Advertisements
Want create site? Find Free WordPress Themes and plugins.

تصویر کے کاپی رائٹ
AYSHA MUGHAL

سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی نے بھی ملک میں موجود تیسری صنف یعنی خوجہ سراؤں کے وجود کو تسلیم کرنے اور انھیں بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کے لیے بل پاس کیا ہے۔ دا ٹرانسجینڈر پرسن پروٹیکشن آف رائٹس بل 2018 جو اب ملکی قانون کا حصہ بن چکا ہے کی تیاری میں ملک کی پہلی خواجہ سرا لیکچرر عائشہ مغل نیشنل ٹاسک فورس کا حصہ تھیں۔ 27 سالہ عائشہ نے بی بی سی کی نامہ نگار حمیرا کنول سے گفتگو میں اپنی کہانی شیئر کی۔مجھے آج بھی اسلام آباد کی کام سیٹس یونیورسٹی کے وہ چھ سال یاد ہیں جو میرے لیے سکول، کالج اور بچپن کے دور سے زیادہ اذیت ناک تھے۔ لیکن آج مجھے اپنا پڑھائی نہ چھوڑنے کا فیصلہ درست لگتا ہے۔ میں شاید اگر ایسا نہ کرتی تو اپنی تلاش کے باوجود ادھوری رہ جاتی۔ اس جدوجہد کا حصہ نہ بن پاتی جو میں نے پاکستانی پارلیمان کے ساتھ مل کر اپنی کمیونٹی کے حق میں قانون سازی کے لیے کی۔ میرا بچپن عمان میں گزرا جہاں میرے والد کاروبار کے سلسلے میں مقیم تھے۔ ہم تین بھائی ہیں کوئی بہن نہیں تھی لیکن مجھے میک اپ، لڑکیوں کے کپڑے، مہندی لگانا یہ سب شروع سے ہی بہت اچھا لگتا تھا۔ اپنے گھر میں تو سب ٹھیک تھا لیکن جب ہم پاکستان آتے تو میرے کزنز میرا مذاق اڑاتے اور کہتے’ کہ تم تو نہ تین میں ہو نہ تیرہ میں ہو۔‘ مزید پڑھیے’میری شناخت بحیثیت خواجہ سرا ہے‘ببلی کا جوبن کیفے بند کیوں ہوا؟ ’جو خواب دیکھا تھا اس کی پہلی سیڑھی چڑھ گئی ہوں‘میں لاشعوری طور پر خود کو لڑکی ہی تصور کرتی تھی لیکن یونیورسٹی کے دور سے پہلے تک یہ کبھی ممکن نہیں ہو سکا کہ میں اپنا مسئلہ اپنی تکلیف کسی کو بتا سکوں۔ میٹرک کے بعد میرے والدین عمان سے مستقل طور پر پاکستان آگئے اور میرا کالج میں ایڈمیشن کروا دیا گیا۔ پاکستان میں میرے لیے کچھ بھی نہیں بدلا تھا۔ وہی القابات اور مذاق کالج کے اندر بھی اور خاندان میں بھی۔ میں لوگوں کے لیے ایک تفریح تھی ایسے میں سوائے کتابوں کے میرے پاس اپنے مسائل اور تکلیف سے فرار کے لیے کچھ نہیں تھا۔ والدین اور مجھ میں ابتدا سے ہی ایک فاصلہ رہا۔ امی تو مجھے کبھی کبھار ڈانٹ ڈپٹ کر کہہ دیتی تھیں کہ لڑکیوں کے انداز میں مت بولو مت چلو لیکن میرے والد نے مجھے کبھی ٹوکا نہیں۔ نہ تب جب میں بچپن میں ہاتھوں پہ مہندی اور گڑیا سے کھیلنے کی شوقین تھی اور نہ اب جب خاندان میں میرا مذاق اڑایا جانے لگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Kami

