پاکستان

سپائی کرانیکلز: را کے سابق سربراہ آئی ایس آئی کے مداح کیوں؟

Want create site? Find Free WordPress Themes and plugins.

سپائی کرانیکلزتصویر کے کاپی رائٹ
HarperCollins

پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل اسد درانی اور ان کے انڈین ہم منصب، ‘را’ کے سابق سربراہ امرجیت سنگھ دُلت کی انڈین مصنف ادتیا سنہا کے ساتھ مل کر لکھی گئی کتاب ‘دا سپائی کرانیکلز : را، آئی ایس آئی اینڈ الُوژنز آف پیس’ نے سرحد کے دونوں جانب بحث مباحثے کے نئے در کھول دیے ہیں۔

اس کتاب میں دونوں جاسوسوں نے اپنے اپنے کیرئیر اور دونوں ممالک کے درمیان تلخ تعلقات کے بارے میں کھل کر بات کی ہے اور ماضی کے کئی اہم واقعات پر روشنی ڈالنے کے علاوہ مستقبل میں امن حاصل کرنے کے لیے روڈ میپ کے حوالے سے بھی بات کی ہے۔

اسی بارے میں

’سیاستدان ایسی کتاب لکھتا تو غداری کے فتوے لگتے‘

‘ریڈ کارپٹ بچھائیے، جنرل باجوہ کو دلی بلائیے’

اس کتاب کے لیے دونوں افسران اور ادتیا سنہا نے بنکاک، استنبول اور کھٹمنڈو میں 2016 اور 2017 میں چار مختلف مواقعوں پر ملاقاتیں کیں۔

تقریباً 350 صفحات پر مبنی اس کتاب کے چند اقتباسات قارئین کے زیر نظر ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

جنرل اسد درانی نے کہا کہ پاکستانی وزرا اعظم آئی ایس آئی پر بھروسہ نہیں کرتے

کیا پاکستانی وزیر اعظم آئی ایس آئی سے خوفزدہ ہوتے ہیں؟

پاکستان خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ جنرل اسد درانی نے کہا کہ پاکستانی وزرا اعظم آئی ایس آئی پر بھروسہ نہیں کرتے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ملکی سلامتی کے اہم معاملات پر آئی ایس آئی خود فیصلے کرتی ہے اور ہمیں اس کے لیے فوج کو یا حکومت کو بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

آئی ایس آئی اور انڈیا میں اس کی شہرت

را کے سربراہ امرجیت سنگھ دُلت کہتے ہیں کہ ‘اگر آئی ایس آئی اتنی موثر تنظیم نہ ہوتی تو ہر روز انڈیا میں اس پر الزام نہیں لگ رہا ہوتا۔ جب بھی انڈیا میں کوئی واقعہ ہوتا ہے اس کا الزام آئی ایس آئی پر لگتا ہے۔ یہ دنیا بھر کی تمام خفیہ ایجنسیوں میں سے سب سے دلچسپ ایجنسی ہے۔ مجھ سے ماضی میں ایک پاکستانی ٹی وی چنیل نے آئی ایس آئی کے بارے میں پوچھا تو میں نے کہا کہ اگر میں اس کا سربراہ بن جاؤں تو مجھے بے حد خوشی ہو گی۔’

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

را کے سابق سربراہ اے ایس دلت کہتے ہے کہ جب بھی کوئی انڈیا میں کوئی واقعہ ہوتا ہے اس کا الزام آئی ایس آئی پر لگتا ہے

آئی ایس آئی یا را، بہتر کون؟

اس سوال پر کہ دونوں ایجنسیوں میں بہتر کون ہے، اسد درانی کہتے ہیں کہ دس سال قبل ایک ویب سائٹ پر مختلف فہرستیں سامنے آئیں جن میں دنیا کی بہترین خفیہ ایجنسیوں کی فہرست میں آئی ایس آئی پہلے نمبر پر تھی۔

اسی بارے میں اے ایس دُلت کہتے ہیں کہ را کا قیام آئی ایس آئی سے تقریباً 20 سال کے بعد آیا اور یہ مناسب نہیں ہو گا کہ دونوں تنظیموں کا موازنہ کیا جائے۔ ساتھ ساتھ انھوں نے کہا کہ را اور انڈین اداروں نے کئی ایسے کام کیے ہیں جن کے بارے میں لوگوں کو علم نہیں ہے اور نہ ہی انھیں اس کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے۔

