تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے عدلیہ مخالف بیانات نشر کرنے پر عبوری پابندی عائد کیے جانے کے فیصلے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے پیمرا سے شکایات کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔بی بی سی اردو کے نامہ نگار کے مطابق منگل کو ازخود نوٹس کی ابتدائی سماعت کے موقع پر اٹارنی جنرل نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ پیش کیا جبکہ عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور مریم نواز کو نوٹس بھی جاری کیے۔اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نواز شریف اور مریم نواز ذاتی حیثیت میں یا وکیل کے ذریعے پیش ہوں کیونکہ فریقین کی نمائندگی ضروری ہے۔خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے پیر کو عدلیہ مخالف بیانات نشر کرنے پر عبوری پابندی عائد کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ کے نگران ادارے پیمرا کو حکم دیا تھا کہ وہ تمام ٹی وی چینلز کی نشریات پر نظر رکھے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ عدلیہ مخالف پروگرام نشر نہ ہوں۔لاہور ہائی کورٹ نے یہ حکم ایڈووکیٹ اظہر صدیق کی طرف سے نواز شریف اور مریم نواز کی عدلیہ مخالف تقاریر کے خلاف درخواست کی سماعت کرتے ہوئے دیا تھا۔درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ ’ہم نے تقاریر کے خلاف پیمرا سے رجوع کیا لیکن وہاں حکومت نے اپنے لوگ لگائے ہوئے ہیں، جو شکایت پر نو ایکشن لکھ دیتے ہیں۔‘عدلیہ پر تنقید نواز شریف کو توہین عدالت کے نوٹسزپیمرا کو عدلیہ مخالف تقاریر کی نشریات روکنے کا حکمکیا تاحیات نااہلی کا فیصلہ بدلا جا سکتا ہے؟ پیمرا کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پیمرا ایک آزاد اتھارٹی ہے۔ پیمرا کے وکیل کا مزید کہنا تھا کہ پروگرام ہو تو چینل کو پتہ ہوتا ہے لیکن براہ راست تقریر میں ایک دو جملے بول دینے پر پیمرا فوری نہیں روک سکتا۔ انھوں نے کہا کہ عدالت سے درخواست ہے کہ یہ معاملہ پیمرا کو بھیج دیا جائے۔ اس پر عدالت نے پیمرا کو پندرہ روز میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔یاد رہے کہ حال ہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے مسلم لیگ کے سابق سینیٹر نہال ہاشمی کو عدلیہ مخالف بیان دینے پر سزا سنائی تھی اور جس بنا پر انھیں سینیٹ میں اپنی رکنیت سے بھی ہاتھ دھونا پڑے تھے۔عدلیہ مخالف بیانات دینے کے الزامات کا سامنا کئی اور اہم مسلم لیگی رہنماؤں کو بھی ہے۔درخواست گزار کی استدعا

عدلیہ مخالف تقاریر کے خلاف دائر درخواستوں میں موقف اختیار کیا تھا کہ مریم نواز کی جانب سے جلسے، جلوسوں اور سوشل میڈیا پر عدلیہ کو تضحیک کا نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ نواز شریف نے عدلیہ کے خلاف بغاوت کا اعلان کر کے عوام کو اکسایا ہے۔انھوں نے بتایا تھا کہ ان رہنماؤں کی عدلیہ مخالف تقاریر کا ریکارڈ عدالت میں جمع کرادیا ہے جبکہ ان تقاریر کو نشر کرنے سے روکنے کے لیے پیمرا کچھ نہیں کررہا۔درخواست گزار کا کہنا تھا کہ پاناما پیپرز کیس کا فیصلہ کرنے والے سپریم کورٹ کے بینچ کو مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی جانب سے مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور عدلیہ مخالف تقاریر اور بیانات نشر نہ کرنے کے حوالے سے پیمرا ناکام ہو چکا ہے۔درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ اعلیٰ عدلیہ کے خلاف بیان بازی کرنے پر نواز شریف، مریم نواز، طلال چوہدری اور رانا ثنا اللہ کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کرے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ پیمرا کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔

Advertisements

©2018 Cyberian.pk

 
or

Log in with your credentials

or    

Forgot your details?

or

Create Account