پاکستان

شمشان گھاٹ کی جگہ فراہم نہ کرنے پر متعلقہ حکام طلب

Want create site? Find Free WordPress Themes and plugins.

پشاور ہائی کورٹتصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

پشاور ہائی کورٹ نے صوبے میں سکھوں کو شمشان گھاٹ کے لیے فنڈز کی منظوری کے باوجود اب تک جگہ اور ایمبولینس فراہم نہ کرنے پر متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کر لی ہے۔

پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس اکرام اللہ جان اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل بنچ نے منگل کو اس مقدمے کی سماعت کی۔

سکھ کمیونٹی کی جانب سے بابا جی گروپال سنگھ نے عدالت کو بتایا کہ ان کی برادری میں میت کی آخری رسومات کے لیے انھیں صوبہ پنجاب کے شہر اٹک جانا پڑا کیونکہ پشاور اور صوبے کے دیگر اضلاع میں ان کے لیے کوئی شمشان گھاٹ نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پشاور: ہندو مردے جلانے کے بجائے دفنانے لگے

اسلام آباد میں شمشان گھاٹ کے لیے زمین الاٹ

ننکانہ صاحب میں 70 سال سے بند گرودوارہ کھولنے کا فیصلہ

ان کا مزید کہنا تھا کہ شمشان گھاٹ کے لیے زمین کی خریداری اور میت کو شمشان گھاٹ تک لے جانے کے لیے ایمبولینس فراہم کرنے کی منظوری دی جا چکی ہے اور اس کے لیے فنڈز دستیاب بھی ہیں لیکن زمین کی خریداری میں تاخیر کی وجہ سے دستیاب فنڈز ضائع ہو رہے ہیں۔

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق جسٹس مسرت ہلالی نے تاخیری حربوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انھیں معلوم ہے کہ حکومت سے کیسے پیسے نکالے جاتے ہیں؟

عدالت نے ڈپٹی کمشنر پشاور، ایڈمنسٹریٹر اوقاف اور ناظم ٹاؤن ون کو 31 مئی کو طلب کر لیا ہے۔

سکھ کمیونٹی کی جانب سے بابا جی گروپال سنگھ اور سابق رکن صوبائی اسمبلی سورن سنگھ نے یہ درخواست اڑھائی سال پہلے خورشید ایڈووکیٹ کی وساطت سے عدالت میں دی تھی۔

خورشید ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ تمام اقلیتوں کو بنیادی ضروریات پوری کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور سکھ اور ہندو ایک بڑے عرصے سے اس بنیادی مذہبی ضرورت سے محروم ہیں۔

بابا جی گروپال سنگھ کے مطابق خیبر پختونخوا میں 60,000 کے لگ بھگ بھگ سکھ اور ہندو آباد ہیں لیکن ان کے لیے شمشان گھاٹ اور مذہبی طریقے سے آخری رسومات ادا کرنے کے لیے کوئی مناسب جگہ نہیں ہے۔

Did you find apk for android? You can find new Free Android Games and apps.
Advertisements
Show More

Related Articles

Close
Close