پاکستان

’قطری شہزادہ اپنے محل میں جے آئی ٹی سے ملنا چاہتا تھا: نواز شریف

Want create site? Find Free WordPress Themes and plugins.

نوازتصویر کے کاپی رائٹ
AFP

سابق وزیر اعظم اور حکمراں جماعت کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ قطری شہزادہ حماد بن جاسم الثانی اپنے محل میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ارکان سے ملنا چاہتا تھا لیکن جے آئی ٹی کے اراکان نے جان بوجھ کر ان سے ملاقات نہیں کی ۔

ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ منگل کے روز احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس میں دوسرے روز بھی بیان جاری رکھتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ قطری شہزادے نے پاکستان آنے اور پاکستانی سفارت خانے جاکر اپنا بیان ریکارڈ کروانے سے انکار کیا تھا۔ لیکن اُنھوں نے جے آئی ٹی کے ارکان کو اپنے محل میں بیان ریکارڈ کروانے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا تو پھر جے آئی ٹی کے ارکان ان کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے وہاں کیوں نہیں گئے۔

اُنھوں نے الزام عائد کیا کہ جے آئی ٹی نے حماد بن جاسم الثانی کا بیان ریکارڈ کرنے میں لیت ولعل سے کام لیا ہے۔

’سول ملٹری جھگڑے کا جے آئی ٹی کی کارروائی پر اثر ہوا ہے‘

غداری کیا ہے، غدار کون ہے؟

’اب یہ پتہ لگنا چاہیے کہ ملک کو اس نہج پر کس نے پہنچایا‘

میاں نواز شریف نے کہا کہ قطری شہزادے نے جے آئی ٹی سے خط و کتابت میں سپریم کورٹ میں پیش کیے گئے خطوط کی تصدیق کی تھی۔۔

سابق وزیر اعظم نے جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا کو ’متعصب‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی کو کسی مقدمے میں ملوث کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کے سربراہ نے عدالت میں غلط بیانی کی کہ جے آئی ٹی نے گواہوں کو پیشگی سوالنامہ نہ بھجوانے کا متفقہ فیصلہ کیا تھا تاہم جرح کے دوران اُنھوں نے اعتراف کیا کہ جیرمی فری مین کو اختر راجہ کے ذریعے سوالنامہ بھجوایا گیا۔

اُنھوں نے کہا کہ گلف سٹیل کے 25 فیصد شئیرز کی فروخت سے متعلق معاہدے سے ان کا کوئی تعلق نہیں رہا اور نہ ہی وہ ان شئیرز کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کو قطری خاندان کے ساتھ کاروبار میں سرمایہ کاری اور پھر لندن فلیٹس سے متعلق سیٹلمنٹ کا کبھی حصہ رہے ہیں۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے حسن نواز اور حسین نواز اپنے کیے کے خود ذمہ دار ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ احتساب عدالت نے اگر انھیں اشتہاری قرار دیا ہے تو یہ عدالتی عمل ان (نواز شریف) کے خلاف استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

عدالت کی طرف سے گلف سٹیل کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ اس حوالے متحدہ عرب امارات کے حکام کے جواب کو شواہد کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا۔

اُنھوں نے کہا کہ شواہد کی روشنی میں استغاثہ کی یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ وہ (نواز شریف) لندن فلیٹس کا بے نامی مالک ہیں۔

نواز شریف نے کہا کہ حدیبیہ پیپر ملز اور التوفیق بینک کے درمیان سیٹلمنٹ سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ سابق وزیر اعظم نے عدالت کی طرف سے پوچھے گئے 128 سوالوں میں سے 123 کے جوابات دے دیے ہیں اور وہ 23 مئی کو بھی اپنا بیان جاری رکھیں گے۔

سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم نے عدالت کو بتایا کہ مسلسل پڑھنے سے ان کے گلے میں مسئلہ ہوتا ہے اس لیے وہ اپنے وکیل خواجہ حارث کی مدد لینا چاہتے ہیں جس پر نیب پراسیکیوٹر نے اعتراض کیا تو نواز شریف نے خود ہی اپنا بیان پڑھنا شروع کر دیا۔

Did you find apk for android? You can find new Free Android Games and apps.
Advertisements
Show More

Related Articles

Close
Close