Image caption

الیکشن کمیشن نے گوجرانوالہ سے قومی اسمبلی کی گذشتہ 7 سیٹوں کو کم کر کے چھ کر دیا ہے

پاکستان میں عام انتخابات 2018 کے لیے ہونے والی نئی حلقہ بندیوں نے کئی سیاستدانوں کے سیاسی گڑھ کو توڑنے اور جوڑنے کے علاوہ بیشتر کو ٹکٹ ملنے کی غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ نہ صرف کچھ سیاستدان اپنے پارٹی چھوڑ کر دوسری جماعتوں میں شامل ہو رہے ہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کو بھی انتخابی مہم کے لیے نئے سرے سے اپنی حکمت عملی بدلنے پر مجبور کر دیا ہے۔پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ پر نظر ڈالیں تو 50 لاکھ سے زائد آبادی کے اس ضلعے میں حالیہ مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیاں کی گئیں جن کے نتیجے میں یہاں سے قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد سات سے کم ہو کر چھ ہو گئی ہے۔بظاہر تو ایک نشست کا فرق زیادہ بڑا نہیں لگتا لیکن اہلیان گوجرانوالہ کا کہنا ہے کہ نئے حلقے بننے سے شہر کا سیاسی منظرنامہ ہی بدل گیا ہے اور وہ اس سے خوش نہیں۔اسی بارے میںنئی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی اب کتنی؟پنجاب کی نشستیں کم، پختونخوا کی زیادہپاکستان میں انتخابی حلقہ بندیوں کے چار بڑے مسئلےمردم شماری پر سیاسی جماعتوں کے تحفظاتبی بی سی سے بات کرتے ہوئے شہر کے ڈپٹی مئیر، رانا مقصود نے بتایا کہ عوامی نمائندوں سے مشورہ کیے بغیر کئی گئیں حلقہ بندیاں اگلے الیکشن میں سیاسی کارکنان کے ساتھ عوام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گی اور الیکشن کمیشن کو اس بات کا اندازہ ابھی نہیں ہے۔ ’گوجرانوالہ میں پہلے این اے 97 اور این اے 98 تھا جسے ملا کر اب این اے 80 بنا دیا گیا ہے، اس سے راجپوت برادری کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اگر پارٹی کی بات کریں، تو نئی حلقہ بندیوں سے پی ٹی آئی کو فائدہ ہوا ہے، یہ مسلم لیگ نون کو نقصان پہنچانے کیلئے ہی کیا گیا ہے۔‘نئی حلقہ بندیوں کے خلاف الیکشن کمیشن کو موصول شدہ اعتراضاتسیریل نمبر
صوبہ / علاقہ
اعتراضات
1
پنجاب
706
2
سندھ
284
3
خیبر پختونخوا اور فاٹا
192
4
بلوچستان
104
کل تعداد

1286
ان کا موقف ہے کہ یہ الیکشن کمیشن کو سوچنا چاہیے، یہ توازن ایکشن کمیشن کو رکھنا چاہیے تھا کہ نمائندوں سے رابطے کرنے چاہیے تھے حلقہ بندی کرتے وقت، اس بات کا بالکل خیال نہیں رکھا گیا کہ عوام کے رابطے کس طرح اپنے نمائندوں کے ساتھ بہتر ہو سکتے ہیں۔پاکستان میں 19 سال کے وقفے کے بعد سنہ2017 میں مردم شماری کی گئی اور ملک میں اگلے الیکشن کروانے کی آئینی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے آبادی کے حساب سے پاکستان میں 2018 میں نئی حلقہ بندیاں کی گئیں۔ الیکشن ایکٹ 2017 کے مطابق، حلقہ بندیوں کے بنیادی اصول اپنائے گئے جن میں برادریوں اور پٹوار کی تقسیم کیے بغیر آبادی کی بنیاد پر الیکشن کمیشن کی جانب سے نئی حلقہ بندیاں کی گئیں۔ صوبے کی کل آبادی کو اس صوبے کی قومی اسمبلی کی سیٹوں سے تقسیم کر کے ایک حلقے کی آبادی کا حساب لگایا گیا اور دو حلقوں کی آبادی میں دس فیصد کے فرق کی گنجائش کی اجازت دی گئی۔

