Advertisements
پاکستان

نواز شریف: بدعنوانی کے مقدمات مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سزا ہیں

Want create site? Find Free WordPress Themes and plugins.

نواز شریفتصویر کے کاپی رائٹ
AFP/GETTY

Image caption

نواز شریف کا کہنا تھا کہ دو چار جرنیل جمہوریت کا تختہ الٹیں اور خود اختیار میں بیٹھیں تو ان پر بھی سوال اٹھنا چاہیے

سابق وزیر اعظم اور حکمراں جماعت کے قائد میاں نواز شریف نے احتساب عدالت کی طرف سے پوچھے گئے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کروانے کی سزا کے طور پر دائر کیے گئے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق بدھ کو احتساب عدالت میں نواز شریف نے ایون فیلڈ ریفرنس میں اپنا بیان مکمل کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اُن کا جرم صرف وہی ہے جو اُنھوں نے20 سال پہلے کیا تھا۔

مزید پڑھیے

’سول ملٹری جھگڑے کا جے آئی ٹی کی کارروائی پر اثر ہوا ہے‘

’قطری شہزادہ اپنے محل میں جے آئی ٹی سے ملنا چاہتا تھا‘

واضح رہے کہ نواز شریف نے اُس وقت بطور وزیراعظم ملک کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا جس کے بعد فوج نے جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔

میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ جب اُنھوں نے سنہ 2014 میں سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا تو بہت سے لوگوں نے اُنھیں دھمکی نما مشورہ دیا کہ یہ’ بھاری پتھر’ ان سے نہیں اُٹھایا جائے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی کارروائی کو روکنے سے متعلق اُنھوں نے کوئی دباؤ قبول نہیں کیا۔

’جابروں کا سامنا ہوتے ہی ان ہتھیاروں کی دھار کند ہو جاتی‘

عدالت میں اپنا تیار شدہ بیان پڑھتے ہوئے سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ’سال 2013 کے اواخر میں غداری کا مقدمہ قائم کرنے کا عمل شروع ہوتے ہی مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ آئین اپنی جگہ، جمہوریت کے تقاضے اپنی جگہ، پارلیمان کی بالادستی اپنی جگہ، قانون کی حکمرانی اپنی جگہ اور پاکستان کے عوام کا مینڈیٹ اپنی جگہ، لیکن ایک آمر کو عدالت کے کٹہرے میں لانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ شاید قانون اور انصاف کے سارے ہتھیار صرف اہل سیاسات کے لیے بنے ہیں۔ جابروں کا سامنا ہوتے ہی ان ہتھیاروں کی دھار کند ہو جاتی ہے اور فولاد بھی موم بن جاتا ہے۔

‘جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف ایک منصوبے کے تحت خصوصی عدالت میں پیش ہونے کی بجائے راولپنڈی کے آرمڈ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں چلے گئے تھے۔’

عدالتی سوالوں کا جواب دیتے ہوئے سابق وزیر اعظم کا رویہ کافی جارحانہ تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ انصاف کی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ججز ایک گھنٹے کے لیے بھی فوجی آمر کو جیل نہیں بھجوا سکے۔

اُنھوں نے کہا کہ ججز نے ملزم پرویز مشرف کے عالی شان محل کو سب جیل قرار دیا۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ کوئی قانون یا عدالت غداری کے مقدمے کے ملزم کو ہتھکڑی بھی نہ لگا سکی۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Twitter

’کون تھا وہ ایمپائر؟‘

نواز شریف نے کہا کہ سابق فوجی صدر کے خلاف غداری کا مقدمہ درج ہونے کے بعد سنہ2014 میں پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے اسلام آباد میں دھرنوں کے دوران عمران خان جو امپائر کی بات کرتے تھے تو وہ امپائر کون تھے۔

نواز شریف نے اپنے بیان میں سوال اٹھایا کہ سال 2014 میں ہونے والے ان دھرنوں کا منصوبہ کیسے بنا۔

’طاہر القادری اور عمران خان کیسے یکجا ہوئے؟ کس نے ان کے منہ میں وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ ڈالا اور کون چار ماہ تک مسلسل ان کی حوصلہ افزائی کرتا رہا؟ یہ باتیں اب کوئی ڈھکا چھپا راز نہیں ہیں۔ عمران خان خود کھلے عام یہ اعلان کرتے رہے ہیں کہ بس ایمپائر کی انگلی اٹھنے والی ہے۔ کون تھا وہ ایمپائر؟ وہ جو کوئی بھی تھا، اُس کی مکمل پشت پناہی ان دھرنوں کو حاصل تھی۔

’ماتحت ادارے کا ملازم کیسےاستعفیٰ مانگ سکتا ہے؟`

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ان دھرنوں کے دوران خفیہ ادارے کے سربراہ کی طرف سے اُنھیں یہ پیغام بھجوایا گیا کہ یا تو مستعفی ہو جائیں یا پھر طویل رخصت پر چلے جائیں۔

’دھرنوں کے دوران مجھ پر لشکر کشی کی گئی جس کا مقصد تھا کہ مشرف پر غداری کا مقدہ قائم کرنے کے نتائج اچھے نہ ہوں گے۔ انھی دنوں ایک انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ کا پیغام مجھ تک پہنچایا گیا کہ میں مستعفی ہو جائوں اور اگر یہ ممکن نہیں تو طویل رخصت پر چلا جاؤں۔

