Advertisements
پاکستان

نگران وزیراعظم کاچناؤ: نام پر اتفاق نہ ہو سکا، پھر ملاقات ہو گی

Want create site? Find Free WordPress Themes and plugins.

خورشید شاہتصویر کے کاپی رائٹ
PM HOUSE

اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا خیال ہے کہ نگران وزیراعظم کے نام کے لیے ایک مرتبہ پھر سوچ لیتے ہیں شاید کوئی ایسا نام نظر آجائے جس پر ہم متفق ہو جائیں۔

دستور کے مطابق حکومت کی آئینی مدت مکمل ہو جانے سے پہلے ہی نگراں وزیراعظم کا چناؤ کیا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ موجودہ حکومت کی مدت 31 مئی کو ختم ہو رہی ہے جس کے بعد عبوری حکومت ملک میں عام انتخابات منعقد کروائے گی جو ممکنہ طور پر جولائی کے آخر یا اگست کے پہلے ہفتے میں ہوں گے۔

نگراں وزیر اعظم کی نامزدگی کا طریقۂ کار کیا ہے؟

پی ٹی آئی کے امیدوار عشرت حسین اور تصدق جیلانی

پہلے مرحلے میں وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کو نگراں سیٹ اپ کے لیے ایک نام پر اتفاق کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان اب تک متعدد ملاقاتیں ہو چکی ہیں جو بظاہر بے نتیجہ ثابت ہوئی ہیں۔

سید خورشید شاہ کے مطابق ’جو حکومت کی جانب سے نام دیے گئے تھے وہ ابھی تک انھی پر قائم ہیں اس بات پر وزیراعظم نے کہا کہ چلو پھر ایک بار سوچ لیتے ہیں۔۔۔۔‘

اپوزیشن لیڈر کا کہنا ہے کہ کوشش ہے کہ معاملہ لیڈر آف ہاؤس اور اپوزیشن کے درمیان ہی طے ہو یہ پارلیمان کے لیے اچھا ہو گا۔ ایسا نہ ہونے پر معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس چلا جائے گا۔

سنہ 2013 کے انتخابات کے موقع پر بھی صورتحال کچھ خوش آئند نہیں تھی جب پارلیمنٹ کے بجائے الیکشن کمیشن نے نگراں وزیراعظم کا نام چنا تھا۔

اس وقت پاکستانی میڈیا پر مختلف جماعتوں کے ذرائع کے حوالے سے مختلف ناموں کی باز گشت جاری ہے تاہم آن ریکارڈ حکمراں جماعت اور اپوزیشن کسی بھی نام کو سامنے لانے سے گریزاں ہے۔

ذرائع کے حوالے سے چلائے جانے والے ناموں میں کہا جا رہا ہے کہ پی پی پی کی جانب سے جلیل عباس جیلانی اور ذکا اشرف کا نام لیا جا رہا ہے۔ جبکہ مسلم لیگ ن کی جانب سے جسٹس (ر) تصدق حسین جیلانی اور جسٹس (ر) ناصر الملک کا نام سامنے آیا ہے۔

کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ نگراں وزیراعظم کی موجودگی آئینی ضرورت ہے لیکن انتخابات پر اثر انداز نہیں ہوسکتا اور اس کے لیے آزاد الیکشن کمیشن پر زیادہ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے اور جہاں تک ناموں کی بات ہے وہ ہر نگراں سیٹ اپ سے پہلے سامنے آتے رہتے ہیں۔

سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار راؤ خالد کہتے ہیں اس وقت نگراں وزیراعظم کے چناؤ کے لیے بظاہر کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آ رہی لیکن ایسے میں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دونوں جانب سے اندرون خانہ کوئی فیصلہ کیا جا چکا ہو۔

’میری ذاتی اطلاعات کے مطابق اس وقت ڈاکٹر عشرت حسین کا نام نگراں وزیراعظم کے لیے فہرست میں سب سے اوپر ہے جس پر تقریباً تمام جماعتوں کا اتفاق ہے اور اسٹبلشمنٹ کو بھی قابل قبول ہے۔‘

بی بی سی کے نامہ نگار آصف فاروقی کے مطابق سابق سفیر جلیل عباس جیلانی کے نام پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا تھا لیکن پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کی جانب سے کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین ذکا اشرف کا نام سامنے آنے سے معاملہ رک گیا۔

راؤ خالد کہنا ہے کہ اس صورتحال میں پی ٹی آئی بھی پورا زور لگا رہی ہے کہ کوئی ایسا بندہ آ جائے جو ان کی نظر میں غیر جانبدار ہو چاہے دوسروں کی نظر میں نہ ہو۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر نعیم نے اس سے قبل بی بی سی سے گفتگو میں کہا تھا کہ نگران وزیراعظم کے لیے جسٹس ریٹائرڈ تصدق حسین جیلانی اور ماہر معاشیات عشرت حسین کا نام تجویز کیا گیا ہے۔

نگراں سیٹ اپ میں چاروں صوبوں میں وزرائے اعلیٰ کے لیے کون سی شخصیات ہو سکتی ہیں اس بارے میں بھی ابھی کوئی نام سامنے نہیں آئے۔

پنجاب میں مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی، سندھ میں ایم کیو ایم اور پی پی پی، کے پی میں پی ٹی آئی اور جمعیت العمائے اسلام (ف) اور بلوچستان میں بلوچستان عوامی پارٹی اور بختونخوا ملی عوامی پارٹی نگراں سیٹ اپ کے لیے وزیرائے اعلی کا چناؤ کریں گی۔

Did you find apk for android? You can find new Free Android Games and apps.
Advertisements
Show More

Related Articles

Close
Close