقات کے وقت پاکستان کے جھنڈے کے رنگ کے کپڑے یعنی سبز اور سفید کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور آخری دن جب ملاقات ہوئی تو قومی جھنڈا میرے ہاتھ میں تھا۔‘ڈینیئل بشیر نے کراچی سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی ہے اور سرجری میں سپیشلائزیشن کرنی تھی لیکن پوپ سے ملاقات کے بعد اب وہ پادری بننا چاہتے ہیں۔ ’آئندہ جون سے میں سیمینری میں داخلہ لے لوں گا اور اس کو مکمل کرنے کے بعد طبی پریکٹس جاری رکھنے کی کوشش کروں گا۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’پاکستان میں بطور مسیحی خود کو آزاد سمجھتا ہوں کیونکہ ہمیں مذہبی رسومات کی اجازت ہے اور مذہبی تہوراوں پر سکیورٹی بھی فراہم کی جاتی ہے۔‘’کراچی ملک کے دیگر علاقوں سے مختلف اور عالمی شہر ہے۔ یہاں مذہب کوئی بڑا ایشو نہیں بنتا اگر دوسرے علاقوں میں دیکھیں تو وہاں ملازمت کی تلاش میں مسائل درپیش آتے ہیں۔‘ حکومت کی جانب سے مسیحی نوجوان کی حوصلہ افزائی کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں ڈینیئل بشیر اس سے باخبر نہیں لیکن چرچ کی طرف سے کوشش کی جا رہی ہے کہ نوجوانوں کو آگے لائیں۔

Did you find apk for android? You can find new Free Android Games and apps.
Advertisements
0 Comments

Leave a reply

©2018 Cyberian.pk

 
or

Log in with your credentials

or    

Forgot your details?

or

Create Account