مجھے اس پیغام سے بے حد دکھ پہنچا اور رنج ہوا کہ پاکستان کس حال کو پہنچ گیا ہے۔ عوام کے منتخب وزیر اعظم کی اتنی توقیر رہ گئی ہے کہ اس کے براہ راست ماتحت ادارے کا ملازم اپنے وزیر اعظم کو مستعفی یا رخصت پر جانے کا پیغام دے رہا ہے۔‘

’آمریتوں نے پاکستان کے وجود پر گہرے زخم لگائے‘

اُنھوں نے کہا کہ پرویز مشرف سے پوچھا جائے انھوں نے افواج پاکستان کو اپنے ذاتی مقاصد کے لیے کیوں استعمال کیا؟

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ دو چار جرنیل جمہوریت کا تختہ الٹیں اور خود اختیار میں بیٹھیں تو ان پر بھی سوال اٹھنا چاہیے۔ اُنھوں نے کہا کہ ایسے اقدام سے فوج کی ساکھ مجروح ہوتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ فوج کے اصل ہیرو وہ فرزند ہيں جو اقتدار کي بجائے مورچوں ميں ملک کی حفاظت کرنے کے لیے بیٹھے ہيں۔

اُنھوں نے کہا کہ ملک میں جب بھی مارشل لگا تو اعلیٰ عدلیہ کے ججز نے اس کا خیر مقدم کرتے ہوئے پی سی او پر حلف اُٹھائے۔

میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ آمریتوں نے پاکستان کے وجود پر گہرے زخم لگائےاور ڈکٹیٹروں کو بھی آئین شکنی کی سزا ملنی چاہیے۔

اُنھوں نے کہا کہ کیوں آج تک کسی بھی منتخب وزیراعظم کو اس کی آئنی مدت پوری کیوں نہیں کرنے دی گئی۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

نواز شریف کی سیاسی زندگی کے نشیب و فراز

میاں نواز شریف نے احتساب عدالت کے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کاش وہ سابق وزرائے اعظم لیاقت علی خان ، ذوالفقار علی بھٹو اور بےنظیر بھٹو کی روحوں کو عدالت میں طلب کرسکتے اور اُن سے پوچھتے کہ اُن کے ساتھ کیا سلوک ہوا تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ مجھے بے دخل کرنے اور نااہل قرار دینے والے کچھ لوگوں کو تسکین مل گئی ہو گی۔ اُنھوں نے کہا کہ کچھ افراد کی طرف سے اُنھیں عمر بھر کے لیے نااہل قرار دینا اور سیاست سے آؤٹ کرنا ہی اس کا واحد حل سمجھا گیا۔

نواز شریف اور عدالتیں

’گاڈ فادر کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا‘

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اُنھیں سپریم کورٹ کے ججز کی طرف سے سیسلین مافیا اور گارڈ فادر کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

اُنھوں نے کہا کہ میں پاکستان کا بیٹا ہوں اس مٹی کا ایک ایک ذرہ جان سے پیارا ہے اور اس بارے میں کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینا اپنی توہین سمجھتا ہوں۔

نواز شریف نے احتساب عدالت کے جج محمد بشیرسے سوال کیا کہ کيا سپریم کورٹ کے ان ججوں کو جو ميرے خلاف فيصلہ دے چکے ہوں بينچ کا حصہ يا مانيٹرنگ جج لگايا جاسکتا ہے جس پر احتساب عدالت کے جج نے سابق وزیر اعظم سے کہا کہ وہ ہ سوال ان جج صیاحبان سےہي پوچھيں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
TWITTER

’یہ پراسرار کہانی کیا کہہ رہی ہے؟‘

نواز شریف نے احتساب عدالت کے جج پر ایک اور سوال داغا کہ کيا کسي سپريم کورٹ کے بينچ نے جے آئی ٹی کی نگرانی کی اور کيا کسی نے اقامے پر مجھے نااہل کرنے کي درخواست دی تھی جس پر جج کا وہی جواب تھا کہ وہ یہ سوال اُنہی جج صاحبان سے ہی پوچھیں۔

نواز شریف نے کہا کہ فيصلے پہلے ہوجائيں تو ايسی ہی کہانياں جنم ليتي ہيں۔ اُنھوں نےکہا کہ ایسے فيصلے عدليہ کے احترام اور عوام کے حق ميں ٹھيک نہيں ہیں۔

عدالت کے سامنے اپنے دس سوالات رکھتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ مجھے آج تک ان کے جوابات نہیں ملے لیکن میں انھیں اس لیے دہرا رہا ہوں تاکہ آپ ان پر ضرور غور کریں اور سوچیں کہ یہ پر اسرار کہانی کیا کہ رہی ہے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ان کے خلاف دائر ہونے والے مقدمات میں بدعنوانی تو ابھی تک ثابت نہیں ہوئی البتہ ان ریفرنس میں ناانصافي ضرور نظر آتي ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ قوم اور ملک کا مفاد مجھے اس سے زيادہ کچھ کہنے کي اجازت نہيں دے رہا جس کے بعد سابق وزیر اعظم نے اپنا بیان ختم کردیا۔

واضح رہے کہ عدالت کی طرف سے سابق وزیر اعظم سے128 سوالات کیے گئے تھے جن کا جواب تین روز کی عدالتی کارروائی کے دوران دیا گیا۔

Did you find apk for android? You can find new Free Android Games and apps.
Advertisements
Show More

Related Articles

Close
Close