Advertisements
پاکستان

فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کی قومی اسمبلی سے منظوری

Want create site? Find Free WordPress Themes and plugins.

پارلیمانتصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

فاٹا کے انضمام کے لیے ہونے والی آئینی ترمیم کے حق میں 229 ووٹ آئے جبکہ ایک رکن نے اس کی مخالف کی۔

پاکستان کی قومی اسمبلی نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کی آئینی ترمیم منظور کر لی ہے۔

جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت کی جانب سے فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے لیے 31ویں آئینی ترمیم کا بل وزیر قانون و انصاف محمود بشیر ورک نے پیش کیا۔

اس موقع پر ایوان میں حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کی بڑی تعداد موجود تھی۔ پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان بھی ایک طویل عرصے کے بعد جمعرات کو ایوان میں آئے۔

اس آئینی ترمیم کے حق میں 229 ووٹ آئے جبکہ ایک رکن نے اس کی مخالف کی۔ ترمیم کی مخالفت کرنے والوں میں جمیعت علمائے اسلام ف اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے ارکان شامل تھے۔

اسی بارے میں مزید پڑھیے

فاٹا اصلاحات کے اہم نکات کیا ہیں؟

فاٹا اصلاحات، صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام پانچ سال بعد

فاٹا اصلاحات کی کہانی

فاٹا اصلاحات، سیاسی آرا منقسم

پاکستان الیکشن میں تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا

بل کی منظوری کے بعد پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ فاٹا کے انضمام کے لیے قانون سازی آسان کام نہیں تھا لیکن تمام سیاسی جماعتوں نے اس پر اتفاق رائے کر کے آئینی ترمیم کی منظوری دی۔

انھوں نے کہا کہ اسمبلی کی مدت مکمل ہونے سے پہلے پہلے فاٹا کے انضمام کے لیے قانون پاس کیا تاکہ کہیں اس کی وجہ سے الیکشن میں تاخیر نہیں ہو۔

وزیراعظم نے کہا کہ اسمبلی 31 مئی کو اپنی مدت مکمل کرے گی اور اُس کے 60 دن کے اندر اندر انتخابات ہونے چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ’پاکستان الیکشن میں تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے۔‘

قومی اسمبلی سے خطاب میں تحریکِ انصاف کے رہنما عمران خان نے کہا کہ قبائلی علاقوں سے کرپشن سمیت تمام جرائم کے خاتمے کی جانب یہ پہلا قدم ہے لیکن یہ اتنا آسان کام نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ جو لوگ فاٹا کے انضمام کی مخالفت کرتے ہیں اُن کے پاس میں موجودہ نظام کے متبادل کوئی اور نظام نہیں ہے۔

بل کے مسودے میں کیا ہے؟

قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے فاٹا اصلاحات بل کے مطابق آئین کی شق 246 میں ترمیم کرتے ہوئے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کو خیبر پختونخوا جبکہ صوبوں کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (پاٹا) کو متعلقہ صوبوں یعنی خیبر پختونخوا اور بلوچستان کا حصہ بنانے کی منظوری دی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں فاٹا کو آئندہ دس سال میں اضافی فنڈز دینے کی بھی توثیق کی گئی

خیبر پختونخوا کا حصہ بننے والے فاٹا کے علاقوں میں مہمند ایجنسی، باجوڑ ایجنسی، کرم ، شمالی اور جنوبی وزیرستان، خیبر اور اورکزئی ایجنسیوں کے علاوہ ایف آر پشاور، ایف آر بنوں، ایف آر کوہاٹ، ایف آر لکی مروت، ایف آر ڈیرہ اسماعیل خان اور ایف آر ٹانک کے علاقے شامل ہیں۔

خیبر پختونخوا کا حصہ بننے والا ’پاٹا‘ علاقوں میں چترال، دیر، سوات، کوہستان، مالاکنڈ اور مانسہرہ سے منسلک قبائلی علاقہ شامل ہیں۔

بلوچستان کا حصہ بننے والے پاٹا علاقوں میں ضلع ژوب، دکی تحصیل کے علاوہ باقی ضلع لورالائی، ضلع چاغی کی تحصیل دالبندین، ضلع سبی کے مری اور بگتی قبائلی علاقے شامل ہیں۔

ایف سی آر کا خاتمہ

آئینی ترمیم کے ذریعے 100 برس سے زیادہ عرصے تک قبائلی علاقہ جات میں نافذ رہنے والے قانون فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن یا ایف سی آر کو بالاخر ختم کر دیا گیا ہے۔

اس قانون میں سزا یافتہ شخص کو ایپل کا حق نہ ہونے وجہ سے اسے انسانی حقوق سے متصادم بھی قرار دیا جاتا رہا ہے۔

سنہ 1901 میں سابق برطانوی راج میں نافذ ہونے والے ایف سی آر قانون کے بعض شقوں کے مطابق کسی ایک شخص کی جرم کی خاطر پورے قبیلے کو پابند سلاسل کیا جا سکتا ہے۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں ایف سی آر کے خاتمے کی مسلسل حمایت کرتی رہی ہیں۔

قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں تبدیلی

فاٹا اصلاحات بل کے مطابق قبائلی علاقہ جات کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد 342 سے کم کر کے 336 کر دی جائے گی۔

انضمام کے بعد قومی اسمبلی میں قبائلی علاقوں کی 12 نشستیں ختم کر دی جائیں گی جبکہ اس کی جگہ خیبر پختونخوا سے قومی اسمبلی کی چھ نشستیں بڑھ جائیں گی۔ تاہم اس تبدیلی کا اثر 2018 کے عام انتخابات پر نہیں ہو گا۔

انضمام کے بعد قومی اسمبلی میں خیبر پختونخوا کی نشستوں کی تعداد 45 ہو جائے گی جبکہ اس کے علاوہ بلوچستان کی 16، پنجاب کی 141، سندھ کی 61 اور وفاقی دارالحکومت کی تین نشستیں ہوں گی۔

ترمیم کے مطابق 2018 کے عام انتخابات کے مطابق فاٹا سے منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی اپنی مدت پوری کریں گے۔

فاٹا سے سینیٹ کی آٹھ نشستیں بھی ختم کر دی گئی ہیں جس کے بعد اب سینیٹ کے ارکان کی تعداد 96 رہ جائے گی تاہم موجودہ سینیٹ میں فاٹا کے منتخب ارکان اپنی مدت پوری کریں گے۔

خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی میں قبائلی علاقہ جات کے لیے 16 عام، خواتین کی چار اور غیر مسلموں کی ایک نشست رکھی گئی ہے جن کے لیے انتخاب 2018 کے عام انتخابات کے ایک سال کے اندر اندر ہوگا۔

اس اضافہ کے بعد خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی کی عام نشستوں کی کل تعداد 115، خواتین کی نشستوں کی تعداد 26، اور غیر مسلموں کی نشستوں کی تعداد چار ہو جائے گی اور یوں یہ اسمبلی کل 145 ارکان پر مشتمل ہوگی۔

Did you find apk for android? You can find new Free Android Games and apps.
Advertisements
Show More

Related Articles

Close
Close