Advertisements
Want create site? Find Free WordPress Themes and plugins.

تصویر کے کاپی رائٹ
SUPREME COURT OF PAKISTAN

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر دو بار فائرنگ کا مقدمہ دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کر لیا گیا ہے۔ ماڈل ٹاؤن تھانے کے محرر محمد جہانگیر نے بی بی سی کو بتایا کہ جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر فائرنگ کا مقدمہ ان کے گارڈ کے بیان پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت نامعلوم افراد کے خلاف درج کر لیا گیا ہے۔ ماڈل ٹاؤن میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر دو بار فائرنگ کی گئی تھی تاہم وہ اس واقعے میں محفوظ رہے۔اطلاعات کے مطابق فائرنگ کا واقعہ دو بار پیش آیا۔ پہلے جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر گذشتہ رات فائرنگ کی گئی، جس کے بعد صبح پھر ان کے گھر پر فائرنگ کی گئی۔چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار جسٹس اعجاز کے گھر پہنچے اور اس واقعے کی تحقیقات کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے آئی پنجاب کو بھی طلب کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ رینجرز بھی موقعے پر پہنچ گئے ہیں۔وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے اس واقعے کے مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کو جلد از جلد کٹہرے میں لائے جانے کا حکم دیا ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے انسپیکٹر جنرل پولیس سے اس واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے اور ملزموں کو جلد از جلد قانون کی گرفت میں لانے کا حکم دیا ہے۔سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے پرسنل سیکریٹری اس واقعے کے بعد جسٹس اعجاز الاحسن کے مکان پر پہنچے لیکن سپریم کورٹ کی انتظامیہ نے ان کو جسٹس اعجاز الاحسن سے نہیں ملنے دیا۔ آئی ایس پی آر نے واقعے کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امن و استحکام کی صورتحال میں بہتری کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں اور سٹیک ہولڈرز ریاستی اداروں کا تحفظ یقینی بنائیں۔جسٹس اعجاز الاحسن سپریم کورٹ کے اس پانچ رکنی بینچ کا حصہ تھے جس نے 28 جولائی 2017 کو پاناما سکینڈل میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دینے کے ساتھ ساتھ اُن کے اور اُن کے بچوں کے خلاف بیرون ممالک اثاثے بنانے کے الزام میں احتساب عدالتوں میں تین ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔ وہ نااہلی کیس کا فیصلہ دینے والوں پینل میں بھی شامل تھے۔اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف احتساب عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کی نگرانی کے لیے بھی جسٹس اعجاز الاحسن کو نگران جج مقرر کر رکھا ہے۔پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی اس واقعے کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ یہ عدلیہ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے۔ سپریم کورٹ بار اور لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ملزموں کو جلد از جلد گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Did you find apk for android? You can find new Free Android Games and apps.
Advertisements
0 Comments

Leave a reply

©2018 Cyberian.pk

 
or

Log in with your credentials

or    

Forgot your details?

or

Create Account