Advertisements
Want create site? Find Free WordPress Themes and plugins.

Image caption

جلیلہ حیدر کا کہنا تھا کہ کوئی چاہتا ہی نہیں کہ ہزارہ برادری کی ہلاکتیں رکیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں شیعہ ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں رواں ماہ کے دوران اچانک تیزی دیکھنے میں آئی ہے اور اب تک ایسے واقعات میں نصف درجن سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والی سیاسی و سماجی کارکن اور وکیل جلیلہ حیدر نے ان ہلاکتوں کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے تادمِ مرگ بھوک ہڑتال کر رکھی ہے۔ان کا مطالبہ ہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کوئٹہ آ کر بذاتِ خود حالات کا جائزہ لیں تاکہ انھیں حالات کی سنگینی کا اندازہ ہو سکے۔اسی بارے میںپانچ سو دسواں ہزارہ ہزارہ کہاں جائیں؟ ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف تادم مرگ بھوک ہڑتالایسی بھی کیا جلدی؟ بی بی سی اردو کے محمد کاظم سے بات کرتے ہوئے جلیلہ حیدر کا کہنا تھا کہ انھوں نے بھوک ہڑتال کا فیصلہ کہیں شنوائی نہ ہونے کے بعد کیا۔’ہم نے ہر فورم استعمال کیا، ہر جگہ گئے۔ 100 جنازوں کے ساتھ بیٹھے اسی کوئٹہ شہر میں فروری کی ٹھنڈ میں۔ کوئی شنوائی نہیں ہے ہماری کیونکہ سکیورٹی ناکام ہو چکی ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ہزارہ برادری کی ہلاکتیں رکوانے میں کوئی دلچسپی ہی نہیں لیتا۔ ’ہمارے نام پر بجٹ آتا ہے، ہماری لاشوں سے تو فائدہ ہوتا ہے۔ جنگ فائدہ مند کاروبار ہے۔ کوئی چاہتا ہی نہیں اسے ختم کریں۔ جب بھی بجٹ آنا ہوتا ہے، الیکشن آنے ہوتے ہیں، بین الاقوامی سیاست ہوتی ہے، کولیشن سپورٹ فنڈ آنا ہوتا ہے تو ہم بچارے قربانی کے بکرے ہوتے ہیں۔‘انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’کوئٹہ میں شاید اتنے دنبے ذبح نہیں ہوئے جتنے ہزارہ قتل ہوئے ہیں۔ میں اپنے بھائیوں کی زندگی کے لئے یہاں بیٹھی ہوں اور تا دم مرگ بیٹھی ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

Image caption

جلیلہ حیدر کا کہنا تھا کہ ہزارہ برادری کی تین ہزار بیوائیں آرمی چیف سے جواب چاہتی ہیں

انھوں نے پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک عام شہری کی طرح کوئٹہ کا دورہ کریں تو انھیں لوگوں کی مشکلات کا احساس ہو گا۔’قمر جاوید باجوہ صاحب وردی کے بغیر عام آدمی بن کر ایک بار کوئٹہ آئیں۔ سوچیں وہ کوئٹہ والے ہیں، سوچیں وہ پشتون ہیں، سوچیں وہ بلوچ ہیں۔ میں ان کو اس شہر کی ہر چیک پوسٹ، ہر محلے، ہر گلی کوچے میں رکشے پر لے جاؤں گی اور دکھاؤں گی یہاں کے لوگوں کے ساتھ کیسا سلوک ہوتا ہے۔‘جلیلہ حیدر کا کہنا تھا کہ آرمی چیف تین ہزار ہزارہ بیواؤں سے ملیں اور ان کے سوالوں کا جواب دیں۔’20 سال سے جو ہم قتل ہو رہے ہیں اس کے محرکات کیا ہیں؟ اس کے پیچھے کون ہے؟ ہمیں کیوں قتل کیا جارہا ہے؟ نیشنل ایکشن پلان کہاں چلا گیا؟ نیکٹا کہاں کھڑی ہے؟ کوئٹہ سیف سٹی پروجیکٹ کا کیا ہوا؟’یہ سب میں باجوہ صاحب سے پوچھنا چاہتی ہوں۔ وہ بھی بچوں کے باپ ہیں، اگر وہ ایک دفعہ ان بچوں کی چیخیں سنیں گے اور اگر ان کا دل پتھر کا نہیں ہے، انسان کا دل ہے تو میں یقین سے کہتی ہوں کہ وہ سب کچھ چھوڑ کر یہاں آئیں گے اور ہماری ماؤں سے ملیں گے۔‘خیال رہے کہ ہزارہ قبیلے کے افراد پر حملوں کا سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے۔رواں سال نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سنہ 2001 سے 2017 تک 16 سال کے دوران ایسے حملوں میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے 525 افراد ہلاک اور سات سو سے زائد زخمی ہوئے۔

Did you find apk for android? You can find new Free Android Games and apps.
Advertisements

©2018 Cyberian.pk

 
or

Log in with your credentials

or    

Forgot your details?

or

Create Account