Advertisements
Want create site? Find Free WordPress Themes and plugins.

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے ممبئی حملوں کے بارے میں دیے گئے بیان کے تناظر میں قومی سلامتی کونسل کا اجلاس ختم ہو گیا ہے۔اسلام آباد میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں ہونے والے اس اجلاس میں عسکری حکام اور سول قیادت شرکت کر رہے ہیں۔گذشتہ روز آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستانی فوج نے وزیر اعظم کو قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کی تجویز دی ہے۔بیان میں کہا گیا تھا کہ اجلاس بلانے کا مقصد ممبئی واقعے کے حوالے سے ’گمراہ کن‘ میڈیا بیان پر بات چیت کرنا ہے۔مزید پڑھیئےممبئی حملے کا مقدمہ: تاخیر کا ذمہ دار انڈیا؟ممبئی حملے: ’انڈیا اس معاملے کو حل کرنا ہی نہیں چاہتا‘ نواز شریف کی ڈنڈا ڈولی دوسری جانب مسلم لیگ نون کے صدر اور وزیراعلیٰ پنجاب شبہاز شریف نے ایک ٹویٹ میں ڈان اخبار میں شائع ہونے والے خبر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ نون ڈان اخبار کی خبر میں کیے گئے تمام براہ راست یا بالواسطہ دعوؤں کو مسترد کرتی ہے۔ پاکستان اور اس کے تمام ادارے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں ایک ساتھ متحد کھڑے ہیں۔‘ٹویٹر پر جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا کہ ہمارا پختہ یقین ہے کہ پاکستان کا مفاد تمام ذاتی اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہیں۔
اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

نواز شریف کی سیاسی زندگی کے نشیب و فرازاس کے ساتھ انھوں نے کہا کہ ملکی مفاد پر کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے اپنے بیان میں کہا کہ اخباری رپورٹ میں بیان کو مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف سے غلط طور پر منسوب کیا گیا اور یہ مسلم لیگ نون کی پالیسی کی نمائندگی نہیں کرتا۔اس سے پہلے پاکستان مسلم لیگ نون کے ایک ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہےکہ انڈین میڈیا نواز شریف کے بیان کو غلط انداز سے پیش کر رہا ہے اور پاکستانی میڈیا حقائق جانے بغیر انڈیا کے پراپیگنڈے کا شکار ہے۔ خیال رہے کہ مقامی انگریزی اخبار ڈان میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق جب نواز شریف سے پوچھا گیا کہ انھیں عوامی عہدے سے ہٹانے کی کیا وجوہات ہوسکتی ہیں تو نواز شریف نے براہ راست جواب دینے کے بجائے اس کا رخ خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کی جانب موڑ دیا۔ ڈان اخبار کے مطابق نواز شریف نے کہا تھا کہ ‘ہم نے خود کو تنہائی کا شکار کر لیا ہے۔ ہماری قربانیوں کے باوجود ہمارے موقف کو قبول نہیں کیا جاتا۔ افغانستان کے موقف کو قبول کیا جاتا ہے، لیکن ہمارے نہیں۔ ہمیں اس جانب توجہ دینا ہوگی۔’ ڈان اخبار کے مطابق نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ ‘عسکری تنظیمیں فعال ہیں۔ انھیں غیرریاستی عناصر کہا جاتا ہے، کیا ہم انھیں اجازت دے سکتے ہیں کہ وہ سرحد پار جا کر ممبئی میں 150 لوگوں کا قتل کریں؟’ خیال رہے کہ انڈیا کے اقتصادی دارالحکومت کہلائے جانے والے شہر ممبئی میں 26 نومبر 2008 کو ایک حملہ ہوا تھا جو 60 گھنٹے تک جاری رہا اور اس حملے میں 150 سے زائد افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔ نواز شریف کے اس بیان پر پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جانب سے یہ بیان دیا گیا ہے کہ پاکستان نے غیرریاستی عناصر کو ممبئی جا کر قتل کرنے کی ‘اجازت’ دی تھی۔

@ImranKhanPTI کی ٹوئٹر پر پوسٹ کا خاتمہ

نواز شریف کا اصل چہرہ آج پوری طرح قوم کے سامنے ہے۔ اپنی سیاہ کاریاں بچانے کیلئے نواز شریف فوج، نیب اور سپریم کورٹ جیسے ریاستی ادارے تباہ کرنے پر ہی بضد نہیں بلکہ یہ پاکستان کے مستقبل سے کھلواڑ پر اترآیا ہے۔ https://t.co/l5NLMZxhaz— Imran Khan (@ImranKhanPTI) مئی 13, 2018

@ImranKhanPTI کی ٹوئٹر پر پوسٹ سے آگے جائیں

ان کا کہنا تھا کہ ‘نواز شریف کو اپنے گھر میں دہشت گردی کے خلاف عمل کرنا چاہیے۔ میں امید کرتی ہوں کہ ان کا وہ مطلب نہ ہو جیسا محسوس ہوا ہے۔’ نواز شریف کے بیان پر پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی کڑی تنقید کی ہے اور ٹوئٹر کے ذریعے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’نواز شریف اپنی سیاہ کاریاں بچانے کے لیے فوج، نیب اور سپریم کورٹ جیسے ریاستی ادارے تباہ کرنے پر ہی بضد نہیں بلکہ یہ پاکستان کے مستقبل سے کھلواڑ پر اتر آئے ہیں۔

Did you find apk for android? You can find new Free Android Games and apps.
Advertisements
0 Comments

Leave a reply

©2018 Cyberian.pk

 
or

Log in with your credentials

or    

Forgot your details?

or

Create Account