پاکستان

پاکستان:اخبارات کو ترسیل میں رکاوٹ اور ویب سائٹس کو بندش کا سامنا کیوں؟

Want create site? Find Free WordPress Themes and plugins.

ڈانتصویر کے کاپی رائٹ
AFP

پاکستان میں اظہارِ رائے کی آزادی کے محدود ہونے کی تازہ مثالیں صحافیوں کے کالم نہ چھپنا، پروگرامز کو ریاستی اداروں اور پالیسیوں پر تنقید سے باز رکھنا اور ایسے اقدامات کرنے والوں کے حامیوں کو منظر سے غائب کرنے کی صورت میں نظر آئیں۔

لیکن اب سینسرشپ کا معاملہ ایک قدم اور آگے بڑھ گیا ہے جس میں نیوز ویب سائٹس کو بند اور اخبارات کی ترسیل کو روکا جا رہا ہے۔

صحافیوں کی‌ بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے ملک کے سب سے بڑے انگریزی اخبار ڈان کو دیے گئے حالیہ انٹرویو کی اشاعت کے بعد اخبار کی ترسیل روکنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا۔

ادارے کے مطابق نواز شریف کا انٹرویو 12 مئی کو شائع ہوا اور 15 مئی سے اخبار کی ترسیل بند ہونا شروع ہوئی۔

’بلوچستان کے بیشتر علاقوں، سندھ کے کئی شہروں اور تمام فوجی چھاؤنیوں میں اخبار کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔‘

پریس کونسل آف پاکستان نے ڈان کے ایڈیٹر کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا نوٹس جاری کیا ہے جس کے مطابق انھوں نے ایسا مواد شائع کیا ہے جو ‘پاکستان یا اس کے عوام کی توہین ہو سکتی ہے یا ایک آزاد ملک کی حیثیت سے اس کی خودمختاری یا سالمیت داؤ پر لگ سکتی ہے۔’

لیکن ہیومن رائیٹس کمیشن آف پاکستان نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ‘ایسے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں جس سے ظاہر ہو کہ ڈان نے سابق وزیراعظم کا انٹرویو شائع کر کے پی سی پی آرڈیننس 2002 کے مطابق پاکستان کی سلامتی یا خودمختاری مجروح کی ہے۔‘

صحافیوں کی ویب سائٹس بھی پابندی کی زد میں

تصویر کے کاپی رائٹ
NayaDaur

Image caption

نیا دور کی بندش کے بعد اب نیا دور ڈاٹ ٹی وی کے نام سے نئی ویب سائٹ لانچ کی گئی ہے

اگرچہ پی ٹی اے کی جانب سے توہین آمیز اور فرقہ واریت کی ترغیب دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی اور ایسی ویب سائٹس اور مواد کو بلاک کرنے کے اقدامات پہلے سے ہی جاری ہیں لیکن اب پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) صحافیوں کی جانب سے چلائی جانے والی ویب سائٹس کو بھی بند کر رہی ہے۔

سینسرشپ: ’حساس موضوعات کو ہاتھ نہ لگائیں‘

پاکستانی جامعات میں بھی آواز دبانے کی کوششیں؟

’صحافی سیلف سینسرشپ پر مجبور‘

زیادہ دور نہ جائیں تو طنزو مزاح پر مبنی ویب سائٹس خبرستان ٹائمز کو بھی جنوری 2017 میں بلاک کر دیا گیا تھا۔

شبیر افشانی اپنے چند دوستوں کے ساتھ ملکر گذشتہ تین برس سے ’حال احوال‘ نامی ویب سائٹ چلا رہے تھے۔

بی بی سی سے گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ ویب سائٹ کا مقصد تھا بلوچستان کے سماجی، ثقافتی اور صحت کے مسائل پر بات کی جائے۔

شبیر کا کہنا تھا کہ اس میں نئے لکھنے والے نوجوانوں کی بھی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی لیکن 14 مئی کو اس پر پابندی عائد کر دی گئی اس سے پہلے کوئی واررننگ بھی نہیں دی گئی تھی۔

آپ کی نظر میں ایسا کیا مواد چھاپا گیا جس کی وجہ سے آپ کی ویب سائٹ کو بند کیا گیا؟

جواب ملا کہ ہم نے کھبی ایسے ایشوز کو ہاتھ لگانے اور مواد کو شامل کرنے کی کوشش نہیں کی جس سے ریاست کو نقصان پہنچے اور ریاستی اداروں پر سوال اٹھے۔

’ہم نے کبھی مسنگ پرسنز جیسے موضوعات کو نہیں اٹھایا۔ سوائے جلیلہ حیدری کے جو اس نے کیمپ لگائی تھی اس کی خبر بہت سارے میڈیا پر نشر بھی ہوئی تھی۔ ہم نے وہ خبر چلائی تھی اس کے علاوہ ہم نے کبھی اس طرح کے ایشوز کو اٹھانے کی کوشش نہیں کی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

غالباً نیا دور کے بلاک ہونے کی وجہ وہ آرٹیکلز ہیں جو ملک کے مختلف اخبارات چھاپ نہیں رہے تھے خصوصاً پشتون تحفظ موومنٹ کے حوالےسے۔: رضا رومی

امریکہ میں مقیم معروف کالم نگار رضا رومی اپنے چھ ساتھیوں کے ساتھ مل کر گذشتہ تین ماہ سے آن لائن ویب سائٹ ’نیا دور‘چلا رہے تھے جسے رواں ماہ کے آغاز میں بند کر دیا گیا۔

