پاکستان

ممبئی حملوں کے حوالے سے بیان غلط اور گمراہ کن ہے: قومی سلامتی کمیٹی

Want create site? Find Free WordPress Themes and plugins.

این ایس سیتصویر کے کاپی رائٹ
PM HOUSE

Image caption

وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں کمیٹی کے اراکین نے متفقہ طور پر ان الزامات کو رد کیا اور اس کی مذمت کی

پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ ممبئی حملوں کے حوالے سے مقامی اخبار میں شائع ہونے والا سابق وزیراعظم نواز شریف کا حالیہ بیان غلط اور گمراہ کن ہے۔

کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ غلط معلومات یا شکایات پر مبنی رائے کو حقائق کو نظرانداز کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔

فوج کی درخواست پر کمیٹی کا یہ خصوصی اجلاس 12 مئی کو ڈان میں شائع ہونے والے اس انٹرویو کے بعد طلب کیا گیا تھا جس کے مطابق نواز شریف نے کہا تھا کہ ’عسکریت پسند تنظیمیں متحرک ہیں۔ آپ انھیں نان سٹیٹ ایکٹرز کہہ لیں۔ کیا ہمیں انھیں اجازت دینی چاہیے کہ وہ سرحد پار کریں اور ممبئی میں 150 لوگوں کو مار دیں۔’

مزید پڑھیے

’میں نے کون سی غلط بات کی ہے، حق بات کرتا رہوں گا‘

ممبئی حملے کا مقدمہ: تاخیر کا ذمہ دار انڈیا؟

ممبئی حملے: ’انڈیا اس معاملے کو حل کرنا ہی نہیں چاہتا‘

نواز شریف کی ڈنڈا ڈولی

خیال رہے کہ انڈیا کے اقتصادی دارالحکومت کہلائے جانے والے شہر ممبئی میں 26 نومبر 2008 کو ایک حملہ ہوا تھا جو 60 گھنٹے تک جاری رہا اور اس حملے میں 150 سے زائد افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔

پیر کو وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں کمیٹی کے اراکین نے متفقہ طور پر ان الزامات کو رد کیا اور اس کی مذمت کی۔

نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعظم، وزیرِ دفاع، وزیرِ خزانہ، قومی سلامتی کے امور کے مشیر لیفٹینیٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ اور اعلیٰ ترین عسکری حکام نے شرکت کی۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

نواز شریف کی سیاسی زندگی کے نشیب و فراز

کمیٹی کا کہنا تھا کہ ممبئی حملوں کے مقدمے میں پیش رفت میں رکاوٹ انڈیا ہے نہ کہ پاکستان۔

’اس مقدمے کی تحقیقات کے سلسلے میں دیگر معاملات پر انکار کے علاوہ اس حوالے سے مرکزی ملزم اجمل قصاب تک رسائی نہ دینا اور جلد بازی میں اس کو پھانسی دینا اس مقدمے کے جلد تکمیل میں رکاوٹ ہے۔ ‘

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کلبھوشن یادوو اور سمجھوتہ ایکسپریس کے معاملات میں انڈیا کے تعاون کا منتظر ہے۔

شہباز شریف کا بیان

مسلم لیگ نون کے صدر اور وزیراعلیٰ پنجاب شبہاز شریف پہلے ہی ایک ٹویٹ میں ڈان اخبار میں شائع ہونے والے خبر کو مسترد کر چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ نون ڈان اخبار کی خبر میں کیے گئے تمام براہ راست یا بالواسطہ دعوؤں کو مسترد کرتی ہے۔ پاکستان اور اس کے تمام ادارے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں ایک ساتھ متحد کھڑے ہیں۔‘

ٹویٹر پر جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا کہ ہمارا پختہ یقین ہے کہ پاکستان کا مفاد تمام ذاتی اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

اس کے ساتھ انھوں نے کہا کہ ملکی مفاد پر کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ نے اپنے بیان میں کہا کہ اخباری رپورٹ میں بیان کو مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف سے غلط طور پر منسوب کیا گیا اور یہ مسلم لیگ نون کی پالیسی کی نمائندگی نہیں کرتا۔

اس سے پہلے پاکستان مسلم لیگ نون کے ایک ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہےکہ انڈین میڈیا نواز شریف کے بیان کو غلط انداز سے پیش کر رہا ہے اور پاکستانی میڈیا حقائق جانے بغیر انڈیا کے پراپیگنڈے کا شکار ہے۔

خیال رہے کہ مقامی انگریزی اخبار ڈان میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق جب نواز شریف سے پوچھا گیا کہ انھیں عوامی عہدے سے ہٹانے کی کیا وجوہات ہوسکتی ہیں تو نواز شریف نے براہ راست جواب دینے کے بجائے اس کا رخ خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کی جانب موڑ دیا۔

ڈان اخبار کے مطابق نواز شریف نے کہا تھا کہ ‘ہم نے خود کو تنہائی کا شکار کر لیا ہے۔ ہماری قربانیوں کے باوجود ہمارے موقف کو قبول نہیں کیا جاتا۔ افغانستان کے موقف کو قبول کیا جاتا ہے، لیکن ہمارے نہیں۔ ہمیں اس جانب توجہ دینا ہوگی۔’

Did you find apk for android? You can find new Free Android Games and apps.
Advertisements
Show More

Related Articles

Leave a Reply

Close