پاکستان

فاٹا اصلاحات کے اہم نکات کیا ہیں؟

Want create site? Find Free WordPress Themes and plugins.

قبائلیتصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں فاٹا کو آئندہ دس سال میں اضافی فنڈز دینے کی بھی توثیق کی گئی

پاکستان میں وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کے حوالے سے آئینی ترمیم کا مسودہ جمعرات کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جا رہا ہے۔

حکومت پاکستان نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں اصلاحات کا جو منصوبہ 2 مارچ 2017 کو منظور کیا تھا اس میں ان قبائلی علاقوں کو پانچ طریقوں سے قومی دھارے میں لانے کی تجویز پیش کی گئی تھی اور اس پر مکمل عمل درآمد کے لیے پانچ برس کا عرصہ رکھا گیا ہے۔

سیاسی اصلاحات

سب سے اہم نکتہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کو سیاسی قومی دھارے میں لانا ہے۔ ایسا کرنے کے لیے انھیں پاکستان کی ایک سیاسی اکائی کے طور پر صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کیا جا رہا ہے۔ ایسا کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کی ضرورت تھی جو آج کی جا رہی ہے۔

قبائلی علاقوں میں سیاسی عمل کو دوام بخشنے کے لیے وہاں 2018 کے عام انتخابات کے فوراً بعد جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں گے۔ قبائلی علاق کو خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی میں نمائندگی اس کے بعد دی جائے گی اور 20 ارکان صوبائی اسمبلی میں قبائلی علاقوں کی نمائندگی کریں گے۔

مزید جاننے کے لیے پڑھیے

فاٹا کی صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کی توثیق

فاٹا اصلاحات، صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام پانچ سال بعد

فاٹا اصلاحات کی کہانی

‘فاٹا اصلاحاتی مسودے میں انضمام کا لفظ نہیں’

’فاٹا کو جلد از جلد خیبر پختونخوا میں ضم کیا جائے‘

قانونی اصلاحات

فاٹا میں موجودہ قانونی ڈھانچے فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن کو ختم کر کے پشاور ہائیکورٹ اور پاکستان کی سپریم کورٹ کا دائرہ ان قبائلی علاقوں تک وسیع کر دیا جائے گا۔

عدالتوں کا دائرہ اختیار ان علاقوں تک پھیلانے کے سلسلے میں قانون سازی کی جا چکی ہے اور ان ججوں کا انتخاب بھی کیا جا چکا ہے جو قبائلی علاقوں کے مقدمات سنیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

Image caption

ملک کے دیگر علاقوں کے طرح فاٹا میں بھی سول سروس کا ڈھانچہ ترتیب دیا جائے گا

انتظامی اصلاحات

فاٹا میں سات ایجنسیاں شامل ہیں اور ان سب کا انتظامی سربراہ پولیٹیکل ایجنٹ ہوتا ہے۔

قانونی اور سیاسی اصلاحات کے بعد ان علاقوں کے انتظامی امور کے نگرانی اس ایک دفتر کے لیے ممکن نہیں ہو گی۔

اس لیے ملک کے دیگر علاقوں کے طرح یہاں بھی سول سروس کا ڈھانچہ ترتیب دیا جائے گا۔

ابتدائی طور پر ملک کے باقی علاقوں سے یہاں خدمات انجام دینے کے لیے آنے والے افسروں کو اضافی تنخواہ دی جائے گی۔

سکیورٹی اصلاحات

قبائلی علاقوں میں امن عامہ اور سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری آہستہ آہستہ لیویز کو منقتل کی جائے گی۔

اس مقصد کے لیے لیویز میں مزید 20 ہزار افراد بھرتی کیے جائیں گے اور انھیں تربیت دینے کے علاوہ سازوسامان سے لیس کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ پولیس کو بھی جدید تربیت، اسلحہ اور عمارات فراہم کی جائیں گی۔

اس کے علاوہ ضرورت پڑنے پر نئی نیم فوجی دستے بھی تعینات کیے جا سکیں گے۔

معاشی اصلاحات

قبائلی علاقوں میں تعمیرات اور بحالی کے کام کے لیے 10 سال کے لیے 100 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ نیشنل فنانس کمیشن کے تحت فاٹا کے لیے ہر سال تین فیصد فنڈز ڈی ویزیبل پول سے جاری کیے جائیں گے اور کوئی بھی حکومت اس رقم کو کم یا ختم نہیں کر پائے گی۔

یہ رقم فاٹا میں تعمیر نو کے علاوہ وہاں معاشی سرگرمیوں کے لیے بھی استعمال کی جائے گی۔ ان میں قبائلی علاقوں میں مارکیٹس اور دیگر معاشی انفراسٹرکچر کی تعمیر بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ ان علاقوں میں عام اشیا کی قیمتیں کم کرنے کے لیے وہاں نافذ راہداری یا پرمٹ کا نظام ختم کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
PM HOUSE

Image caption

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں قومی سلامتی کمیٹی نے گذشتہ ہفتے فاٹا اصلاحات کی منظوری دی تھی

اصلاحات کی مخالفت

یہ تجاویز وزیر اعظم کے مشیر سرتاج عزیز کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی نے تیار کیں تھیں جنہیں کابینہ سے منظوری تو مل گئی تھی لیکن حکومت کے دو اتحادیوں مولانا فضل الرحمٰن اور محمود خان اچکزئی کی مخالفت کے باعث اس پر عمل مؤخر کیا جاتا رہا تھا۔

مولانا فضل الرحمٰن کا اصرار تھا کہ قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا کے ساتھ ضم کرنے کے بجائے اس الگ صوبہ بنا دیا جائے۔ سرتاج کمیٹی نے تجویز پر غور کرنے کے بعد اسے مسترد کر دیا تھا کیونکہ ماہرین کے مطابق فاٹا علاقے ایک صوبے کے طور پر انتظامی اور معاشی طور پر مستحکم اور خود مختار نہیں ہو سکے گا۔

اس سوال پر فضل الرحمٰن کی جانب سے فاٹا میں ریفرنڈم کروانے کے مطالبے کے جواب میں سرتاج عزیز کی کمیٹی نے کہا تھا کہ انھوں نے ساتوں ایجنیسیوں میں عوام اور ان کے نمائندوں کے ساتھ جرگے کیے تھے جن میں 90 فیصد لوگوں نے خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام کی حمایت کی تھی ۔ اس بنا پر ریفرنڈم کی تجویز کو مسترد کر دیا گیا تھا۔

حکومت نے اس معاملے پر مزید سیاسی مخالفت سے بچنے کے لیے اس معاملے کو گذشتہ ہفتے فوجی اور سول قیادت کے مشترکہ فورم قومی سلامتی کمیٹی میں پیش کیا تھا جس نے ان اصلاحات کی منظوری دے دی تھی۔

Did you find apk for android? You can find new Free Android Games and apps.
Advertisements
Show More

Related Articles

Close
Close