Image caption

تاریخ میں ہم پہلی دفعہ سب کے برابر ہیں: خواجہ سرا ماڈل کِم سد

سالوں پر محیط پہچان کا سفریونیورسٹی میں بی بی اے کرنے کے لیے ایڈمیشن تو لے لیا لیکن جب بھی مجھے میرے کلاس فیلوز اور دیگر طالب علم کلاس میں یا لیکچر ہال میں داخل ہوتے دیکھتے تو آوازیں کسنا شروع ہو جاتےوہ مجھے سسٹر سسٹر کہتے۔ نہ دوست میرے اساتذہ کوئی بھی آگے بڑھ کر مذاق اڑانے والوں کو چپ کروانے کی ہمت نہیں کرتا تھا۔لیکن مجھے معلوم تھا کہ اگر میں نے پریشان ہو کر پڑھائی چھوڑی تو مجھے آنے والے وقت میں زیادہ بری صورتحال سے گزرنا ہو گا۔مجھے اپنے اردگرد تو اپنے جیسے لوگ نہیں دکھائی دیتے تھے اگر وہ نظر آتے تھے تو فقط سڑکوں پر بھیک مانگتے شادیوں اور محلوں میں بچوں کی پیدائش پر تالیاں بجاتے اور ڈانس کرتے۔ اب مجھے خواجہ سرا کمیونٹی اور اس سے جڑے اپنے اٹوٹ رشتے کا ادراک ہو چکا تھا۔ میں نیٹ پر سرچ کرتی تھی اپنی شناخت،کمیونٹی کے مسائل جن میں صحت تعلیم اور دیگر سماجی مشکلات شامل ہیں سے روشناس ہو چکی تھی۔ مجھے اپنے احساسات اور شناخت کے بارے میں سوال کرنے کا موقع پہلی بار اس وقت ملا جب میری رہنمائی سائیکالوجی ڈیپارٹمنٹ کی ایک پروفیسر نے کی۔ لیکن پہچان کا یہ سفر مہینوں نہیں بلکہ سالوں پر محیط تھا۔ میں جو خود کو ایک لڑکی سمجھتی تھی میں نے اپنے والدین سے چھپ کر اپنی پاکٹ منی کے بل بوتے پر نہ صرف نفسیاتی معالج سے رابطہ کیا بلکہ مذہبی رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش بھی کی۔ لیکن کوئی وظیفہ میرے نسوانی محسوسات کو نہ بدل سکا۔ نہ ہی کوئی معالج میرے جسم اور روح کے درمیان موجود مختلف کیفیت اور صورتحال کو کسی بیماری کا نام دے سکا۔ مگر میں نے کوششیں جاری رکھیں اور بالآخر راولپنڈی کے بے نظیر ہاسپٹل کے شعبہ نفسیات سے منسلک ماہرین نے میری شناخت سے متعلق میری رہنمائی کی۔ اسی عرصے کے دوران میں نے خواجہ سرا گرو ببلی ملک کو ہماری کمیونٹی کے مسائل پر بات کرتے سنا۔ میں نے تگ و دو کر کے ان کا نمبر حاصل کیا اور ان سمیت دیگر خواجہ سراؤں سے ملنے ملانے لگی۔ سنہ 2013 میں جب بی بی اے مکمل ہونے کو تھا تو میں نے اس دوران ہی ایک فرم کے اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ میں نوکری کی۔ اب ایسا نہیں تھا کہ کوئی مجھ پر براہ راست جملہ کسے لیکن اب تضحیک کا انداز بدل گیا تھا۔ مجھے اپنے ساتھ کام کرنے والے ساتھیوں کی آنکھوں میں چھپا طنز بھی صاف دکھائی دیتا تھا اور پیٹھ پیچھے کہے گئے ادھورے جملے بھی اکثروبیشتر میرے کانوں میں پڑتے رہتے تھے۔لیکن اس سب کے باوجود اب میں نے اپنی شناخت کو ظاہر کرنے کا فیصلہ کیا۔ والد سے بات کی تو انھوں نے اپنی برسوں پرانی چپ توڑ دی۔ انھوں نے کہا یہ ناممکن ہے میں تمھیں اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔ میرے گھر سے باہر نکلنے پر کسی سے بھی ملنے جلنے پر پابندی عائد کر دی گئی میں گھر میں تین ماہ تک نظر بندی رہی۔ یہ وہ وقت تھا جب میں بی بی اے کے رزلٹ کی منتظر تھی۔ ’جب قائداعظم یونیورسٹی کو وضاحتی بیان دینا پڑا‘اسی عرصے میں میں نے ایم فل کرنے کی ٹھانی میں ایک بار پھر والد کے سامنے کھڑی ہو گئی اور میں نے انھیں سمجھانے کی کوششُ کی کہ میں اپنی شناخت لے کر نہ تو سڑکوں پر بھیک کے لیے گھوموں گی اور نہ ہی ڈانس کروں گی۔ انھوں نے مجھے پڑھنے کی اجازت تو دی لیکن شناخت ظاہر کرنا ناممکنات میں ہی رہا۔ میں نے 2014,میں ایم فل میں اب ہیومن ریسورس کے علاوہ جینڈر سٹڈی کا مضمون بھی رکھ لیا۔ مجھے اپنی صنف کے حقوق اور مسائل سے متعلق بہت کچھ پڑھنے کا موقع ملا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

حالیہ عرصے میں ملک میں بہت سے خواجہ سراؤں پر حملوں اور ان کی ہلاکتوں کی خبریں سامنے آئیں