رضا رومی کے مطابق ’نیا دور‘ سماجی تبدیلی کا پلیٹ فارم ہے جس میں ہم ویڈیو اور سٹیزن جرنلزم کو فروغ دیتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’جب ویب سائٹ بلاک ہوئی تو معلوم کرنے کی کوشش کی کہ یہ کس کے حکم سے ہوا ہے تو کامیابی نہیں ہوئی لیکن ہم نے دوبارہ درخواست کی تو جزوی طور پر اسے بحال کیا گیا۔ ‘

آپ کی نظرمیں کیا وجوہات ہو سکتی ہیں؟

وہ کہتے ہیں کہ ’غالباً اس کے بلاک ہونے کی وجہ وہ آرٹیکلز ہیں جو ملک کے مختلف اخبارات چھاپ نہیں رہے تھے اور ہم نے چھاپے خصوصاً پشتون تحفظ موومنٹ کے حوالے سے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ہمیں کوئی وارننگ نہیں دی گئی جو اچھی بات نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Taha Siddiqui

صحافی طہٰ صدیقی نے تین مئی کو آزادی صحافت کے دن کے موقع پر ’سیف نیوز رومز‘ کے نام سے ویب سائٹ لانچ کی لیکن اسے 14 دن کے اندر اندر بلاک کر دیا گیا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’خیال یہ تھا کہ پاکستان اور جنوبی ایشیا میں صحافیوں کو نیوز روم میں جس قسم کی سینسر شپ کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس پر بات کی جائے۔ میں پاکستان کے اندر مختلف صحافیوں سے بات کرتا تھا ۔۔۔ کل میں ایکسپریس ٹریبیون کے صحافی سے بات ہوئی جس نے مجھے بتایا کہ کس طریقے سے آئی ایس پی آر کنٹرول چیزیں کرتا ہے۔‘

ویب سائٹس کے بلاک ہونے کے بعد متبادل طریقوں مثلاً وی پی این یا فیس بک اور ٹوئٹر اور یو ٹیوب کا سہارا لیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر نظر آنے والی پاکستان میڈیا واچ کی ٹویٹ ایک اشارہ ضرور دیتی ہے کہ سینسر شپ اور چینلز یا ویب سائٹس کی بندش پی ٹی اے کی فہرست میں کن پیمانوں کو مدنظر رکھ کر کی جا رہی ہے۔

طحہ صدیقی کہتے ہیں کہ’پاکستانی اتھارٹیز یہ نہیں سمجھتی کہ اگر کسی چیز پر پابندی عائد کر دی جائے تو اس سے یہ نہیں ہوتا کہ لوگ اس چیز پر جانا چھوڑ دیتے ہیں الٹا لوگوں میں اور تجسس ہوتا ہے کہ اور وہ میں دیکھ رہا ہوں کہ جو میرے ساتھ ہو رہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ پاکستانی فوج کے حکم پر ہی ہوا ہے اور ایک طرح سے پاکستانی فوج نے یہ پابندی لگا کر میری پبلسٹی کی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Twitter

Image caption

صحافی طلعت حسین نے اس ٹویٹ کو ان الفاظ میں ری ٹویٹ کیا کہ اس میں مبالغہ آمیزی نہں کہ جیو نیوز، دنیا ٹی وی اور ایکسپریس نیوز کے اینکرز کو پی ایم ایل این چند رہنماؤں کو شوز پر بلانے سے روکا گیا ہے

پی ٹی اے کا موقف

حالیہ اقدامات میں صحافیوں کی ویب سائٹس کو بند کیے جانے پر پی ٹی اے کے ترجمان کی جانب سے بی بی سی کو دی گئی وضاحت کے مطابق ’کسی بھی ویب سائٹ پر ایسا مواد جو پریوینشن آف الیکٹرانک ایکٹ 2016 کے قوانین کے منافی ہو اور ہمارے کسی متعلقہ ادارے یا سٹیک ہولڈر نے کسی ایسے مواد کی شکایت کی ہو جو ویب سائٹس پر موجود ہو اور وہ ان کے بارے میں ہمیں بتائیں تو انھیں بلاک کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے ہم شکایت کنندہ ادارے یا سٹیک ہولڈر سے معلوم کرتے ہیں کہ کونسا مواد ناگوار تھا اور انھیں وہ کیوں بلاک کروانا ہے۔‘

ایک اور سوال پر ترجمان نے جواب میں کہا کہ کسی بھی ویب سائٹ کو بند کرانے کے لیے ایک تفصیلی عمل ہے جس میں 30 مختلف سٹیک ہولڈرز اور متعلقہ ادارے اپنی شکایت پی ٹی اے کو درج کراتے ہیں اور جن کا جائزہ لینے کے بعد انھیں بلاک کرنے کے بارے میں فیصلہ لیا جاتا ہے اور اگر ایسی کوئی صورتحال آتی ہے جس میں کسی تکنیکی وجوہات کی بنا پر اس متعلقہ مواد کو بلاک نہیں کیا جا سکتا تو اس کے بعد اس ویب سائٹ کے نگران سے گفتگو کے بعد پوری ویب سائٹ بلاک کر دی جاتی ہے۔

تو کیا یہ بند کی گئی ویب سائٹس دوبارہ کھولی جا سکتی ہیں؟

اس بارے میں پی ٹی اے کی جانب سے جواب دیا گیا کہ ’ہمارے قوانین میں ان ویب سائٹس کو کھلوانے کا طریقہ کار درج ہے جس میں متعلقہ ویب سائٹ جس کے مواد کو بلاک کیا گیا ہے وہ اپنی شکایت پی ٹی اے کو دے سکتے ہیں۔ انھیں مکمل سماعت کا موقع دیے جانے کے بعد فیصلہ لیا جائے گا کہ کیا اس مواد کو بند رکھا جائے یا کھول دیا جائے۔‘

Did you find apk for android? You can find new Free Android Games and apps.
Advertisements
Show More

Related Articles

Close
Close