الیکشن ایکٹ 2017 کے مطابق، حلقہ بندیوں کے بنیادی اصولحلقہ ایسے علاقوں پر مشتمل ہونا چاہیے جہاں آبادی ایک جیسی جغرافیائی حالات میں رہتی ہو
انتخابی حلقہ ایک ہی ضلع کی حدود میں واقع ہونا چاہیے۔
ایک ہی قومیت اور پس منظر کے افراد کو مختلف حلقوں میں تقسیم نہیں کیا جائے گا۔
یونین کونسل، پٹوار سرکل، قانونگوئی اور تحصیل کو بھی حلقہ بندی کے دوران مدنظر رکھا جائے گا۔
حلقہ بندی میں شامل علاقے ایک دوسرے سے متصل ہونے چاہییں۔
کسی بھی حلقہ کی آبادی، نشستوں کی تقسیم کے دوران آبادی کے اوسط فارمولے سے 10 فیصد سے زیادہ یا کم نہیں ہو سکتی۔
حلقہ بندیاں شمال سے یعنی کلاک وائز اور زگ زیگ شکل میں کی گئی ہیں۔

ملک میں مجموعی طور پر قومی اسمبلی کی جنرل نشستوں کی کل تعداد تو نہیں بدلی لیکن ان کے نمبر سے لے کر نقشوں تک بہت کچھ بدل گیا۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں سات سیٹیں کم ہونے سے صوبے میں سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا اسی لیے الیکشن کمیشن کو نئی حلقہ بندیوں کے خلاف سب سے زیادہ، 706 اعتراضات پنجاب سے موصول ہوئے۔ نئی حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست سے پہلے ملک بھر سے دائرکردہ 1286 اعتراضات کی باقاعدہ سنوائی اسلام آباد میں الیکشن کمیشن سیکریٹیریٹ میں جاری ہے اور امکان ہے کہ حتمی فہرست کا اعلان 20 مئی کے بعد کیا جائے گا۔ بی بی سی کی ٹیم نے متعدد بار الیکشن کمیشن کے حکام سے اس حوالے سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن انھوں نے اپنا موقف دینے سے انکار کر دیا۔ الیکشن کمیشن میں ضلع گوجرانوالہ سے نئی حلقہ بندیوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت 13 اپریل کو کی گئیں۔ اس سماعت میں وفاقی وزیر قانون محمود بشیر ورک بھی پیش ہوئے جو 2013 کے الیکشن میں گوجرانوالہ کی این اے 97 سے مسلم لیگ کے امیدوار کے طور پر جیتے تھے۔

Image caption

وفاقی وزیر قانون محمود بشیر ورک نئے تخلیق کردہ این اے 80 کی حلقہ بندی سے بالکل خوش نہیں

