Advertisements
Want create site? Find Free WordPress Themes and plugins.

نوازتصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

احتساب عدالت میں بات چیت کے دوران نواز شریف نے کہا کہ پاکستان دنیا میں تنہا ہو چکا ہے

پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ کے قائد نواز شریف نے اپنے انٹرویو کے بارے میں قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اعلامیہ افسوسناک اور تکلیف دہ ہے اور حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔

منگل کو احتساب عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کے دوران انھوں نے کہا کہ ’ملک کےاندر اب یہ پتہ لگنا چاہیے کہ ملک کو اس نہج پر کس نے پہنچایا اور پتہ لگنا چاہیے کہ ملک میں دہشت گردی کی بنیاد کس نے رکھی تھی۔‘

خیال رہے کہ پیر کو فوج کی درخواست پر بلائے گئے قومی سلامتی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ممبئی حملوں کے حوالے سے انگریزی اخبار ڈان میں شائع ہونے والا بیان غلط اور گمراہ کن ہے۔

ادھر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کا مقصد نواز شریف کے انٹرویو کی غلط رپورٹنگ کو مسترد کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

نواز شریف آخر چاہتے کیا ہیں؟

‘لگتا ہے منصوبہ ساز بہت بے تاب ہیں‘

غداری کے الزامات پر نواز شریف کا قومی کمیشن کا مطالبہ

احتساب عدالت میں بات چیت کے دوران نواز شریف نے کہا کہ پاکستان دنیا میں تنہا ہوچکا ہے۔ انھوں نے سوال کیا ’آپ بتائیں کہ دنیا میں کون سا ملک دہشت گرد ہے؟‘انھوں نے ایک بار پھر کہا کہ ان کے انٹرویو پر قومی کمیشن بننا چاہیے جو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرے۔

12 مئی کو ڈان اخبار میں سابق وزیراعظم کا انٹرویو شائع ہوا تھا جس کے مطابق نواز شریف نے یہ بھی کہا تھا کہ ‘عسکریت پسند تنظیمیں متحرک ہیں۔ آپ انھیں نان سٹیٹ ایکٹرز کہہ لیں۔ کیا ہمیں انھیں اجازت دینی چاہیے کہ وہ سرحد پار کریں اور ممبئی میں 150 لوگوں کو مار دیں۔’

تصویر کے کاپی رائٹ
PM HOUSE

Image caption

شاہد خاقان عباسی کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی نے نواز شریف کے بیان کی نہیں اس کی غلط رپورٹنگ کی مذمت کی ہے

کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ غلط معلومات یا شکایات پر مبنی رائے حقائق کو نظرانداز کر کے پیش کی جا رہی ہے۔

سابق وزیر اعظم سے جب یہ سوال کیا گیا کہ وہ سابق سینیٹر نہال ہاشمی کو اپنے ساتھ کھڑا کرکے اداروں کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں تو نواز شریف نے اس صحافی کی طرف معنی حیز نظروں سے دیکھا اور اس سوال کا جواب نہیں دیا۔

واضح رہے کہ پاناما لیکس کے معاملے میں اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو دھمکیاں دینے پر نہال ہاشمی کو سپریم کورٹ نے توہین عدالت کے مقدمے میں ایک ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔ رہائی کے فوری بعد سابق سینیٹر نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو ایک مرتبہ پھر تنقید کا نشانہ بنایا تھا جس پر انہیں توہین عدالت میں اظہار وجوہ کا ایک اور نوٹس جاری کیا گیا ہے۔

’قومی سلامتی کمیٹی نے غلط رپورٹنگ کی مذمت کی ہے‘

’ممبئی حملوں کے حوالے سے بیان غلط اور گمراہ کن ہے‘

ادھر احتساب عدالت نے نواز شریف اور العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں دیگر ملزمان کے بیانات ریکارڈ کروانے سے متعلق کہا ہے کہ پہلے عدالت وکیل صفائی کو ایک سوالنامہ دے گی اور اس سوال نامے کی تیاری کے بعد ملزمان کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا۔

اس مقدمے میں پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ واجد ضیا کا بیان قلمبند کیا گیا ہے۔ جے آئی ٹی کے سربراہ نے چار روز میں اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث بدھ کے روز واجد ضیا پر جرح کریں گے۔

وزیر اعظم کا قومی اسمبلی میں خطاب

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران کہا کہ جس نے ملک کو ناقابلِ تسخیر بنایا اُسے کے بارے میں غداری کی باتیں نہ قابلِ قبول ہیں۔

انھوں نے کہا کہ نواز شریف نے اپنے انٹرویو میں ممبئی حملوں کے بارے میں جو بات کی، اسے انڈین میڈیا نے غلط انداز میں بیان کیا اور پھر تمام اخبارات اور اب پارلیمان میں بھی یہی تذکرہ ہو رہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ’ہمیں سیاست کے لیے قومی سلامتی کو داؤ پر نہیں لگانا چاہیے اور اپنے آپ کو ہندوستان کا اداکار نہیں بننے دینا چاہیے۔ بغیر تصدیق کے باتوں کو آگے نہیں بڑھانا چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ممبئی حملوں سے متعلق سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیان کو غلط انداز میں پیش کرنے کی بات چب اتنی پھیل گئی تو ضروری تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے تاکہ حکومت کا موقف آئے۔

انھوں نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی نے اس انٹرویو کی غلط رپورٹنگ کی مذمت کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ’اگر آپ اس پر مزید بات کرنے کے لیے کمیشن بنانا چاہتے ہیں، سچائی کی تلاش اور مفاہمت کے لیے کمیشن بنانا چاہتے ہیں تو اسے بنائیں او اسے بننا چاہیے، کبھی ہم الزامات لگاتے ہیں، ماضی میں جانا ہے تو پارلیمان کمیشن بنا دے مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔‘

وزیراعظم نے کہا کہ یہ تمام معاملہ غلط رپورٹنگ سے شروع ہوا ہے اور اب مکمل وضاحت کی جا چکی ہیں۔

انھوں نے حزب اختلاف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اب بھی اس مسئلے پر بات کرنا چاہتے ہیں تو ضرور کریں لیکن اس سے ملکی مفاد کو ٹھیس ہی پہنچے گی۔

Did you find apk for android? You can find new Free Android Games and apps.
Advertisements
0 Comments

Leave a reply

©2018 Cyberian.pk

 
or

Log in with your credentials

or    

Forgot your details?

or

Create Account