اسد درانی نے بھی اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ضروری نہیں ہے کہ کا آپ کا نمبر کون سا ہو۔ ‘اصل بات یہ ہوتی ہے کہ آپ اپنا کام موثر طریقے سے کریں اور خاموش رہیں، جیسے انڈیا والوں نے مکتی باہنی کے ساتھ کیا تھا۔’

انھوں نے مزید کہا کہ آئی ایس آئی کی ایک اور بڑی کامیابی یہ ہے کہ آج تک کسی جاسوس نے اپنی ہمددردیاں نہیں بدلیں اور نہ ہی رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔

آئی ایس آئی اور را کی بڑی ناکامیاں کیا ہیں؟

اسی حوالے سے اے ایس دُلت کہتے ہیں کہ آئی ایس آئی کے جاسوس کو نہ گرفتار کرنا نہ اس کی ہمدردیاں تبدیل کرانا را کی بڑی ناکامیوں میں سے ایک ہے۔

دوسری جانب اسد درانی نے آئی ایس آئی کی ناکامیوں کے حوالے سے کہا کہ ‘جب کشمیر کے مسئلے شروع ہوتا تو ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ کس قدر سنجیدہ اور طویل معاملہ بن جائے گا۔ یہ سب چیزیں جب شروع ہوتی ہیں تو وہ چھ ماہ، سال بھر چلتی ہیں لیکن جب وہ لمبی ہو گئی تو اس کو سنبھالنا مشکل ہو گیا اور کشمیری بغاوت پر ہمارا کنٹرول اتنا کامیاب نہیں رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

جنرل اسد درانی کے مطابق حافظ سعید کے خلاف عدالتی کارروائی بہت مہنگی پڑ سکتی ہے

حافظ سعید کامعاملہ کیا ہے؟

اے ایس دُلت کتاب میں سوال کرتے ہیں کہ لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ سعید پاکستان کی کس طرح مدد کرتے ہیں۔ اس بارے میں اسد درانی نے کہا کہ سوال یہ ہونا چاہیے کہ پاکستان حافظ سعید کے بارے میں کیا کر سکتا ہے۔

اس بارے میں انھوں نے مزید کہا: ‘اگر ہم حافظ سعید کے خلاف عدالتی کارروائی کریں تو الزام لگے گا کہ یہ انڈیا کے ایما پر کیا جا رہا ہے اور وہ معصوم ہے۔ ایسے کسی بھی عمل کا سیاسی نقصان بہت زیادہ ہے۔ حافظ سعید کے خلاف عدالتی کارروائی بہت مہنگی پڑ سکتی ہے۔’

کلبھوشن جادھو کا کیا ہوا؟

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو کے بارے میں اے ایس دلت کہتے ہیں کہ اتنے سینئیر افسر کو کھلے عام کیسے بھیجا جا سکتا ہے

انڈین نیوی کے اہلکار کلبھوشن جادھو کے بارے میں بات کرتے ہوئے اے ایس دُلت کہتے ہیں کہ ‘آپ اپنی بحریہ کے کسی سینئیر افسر کو کیسے کھل عام بلوچستان یا چمن بھیج سکتے ہیں۔ وہ کیا کر رہے تھے وہاں پر؟’

انھوں نے کہا کہ جاسوسوں کا پکڑے جانے کوئی انوکھی بات نہیں ہے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا اور نہ ہی اس بارے میں کوئی وضاحت دی گئی ہے۔

‘اس معاملے میں آئی ایس آئی کی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ انھوں نے جاسوس کو فوراً ٹی وی کے سامنے پیش کر دیا۔ یہ ویسے ہی تھا جب کارگل کی جنگ میں ہم نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل مشرف اور جنرل عزیز کی گفتگو ریکارڈ کی اور سامنے لے آئے۔’

کارگل کی جنگ

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

Image caption

جنرل اسد درانی کے مطابق کارگل کی جنگ پاک فوج کے اس وقت کے سربراہ جنرل مشرف کا جنون تھا

سال 1999 میں پاکستان اور انڈیا کے مابین کارگل کے مقام پر ہونے والی جنگ کے بارے میں اے ایس دُلت نے سوال کیا کہ وہ جنگ کیسے شروع ہوئی اور اس کے پیچھے کیا عوامل تھے۔

