تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

پاکستانی فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق پاکستانی فوج نے وزیر اعظم کو قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کی تجویز دی ہے تا کہ ممبئی واقعے کے حوالے سے ’گمراہ کن‘ میڈیا بیان پر بات چیت کی جا سکے۔اتوار کو میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے کیے گئے ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اجلاس کل صبح یعنی پیر کو منعقد ہوگا۔مزید پڑھیئےممبئی حملے کا مقدمہ: تاخیر کا ذمہ دار انڈیا؟ممبئی حملے: ’انڈیا اس معاملے کو حل کرنا ہی نہیں چاہتا‘ نواز شریف کی ڈنڈا ڈولی
اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

نواز شریف کی سیاسی زندگی کے نشیب و فرازدوسری جانب مسلم لیگ نون کے صدر اور وزیراعلیٰ پنجاب شبہاز شریف نے ایک ٹویٹ میں ڈان اخبار میں شائع ہونے والے خبر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور اس کے تمام ادارے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں ایک ساتھ متحد کھڑے ہیں۔ ٹویٹر پر جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا کہ ہمارا پختہ یقین ہے کہ پاکستان کا مفاد تمام ذاتی اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہیں۔ اس کے ساتھ انھوں نے کہا کہ ملکی مفاد پر کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ بیان میں ڈان اخبار کی خبر کے بارے میں کہا گیا کہ رپورٹ میں بیان کو مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف سے غلط طور پر منسوب کیا گیا اور یہ مسلم لیگ نون کی پالیسی کی نمائندگی نہیں کرتا۔اس سے پہلے پاکستان مسلم لیگ نون کے ایک ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہےکہ انڈین میڈیا نواز شریف کے بیان کو غلط انداز سے پیش کر رہا ہے اور پاکستانی میڈیا حقائق جانے بغیر انڈیا کے پراپیگنڈے کا شکار ہے۔ خیال رہے کہ مقامی انگریزی اخبار ڈان میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق جب نواز شریف سے پوچھا گیا کہ انھیں عوامی عہدے سے ہٹانے کی کیا وجوہات ہوسکتی ہیں تو نواز شریف نے براہ راست جواب دینے کے بجائے اس کا رخ خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کی جانب موڑ دیا۔ ڈان اخبار کے مطابق نواز شریف نے کہا تھا کہ ‘ہم نے خود کو تنہائی کا شکار کر لیا ہے۔ ہماری قربانیوں کے باوجود ہمارے موقف کو قبول نہیں کیا جاتا۔ افغانستان کے موقف کو قبول کیا جاتا ہے، لیکن ہمارے نہیں۔ ہمیں اس جانب توجہ دینا ہوگی۔’ ڈان اخبار کے مطابق نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ ‘عسکری تنظیمیں فعال ہیں۔ انھیں غیرریاستی عناصر کہا جاتا ہے، کیا ہم انھیں اجازت دے سکتے ہیں کہ وہ سرحد پار جا کر ممبئی میں 150 لوگوں کا قتل کریں؟’ خیال رہے کہ انڈیا کے اقتصادی دارالحکومت کہلائے جانے والے شہر ممبئی میں 26 نومبر 2008 کو ایک حملہ ہوا تھا جو 60 گھنٹے تک جاری رہا اور اس حملے میں 150 سے زائد افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔ نواز شریف کے اس بیان پر پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جانب سے یہ بیان دیا گیا ہے کہ پاکستان نے غیرریاستی عناصر کو ممبئی جا کر قتل کرنے کی ‘اجازت’ دی تھی۔

@ImranKhanPTI کی ٹوئٹر پر پوسٹ کا خاتمہ

نواز شریف کا اصل چہرہ آج پوری طرح قوم کے سامنے ہے۔ اپنی سیاہ کاریاں بچانے کیلئے نواز شریف فوج، نیب اور سپریم کورٹ جیسے ریاستی ادارے تباہ کرنے پر ہی بضد نہیں بلکہ یہ پاکستان کے مستقبل سے کھلواڑ پر اترآیا ہے۔ https://t.co/l5NLMZxhaz— Imran Khan (@ImranKhanPTI) مئی 13, 2018

@ImranKhanPTI کی ٹوئٹر پر پوسٹ سے آگے جائیں

ان کا کہنا تھا کہ ‘نواز شریف کو اپنے گھر میں دہشت گردی کے خلاف عمل کرنا چاہیے۔ میں امید کرتی ہوں کہ ان کا وہ مطلب نہ ہو جیسا محسوس ہوا ہے۔’ نواز شریف کے بیان پر پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی کڑی تنقید کی ہے اور ٹوئٹر کے ذریعے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’نواز شریف اپنی سیاہ کاریاں بچانے کے لیے فوج، نیب اور سپریم کورٹ جیسے ریاستی ادارے تباہ کرنے پر ہی بضد نہیں بلکہ یہ پاکستان کے مستقبل سے کھلواڑ پر اتر آئے ہیں۔

Advertisements

©2018 Cyberian.pk

 
or

Log in with your credentials

or    

Forgot your details?

or

Create Account