Advertisements
Want create site? Find Free WordPress Themes and plugins.

نواز شریفتصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

نواز شریف انگریزی روزنامے ڈان میں 12 مئی کو شائع ہونے والے اپنے ایک انٹرویو کی وجہ سے تنقید کی زد پر ہیں

پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ان پر غداری اور ملک دشمنی کے جو الزامات عائد کیے جا رہے ہیں ان کی تحقیقات کے لیے ایک قومی کمیشن بنایا جانا چاہیے۔

پیر کو بونیر میں ایک جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے قائد نے جذباتی انداز میں کہا ہے کہ ’اگر میری یہ بات ناگوار گزارتی ہے اور اگر میں غدار ہوں اور ملک دشمن ہوں تو آؤ اور ایک قومی کمیشن بناؤ اور پھر اس کا حساب کتاب ہو جائے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں بھی وہاں آؤں گا اور وہ لوگ بھی وہاں آئیں جو مجھے غدار کہتے ہیں۔ ایک طرف پاکستان کے 22 کروڑ عوام دیکھ رہے ہوں، پورا ملک دیکھ رہا ہو۔ وہ کمیشن اپنی رپورٹ دے اور جو مجرم ہے اسے سرعام پھانسی پر لٹکا دیا جائے۔‘

اس بارے میں مزید پڑھیے

’ممبئی حملوں کے حوالے سے بیان غلط اور گمراہ کن ہے‘

قومی سلامتی کی خبر:’وفاقی وزیر اطلاعات سے عہدہ واپس‘

اور اب قومی سلامتی پلس

’ نواز شریف حاضر ہوں‘

خیال رہے کہ نواز شریف انگریزی روزنامے ڈان میں 12 مئی کو شائع ہونے والے اپنے ایک انٹرویو کی وجہ سے تنقید کی زد پر ہیں۔

ڈان میں شائع ہونے والے انٹرویو کے مطابق نواز شریف نے کہا تھا کہ ‘عسکری تنظیمیں فعال ہیں۔ انھیں غیرریاستی عناصر کہا جاتا ہے، کیا ہم انھیں اجازت دے سکتے ہیں کہ وہ سرحد پار جا کر ممبئی میں 150 لوگوں کا قتل کریں؟‘

ان کے اس بیان پر پیر کو قومی سلامتی کونسل کا اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں اس بیان کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی گئی۔

اس اجلاس کے بعد پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی ایک پریس کانفرس کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ممبئی حملوں سے متعلق ان کی جماعت کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے اور قومی سلامتی کمیٹی نے اس غلط رپورٹنگ کی مذمت کی ہے۔

اس اجلاس سے قبل پیر کی صبح احتساب عدالت میں صحافیوں سے بات چیت میں نواز شریف نے کہا تھا کہ انھوں نے اس انٹرویو میں ’کون سی غلط بات کی ہے‘ اور وہ حق بات کرتے رہیں گے۔

اسلام آباد میں احتساب عدالت کے اندر میڈیا سے بات چیت میں نواز شریف نے کہا کہ ’ذرا ڈان اخبار پڑھیں اور پہلے یہ بتایا جائے کہ میں نے کہا کیا ہے؟

نواز شریف نے ڈان اخبار کی خبر پڑھ کر سنائی اور کہا کہ اس میں کون سی غلط بات ہے؟

پیر کو میڈیا سے بات چیت میں نواز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہم نے قربانیاں دی ہیں لیکن دنیا ہمارے بات ماننے کو کیوں تیار نہیں ہے۔

نان سٹیٹ ایکٹر سے متعلق بیان کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں مریم نواز نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’پھر آپ نے ضربِ عضب کن کے خلاف کیا تھا۔؟

ایسے میں نواز شریف نے مریم نواز کو جواب دینے سے منع کیا اور کہا کہ ’آپ نہ بولیں۔‘

نواز شریف کا کہنا تھا کہ ممبئی حملوں کی سازش میں ملوث مقدمہ جو پاکستان میں درج ہے اس کو ابھی تک مکمل کیوں نہیں کیا جا سکا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

Image caption

نواز شریف کے ساتھ عدالت میں پیشی پر اُن کی بیٹی مریم نواز بھی موجود تھیں

واضح رہے کہ پاکستان میں درج ہونے والے ممبئی حملوں کی سازش کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے سات ملزمان میں سے ایک ملزم ذکی الرحمن لکھوی کی ضمانت ہوچکی ہے جبکہ باقی ملزمان اس وقت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ایک صحافی نے سابق وزیراعظم سے پوچھا کہ حکومت کا تو یہ دعویٰ ہے کہ بھارت نے اس ضمن میں شواہد پیش نہیں کیے جس پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کا فیصلہ کروانے کے لیے ہمارے پاس شواہد کم نہیں ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اس مقدمے کے فیصلے میں تاخیر بھی ایک بڑی وجہ ہے جس سے دنیا ممبئی حملوں سے متعلق پاکستان کا بیانیہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ ایک ایسے شخص کو غدار کہا جا رہا ہے، جس نے ملک کو اندھیروں سے نکالا اور ملک کو ایٹمی طاقت بنایا۔

انھوں نے سابق آمر پرویز مشرف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس نے آئین توڑا، ججوں کو نکالا، بارہ مئی کا سانحہ کروایا اور اُسے محبِ وطن قرار دیا جا رہے۔ نواز شریف نے واضح کیا کہ وہ وہ حق بات کرتے رہیں گے چاہے انھیں کچھ سہنا پڑے۔

اس سے پہلے پاکستان مسلم لیگ نون کے ایک ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہےکہ انڈین میڈیا نواز شریف کے بیان کو غلط انداز سے پیش کر رہا ہے اور پاکستانی میڈیا حقائق جانے بغیر انڈیا کے پراپیگنڈے کا شکار ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں پاکستانی فوج نے وزیر اعظم کو قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کی تجویز دی ہے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ اجلاس بلانے کا مقصد ممبئی واقعے کے حوالے سے ‘گمراہ کن’ میڈیا بیان پر بات چیت کرنا ہے۔

Did you find apk for android? You can find new Free Android Games and apps.
Advertisements
0 Comments

Leave a reply

©2018 Cyberian.pk

 
or

Log in with your credentials

or    

Forgot your details?

or

Create Account