اگلے دو برس کے عرصے میں میں نے ایک کالج میں بھی پڑھایا میری اچھی کارکردگی پر مجھے امتحانات کے شعبے کا اضافی چارج بھی دیا گیا۔ میرے والدین ایک بار پھر چپ سادھ چکے تھےلیکن میرا وجود شناخت کے اعلان نہ کرنے پر بھی عیاں تھا اور میرا خاندان اب باخبر ہو چکا تھا۔ جب 2016 میں میرا ایم فل مکمل ہوا تو میں نے اپنی شناخت ظاہر کر دی۔ میرا بائی کاٹ تو ہوا ہی میرے والدین سے بھی بہت سے دوست اور رشتے دار ملنے جلنے سے کترانے لگے۔ لیکن یہ سب میرے اختیار سے باہر تھے۔میری زندگی میں ایک اہم موڑ 2017 میں آیا جب ملک کی سب سے بہترین شمار کی جانے والی یونیورسٹیز میں سے ایک قائداعظم یونیورسٹی نے مجھے مہمان سپیکر کے طور پر جینڈر سٹڈی ڈیپارٹمنٹ میں بلایا۔ کسی نے سوشل میڈیا پر یہ خبر دے دی کہ یونیورسٹی نے ایک خواجہ سرا کو نوکری دے دی ہے۔ جس پر یونیورسٹی انتظامیہ نے میری اجازت سے ایک بیان جاری کر کے اس خبر کی تردید کی۔اس کے بعد میں نے نیشنل کمیشن فارہیومن رائٹس پاکستان کے ساتھ کام کا آغاز کر دیا۔ساتھ ہی میں نے اپنی شناخت ظاہر کر کے نوکری کے لیے مختلف جگہوں پر سی وی دینا شروع کی۔ میں ایک بار پھر قائداعظم یونیورسٹی گئی اور اسی ڈیپارٹمنٹ میں بطور ویزیٹنگ فکیلٹی میں پڑھانا شروع کر دیا۔ میری 27 سالہ زندگی کے ایک خوبصورت دور کا آغاز تھا۔ مجھ سے پہلی بار ہتک، جملے بازی اور مزاح کے بجائے ایک عام انسان جیسا برتاؤ کیا گیا۔ اور مجھے اپنی کمیونٹی کے پہلے لیکچرر کی حیثیت سے جانا جانے لگا۔ میرے ساتھی کولیگز اور میرے سٹوڈنٹس میں شامل طلبا و طالبات نے مجھے وہی عزت دی جو ایک عام انسان کا حق ہے۔

Image caption

باعزت روزگار اور خاندان کی مدد نہ ملنے کی وجہ سے خواجہ سراؤں کی اکثریت سڑکوں پر بھیک مانگتی یا شادی بیاہ میں ڈانس کرتی دکھائی دیتی ہے

ان کا کہنا ہے کہ میں نے ایک مشکل راستے کا انتخاب کیا ہے لیکن وہ میرے عزم ہمت اور مستقل مزاجی کو داد دیتے ہیں۔ گذشتہ برس اگست میں جب میں خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیے سرگرم تھی ایوان بالا کی کمیٹی برائے انسانی حقوق نے خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیے بل کے حوالے سے ماضی کے برعکس اس بار ہماری کمیونٹی سے رابطہ کیا اور ہمارے ممبر کمیٹی کی معاونت کے لیے موجود ٹاسک فورس میں شامل کیے گئے۔ میں بھی اس ٹاسک فورس کا حصہ تھی اور بہت سے مواقع ایسے آئے جب ہمیں سخت سوالات اور برے رویوں کو برداشت کرنا پڑا طویل کاوش کے بعد اب یہ بل کمیٹی سے پاس ہو کرسینیٹ اور قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد اب ملک کا قانون بن چکا ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ قانون ہماری شناخت کو باعزت طور پر تسلیم کروانے میں مدد دے گا۔ہمارے کہے پر یقین کیا جائے گا ہمیں میڈیکل بورڈ کے سامنے جانے کی اذیت برداشت نہیں کرنی پڑے گی، تعلیم، صحت اور پیشے یا کاروبار کے چناؤ اور ایک عام انسان کی طرح جینے کا حق ملے گا۔ میں اپنے گھر میں اپنی شناخت کے ساتھ رہنے کی اجازت تو حاصل نہیں کر سکی لیکن میں مطمئن ہوں کہ اب وقت بدل رہا ہے شاید آنے والے کل میں میرا خاندان بھی سماجی دباؤ کے بجائے قدرت کے فیصلے اور قانون کو تسلیم کرنا شروع کر دے۔

Did you find apk for android? You can find new Free Android Games and apps.
Advertisements
0 Comments

Leave a reply

©2018 Cyberian.pk

 
or

Log in with your credentials

or    

Forgot your details?

or

Create Account