2013 کے الیکشن میں پرانی حلقہ بندیوں کے تحت این اے 97 سے مسلم لیگ نواز کے محمود بشیر ورک اور این اے 98 سے مسلم لیگ نواز کے امیدوار میاں طارق الیکشن جیتے لیکن اب ان دونوں حلقوں کے بڑے حصوں کو ملا کر این اے 80 بنا دیا گیا ہے یعنی ایک حلقہ اور دو امیدوار۔ وفاقی وزیر قانون محمود بشیر ورک نئے تخلیق کردہ این اے 80 کی حلقہ بندی سے بالکل خوش نہیں اور خود اپنی مدعیت میں الیکشن کمیشن میں اعتراض بھی جمع کروایا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ الیکشن کمیشن کے حکام ان کے قانونی نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے اعتراضات مان لیں گے۔ ’میرا حلقہ جس میں 1997 سے میں الیکشن لڑ رہا ہوں جس میں یہ گھر ہے، اس کے چاروں طرف نو یونین کونسل نکال دی گئیں ہیں بشمول میرا گھر۔ میرا ووٹ اب میرے حلقے میں نہیں رہا۔ اور پھر قانون میں یہ ہے کہ شمال سے جنوب اور کلاک وائز ہو، میرا حلقے اینٹی کلاک وائز کر دیا گیا ہے۔ تو میں ذاتی طور پر متاثر ہوا ہوں۔ میرے اعتراضات جائز ہیں اسی لیے مجھے یقین ہے کہ وہ مان لیے جائیں گے۔‘پاکستان میں نئی حلقہ بندیوں کے بعد قومی اسمبلی کی سیٹوں میں بدلاؤصوبہ/ علاقہ
2013 میں قومی اسمبلی کی نشستیں
2018 میں قومی اسمبلی کی نشستیں
نشستوں میں تبدیلی
پنجاب
148
141
-7
سندھ
61
61
0
خیبر پختونخوا
35
39
+4
بلوچستان
14
16
+2
اسلام آباد
2
3
+1
فاٹا
12
12
0
کل تعداد
272
272
صفر
بی بی سی کی ٹیم نے الیکشن 2018 میں این اے 80 کے دوسرے بڑے امیدوار میاں طارق کے ڈیرے کا رخ کیا تاکہ ان سے پوچھیں کہ کیا نئی حلقہ بندیوں کے باعث مسلم لیگ نون سے ٹکٹ نہ ملنے کے خدشے کے باعث انھوں نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔میاں طارق نے کہا کہ `یہ وجہ نہیں ہے، میں نے انہیں صرف مسلم لیگ نواز کو ان کے رویے کی وجہ سے چھوڑا ہے۔ پانچ سال میں نہ وزیر اعلی پنجاب ملے ہیں نہ وزیراعظم ملے، تو کس کے لیے کام کرنا ہے۔ بے شک گوجرانوالہ میں جو اب حلقہ بندیاں ہوئیں ہیں ان میں سب سے زیادہ میرا حلقہ متاثر ہوا ہے۔ لیکن میں تو الیکشن لڑ رہا ہوں، اپیل میں بھی نہیں گیا۔ کیونکہ سیاسی کارکن جس نے الیکشن لڑنا ہوتا ہے اس کے لیے سب حلقے ایک جیسے ہوتے ہیں ۔`

Image caption

میاں طارق نے کے بقول انھوں نے مسلم لیگ نواز کو ان کے رویے کی وجہ سے چھوڑا ہے

20 مارچ کو گوجرانوالہ میں پی ٹی آئی کے جلسے میں میاں طارق نے عمران خان کو سونے کا تاج پہنایا تھا اور ایک چاندی کا بلا بھی تحفے میں دیا جو چیئرمین پی ٹی آئی نے شوکت خانم ہسپتال کو عطیہ میں دے دیا ہے۔ 21 مارچ کو میاں طارق نے مسلم لیگ نواز سے بطور ایم این اے استعفی دے دیا۔ پارٹی بدلنے کے باوجود گوجرانوالہ میں نئی حلقہ بندی سے بےفکر میاں طارق کی نظریں این اے 80 سے پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر ہیں اور ان کو اعتماد اپنے ووٹ بینک پر ہے۔ حلقہ بندیوں کے اعتراضات اور ان کی سماعت سے بالاتر ان سیاستدانوں کا ماننا ہے کہ الیکشن کی تیاریوں کا انحصار اعتراضات کے نتائج پر نہیں ہے۔دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ موجودہ حلقہ بندیاں غالبا اگلے دس سال تک قائم رہیں گی جب تک نئی مردم شماری نہیں ہو گی اور یہ براہ راست پاکستان کی اگلی کامیاب سیاسی جماعت اور وزیراعظم کے چناؤ پر اثرانداز ہوں گی البتہ جتنے کم وقت میں یہ حلقہ بندیاں کروائی جا رہی ہیں، ان کے موثر ہونے کا اندازہ دائر کردہ اعتراضات کے بعد حتمی فہرستوں کی اشاعت پر منحصر ہے۔

Advertisements

©2018 Cyberian.pk

 
or

Log in with your credentials

or    

Forgot your details?

or

Create Account