تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

پاکستان کی بّری فوج کے سربراہ جنرل باجوہ نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں امن آئے کچھ عرصہ ہی گزرا ہے کہ لوگوں نے ایک اور تحریک شروع کر دی ہے۔ جمعرات کو پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے راولپنڈی میں فوج کے جنرل ہیڈکوارٹرز میں فوجی اعزازات تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کیا۔خطاب میں جنرل باجوہ نے کہا کہ جو قومیں اپنے ہیروز کو بھلا دیتی ہیں وہ مٹ جاتی ہیں۔اس بارے میں مزید پڑھیے’باجوہ ڈاکٹرائین کو صرف سکیورٹی کے تناظر میں دیکھا جائے‘پشتون مارچ سے میڈیا غائب’کہا جاتا تھا ایسی باتیں آپ کو صرف موت دے سکتی ہیں‘’جائز آئینی حق کے لیے اسلام آباد تک مارچ کر سکتے ہیں‘جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستانی فوج کے اہلکاروں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دن بہ دن ترقی اور امن کی طرف جا رہا ہے اور یہ نہ ہو کہ جب ہمارے ملک میں پورا امن آ جائے تو ہم ان شہدا کی قربانیوں کو بھول بیٹھیں۔’کیونکہ ہماری قوم کی بھی تاریخ کو یاد رکھنے کی صلاحیت بہت کم ہے، ابھی آپ دیکھیں کہ کچھ ہی عرصہ ہوا ہے کہ فاٹا میں امن آیا ہے لوگوں نے ایک اور تحریک شروع کر دی ہے۔ باہر اور اندر سے جو کچھ لوگ پاکستان کی سالمیت کے در پہ ہیں۔ ہم ان کو بتانا چاہتے ہیں کہ جب تک یہ فوج اور اس کے پیچھے قوم کھڑی ہے پاکستان کو کچھ نہیں ہو سکتا۔‘تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل باجوہ نے مزید کہا کہ پاکستان اب مشکل حالات سے باہر نکل آیا ہے اور اب پاکستان کے اچھے دن آنے والے ہیں اور آج سے کچھ عرصے بعد جب ہم اور ترقی کی جانب جائیں گے تو میں آپ سے توقع رکھتا ہوں کہ شہدا اور ان کے ورثا کو مت بھلائیں گے کیونکہ جو قومیں ان کو بھلا دیتی ہیں وہ مٹ جاتی ہیں۔جنرل باجوہ نے فوجی اہلکاروں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ’آج ہم یہاں جن افسران نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ان کی کارکردگی کے اعتراف میں یہاں اکٹھے ہوئے ہیں اور اس سے بھی زیادہ انھیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں جنھوں نے اپنے سینے پر گولیاں کھائیں اور سب سے زیادہ جنھوں نے اپنی جان مادر وطن پر نچھاور کر دی۔‘خیال رہے کہ وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں نوجوانوں کی تنظیم پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) ان دنوں فاٹا میں گذشتہ کئی سالوں سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے تحریک چلا رہی ہے۔ پی ٹی ایم) کے سربراہ منظور پشتین نے کہا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا اس وقت تک ان کا پرامن احتجاج جاری رہے گا اور حکومت کو چاہیے کہ پشتونوں کو ان کا جائز آئینی اور انسانی حق دیا جائے ورنہ وہ اس کی حصول کے لیے آسلام آباد تک مارچ کر سکتے ہیں۔

Advertisements

©2018 Cyberian.pk

 
or

Log in with your credentials

or    

Forgot your details?

or

Create Account