پاکستان

پاکستان میں افغان سفارت کاروں پر ’سرکاری ہیکروں کا سائبر حملہ‘

Want create site? Find Free WordPress Themes and plugins.

سائبر ہیکنگتصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

اسلام آباد میں افغان سفارت خانے کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کے عملے کے ارکان کو گوگل کی طرف سے وارننگ ملی تھی کہ ان کے اکاؤنٹ ‘سرکاری پشت پناہی’ سے ہیک کیے جا رہے ہیں۔

افغان سفارت خانے کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے عملے کے دو اراکین کو اور سفارت خانے سے منسلک ایک اور ای میل اکاؤنٹ پر اس ماہ کے آغاز میں گوگل کی طرف سے الرٹ موصول ہوئے تھے۔

گذشتہ ہفتے ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے ایک اور تفتیش کے نتائج کا اعلان کیا تھا جس سے معلوم ہوا تھا کہ پاکستان کی عسکری اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرنے والے انسانی حقوق کے کارکنان کے کمپیوٹرز اور موبائل فونز پر میل ویئر انسٹال کرنے کی کوشش کی گئی۔

اس الزام کا پاکستانی فوج نے کوئی جواب نہیں دیا۔

گوگل کی جانب سے تنبیہ کے بعد ایک اور افغان سفارت کار کا ای میل اکاؤنٹ ہیک کیا گیا اور بغیر ان کے علم کے اس اکاؤنٹ سے ای میل بھیجی گئیں جن میں مشکوک اٹیچمنٹ تھیں۔

ان ای میلز میں بظاہر پشتون تحفظ تحریک کی ریلیوں کی تصاویر تھیں۔ ان اٹیچمنٹس میں بظاہر نقصان دہ فائلز بھی تھیں تاہم انھیں ڈاؤن لوڈ کر کے ان کا جائزہ لینا ممکن نہیں۔

پشتون تحفظ تحریک نے پاکستانی فوج پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگائے ہیں۔ ان کے مظاہروں میں تشدد نہیں ہوا تاہم وہ انتہائی متنازع ہیں کیونکہ وہ پاکستانی انٹیلیجنس سروسز پر براہِ راست تنقید کر رہے ہیں۔

Image caption

گوگل کی جانب سے افغان سفارت کاروں کو یہ وارننگ ملی

ای میلز بھیجنے کا مقصد کیا تھا؟

پاکستانی فوج کے حامیوں نے پشتون تحفظ تحریک پر الزام لگایا ہے کہ وہ افغان انٹیلیجنس سروسز کے لیے کام کرتی ہے۔ دونوں ممالک اکثر ایک دوسرے پر الزام لگاتے ہیں کہ دوسرا ملک ان کی سکیورٹی کو نقصان پہنچانے کے لیے کام کر رہا ہے۔

افغان سفارت خانے کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں تشویش ہے کہ ایسی ای میلز موصول کرنے والے لوگوں کو لگے گا کہ افغان سفارت خانے کا اس تحریک سے کوئی تعلق ہے۔

یہ ای میلز پاکستان میں متعدد سیاسی شخصیات کو بھیجی گئیں جن میں سابق وزیرِ اطلاعات اور سابق وزیرِ قانون شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ای میل پشتون قوم پرست جماعت کی سینیٹر بشریٰ گوہر کو بھی بھیجی گئی۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘مجھے معلوم ہے کہ میرے سارے اکاؤنٹس کی نگرانی کی جاتی ہے۔۔۔۔ جو قابلِ مذمت ہے۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘پارلیمنٹ کو اب کمیٹی بنانی ہو گی اور تحقیقات کریں کہ کیا ہو رہا ہے۔’

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

پشتون تحفظ تحریک کے جلسوں میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی ہے

اور کتنے سائبر حملے ہوئے ہیں؟

افغان سفارت خانے کے دو اہلکاروں کو سائبر حملوں سے منسلک ایک جعلی فیس بک پروفائل نے بھی نشانہ بنایا ہے۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے گذشتہ ہفتے جاری کردہ ایک رپورٹ میں پتہ چلا کہ ‘ثنا حلیمی’ نامی ایک پروفائل نے متعدد بار لاہور میں انسانی حقوق کے کارکنوں کو میل ویئر بھیجا۔

افغان سفارت خانے کے ایک ملازم نے اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ ثنا حلیمی نے ان سے دوستی کی اور انھیں یہ بتایا کہ وہ افغان صوبے ہرات سے تعلق رکھنے والی افغان خاتون ہیں۔

اسی فیس بک اکاؤنٹ نے انسانی حقوق کے متعدد کارکنوں سے بھی دوستی کی ہے۔ ان میں سے ایک نے بی بی سی کو بتایا کہ اسے اس اکاؤنٹ سے لبھانے والے پیغامات بھیجے گئے۔

موبائل سکیورٹی کمپنی لُک آؤٹ نے گذشتہ ہفتے ایک رپورٹ میں نشاندہی کی تھی کہ یہ اکاؤنٹ فیس بک میسنجر کے ذریعے کم از کم دو مرتبہ میل ویئر بھیج چکے ہیں۔ یہ دو واقعات اس تفتیش کا حصہ ہیں جو کامیاب ہیکنگ کے متعدد واقعات کے بعد شروع کی گئی ہے اور کمپنی کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ ٹیم پاکستانی فوج چلاتی ہے۔

اس رپورٹ میں چرائے گئے 30 جی بی ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا جس کا خاصا حصہ افغان حکام سے چرایا ہوا معلوم ہوتا ہے۔

یہ ‘ثنا حلیمی’ کون ہے؟

بی بی سی کو پتہ چلا ہے کہ ثنا حلیمی کی تصاویر اصل میں لاہور کی 21 سالہ باورچی سلوا گردیزی کی سوشل میڈیا پروفائل سے چوری کی گئی تھیں اور ان کا افغانستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
DIEP SAEEDA

Image caption

’ثنا حلیمی‘ کی تصاویر لاہور سے تعلق رکھنے والی سلوا کی پروفائل سے چوری کی گئیں

سلوا گردیزی معرف سیاسی تجزیہ کار عائشہ صدیقی کی قریبی رشتے دار ہیں۔ اب تک یہ واضح نہیں کہ یہ تصاویر اس رشتے کی وجہ سے استعمال کی گئیں یا یہ محض اتفاق ہے۔

سلوا گردیزی نے بتایا کہ انھیں اپنی تصاویر کے چوری ہونے کا صرف تب پتہ چلا جب گذشتہ ہفتے بی بی سی پر اس حوالے سے ایک خبر شائع ہوئی۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں شدید حیرانی ہے کہ ان کی تصاویر کیوں اس طرح استعمال کی گئیں حالانکہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ وہ پاکستان کی ایف آئی اے کو اس بارے میں اپنی شکایت درج کروائیں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ‘میں خود پر سے الزام ہٹانا چاہتی ہوں۔’

Did you find apk for android? You can find new Free Android Games and apps.
Advertisements
Show More

Related Articles

Close
Close