Advertisements
Want create site? Find Free WordPress Themes and plugins.

کوئٹہ میں پریس کلب کے باہر ہزارہ برداری سے تعلق رکھنے والی حقوقِ انسانی کی کارکن ایڈووکیٹ جلیلہ حیدر نے اپنی تادمِ مرگ بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے اور وہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کے لیے کوئٹہ کینٹ پہنچ گئی ہیں۔اس سے قبل جلیلہ حیدر نے کہا تھا کہ جب تک پاکستان فوج کے سربراہ ان کے کیمپ میں نہیں آئیں گے تب تک ان کی تادمِ مرگ بھوک ہڑتال جاری رہے گی۔ تاہم دو مئی کو رات تین بجے کے قریب پاکستان کے وزیرِ داخلہ احسن اقبال ایڈووکیٹ جلیلہ حیدر کے کیمپ میں پہنچ گئے۔کوئٹہ سے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق احسن اقبال نے جلیلہ حیدر اور ان کے ساتھ تادمِ مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھی ٹارگٹ کلنگ سے متاثرہ دوسری خواتین سے مذاکرات کیے جس کے بعد انھیں نے ان خواتین کو جوس پلا کر ان کی بھوک ہڑتال ختم کی اور انھیں اپنے ساتھ لے کر کوئٹہ چھاؤنی کی طرف روانہ ہو گئے۔ ’کوئٹہ میں اتنے دنبے ذبح نہیں ہوئے جتنے ہزارہ قتل ہوئے‘’گولی کھانے کے بجائے زندگی کا خاتمہ جدوجہد کرتے ہو جائے‘ادھر بی این پی کے رہنماؤں نے بھی تادم مرگ بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے اور احتجاجی ارکان اپنا سامان لپیٹ کر چلے گئے ہیں۔ جنرل قمر باجوہ کوئٹہ میں امن و امان کی صورت حال کا جائزہ لینے اور ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے عمائدین اور سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کے لیے منگل کی شب کوئٹہ پہنچے تھے۔ کوئٹہ پہنچنے کے بعد جنرل باجوہ نے کوئٹہ کینٹ میں ہزارہ برادری کے عمائدین اور مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں سے ملاقات کی جو رات گئے تک جاری رہی۔ اس موقعے پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبد القدوس بزنجو، وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال، صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی اور کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کے علاوہ دیگر اعلیٰ سویلین اور فوجی حکام بھی موجود تھے۔کوئٹہ کینٹ میں ہونے والی ملاقات کے بعد پاکستانی ذرائع ابلاغ نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے خبر دی کہ اس ملاقات کے بعد ہزارہ عمائدین احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، تاہم جلیلہ حیدر کا دھرنا جاری رہا جو احسن اقبال سے مذاکرات کے بعد ختم کر دیا گیا۔جلیلہ حیدر کے کیمپ میں رات گئے تک لوگوں کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ان کے بقول ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں تین ہزار خواتین بیوہ ہوئی ہیں اس لیے فوج کے سربراہ کو ان کی بات سننی چاہیے۔ واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے کوئٹہ میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف قبیلے کے افراد نے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا تھا۔

Image caption

جلیلہ حیدر کے کیمپ میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی

اس سلسلے میں نہ صرف شہر صرف مختلف علاقوں میں احتجاجی دھرنا دیا گیا تھا بلکہ پریس کلب کے باہر دو علیحدہ علیحدہ کیمپوں میں تادم مرگ بھوک ہڑتال بھی شروع کی گئی تھی۔

Did you find apk for android? You can find new Free Android Games and apps.
Advertisements

©2018 Cyberian.pk

 
or

Log in with your credentials

or    

Forgot your details?

or

Create Account