اس پر جنرل اسد درانی جواب میں کہتے ہیں کہ وہ پاکستان کے اُس وقت کے فوجی سربراہ جنرل مشرف کا جنون تھا۔

پاکستان کے پاس کچھ علاقے تھے جو کے سٹریٹیجک طور پر اہمیت کے حامل تھے لیکن 1971 کی جنگ کے بعد پاکستان ان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہمارے فوجی سربراہ کی یہ حماقت تھی کہ وہ کھلی لائن پر باتیں کر رہے تھے اور اگر انڈینز نے وہ گفتگو ریکارڈ کر لی تو وہ اپنا کام کر رہے تھے۔

اسامہ بن لادن کا معاملہ

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

اسامہ بن لادن کا ایبٹ آباد میں مکان جسے فروری 2012 میں مہندم کر دیا گیا

اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی پر سوال کے جواب میں جنرل اسد درانی نے کہا کہ ‘میں یہ ٹی وی پر پہلے بھی کہ چکا ہوں کہ شاید ہم نے ان کو چھپا کے رکھا تھا یا ہمیں بعد میں علم ہو گیا تھا کہ وہ پاکستان میں ہی ہیں اور آئی ایس آئی نے فیصلہ کیا کہ امریکہ سے مشترکہ معاہدے کے بعد انھیں وہاں سے لے جایا جائے۔ دوسری جانب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آئی ایس آئی نے امریکہ کو کہا ہو کہ آپ اسامہ کو لے جائیں اور ہم اس بارے میں ناواقفیت کا بہانہ کر لیں گے۔’

اے ایس دُلت نے اس پر کہا کہ ‘را’ کے اندازے کے مطابق ایسا ہی ہوا اور پاکستان نے اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کیا ہے۔

اسی بارے میں مزید بات کرتے ہوئے اسد درانی نے سوال کیا کہ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ پاکستان کو اس سے کیا فائدہ ہوا۔

‘ہمیں ناکارہ کارکردگی پر دھتکارا گیا، کہا گیا کہ ہم دوغلا پن کر رہے ہیں، اور ہمیں کیا ملا ان سب الزامات سے؟ میں یہ جاننا چاہتا ہوں۔’

اس پر اے ایس دُلت نے سوال اٹھایا کہ اسامہ بن لادن کی موت سے کچھ ہی دن قبل اُس وقت کے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کسی اہم امریکی فوجی افسر سے ملاقات کی تھی اور اس کے بعد اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کیا گیا جس سے یہ ملاقات کافی معنی خیز محسوس ہوتی ہے۔

جس پر جنرل اسد درانی نے کہا کہ جنرل کیانی نے امریکی فوج کے جنرل ڈیوڈ پیٹریاس سے ملاقات کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

اسد درانی کے مطابق جنرل کیانی نے اسامہ بن لادن کی موت سے کچھ روز قبل امریکی جنرل پیٹریاس سے ملاقات کی تھی

کیا شکیل آفریدی نے امریکیوں کی مدد کی تھی؟

‘را’ کے سابق سربراہ نے اسد درانی سے سوال کیا کہ پشاور کے ڈاکٹر شکیل آفریدی کا اسامہ بن لادن کے معاملے میں کیا کردار تھا۔

اس پر جنرل اسد درانی نے کہا کہ انھوں نے پولیو کے قطروں کے جعلی پروگرام کی مدد سے اسامہ بن لادن کی موجودگی کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔

‘میرا خیال ہے کہ امریکیوں کو شکیل آفریدی سے اسامہ کے بارے میں معلومات ملیں لیکن وہ واحد ذریعہ نہیں تھے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ایک سابق پاکستانی فوجی افسر جو کہ خفیہ اداروں سے منسلک تھا، اس نے امریکیوں کو اسامہ کے بارے میں آگاہ کیا۔ میں اس کا نام نہیں لینا چاہتا کیونکہ میں اپنے الزامات ثابت نہیں کر سکوں گا اور نہ ہی میں اس کو کوئی مشہوری دلوانا چاہتا ہوں۔’

Did you find apk for android? You can find new Free Android Games and apps.
Advertisements
Show More

Related Articles

Close
Close