Advertisements
پاکستان

ایس ای او اجلاس: ’انڈیا کی شرکت کی وجہ بیجنگ اور ماسکو ہیں‘

Want create site? Find Free WordPress Themes and plugins.

انڈیا پاکستانتصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

ماہرین اس اجلاس کے پاکستان میں انعقاد اور اس میں دہشت گردی کے معاملے پر انڈیا کی شرکت کو اہم اور خوش آئند قرار دے رہے ہیں

پاکستان میں پہلی بار شنگھائی تعاون تنظیم کا انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے تین روزہ خصوصی اجلاس اسلام آباد میں شروع ہوا جس میں رکن ممالک سے قانونی ماہرین اور اعلیٰ حکام شریک ہیں۔

نومبر 2016 میں اسلام آباد میں سارک کانفرنس کے بائیکاٹ کے بعد دہشت گردی کے معاملے پر بات چیت کے لیے اس اجلاس میں اعلیٰ سطح کا انڈین وفد پہلی بار شریک ہو رہا ہے۔

انڈیا کے چار رکنی وفد کی سربراہی انڈین وزارت خارجہ کے ایک جوائنٹ سیکرٹری کر رہے ہیں۔ پاکستان اور انڈیا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باعث اس سطح پر بات چیت طویل مدت بعد ہو رہی ہے۔

اجلاس میں انڈیا کی شرکت

پاکستان اور انڈیا کے درمیان ستمبر 2016 میں کشمیر کے علاقے اُڑی میں انڈین فوج کے ایک کیمپ پر حملے کے بعد دونوں ملکوں میں تعلقات کشیدہ رہے۔ یہ کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب انڈیا نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ کیا جسے پاکستان نے مسترد کر دیا تھا۔

پاکستان میں گرفتار انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو کو پاکستانی فوجی عدالت کی جانب سے موت کی سزا سنانے کے بعد تعلقات میں کشیدگی برقرار رہی تاہم ماہرین کے خیال میں ایس سی او کے اس اجلاس میں شرکت سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات پر جمی برف پگھل سکتی ہے۔

تجزیہ کار گل مینا بلال اسلام آباد میں جاری اس اجلاس میں انڈیا کی شرکت کی ایک وجہ بیجنگ اور ماسکو کو سمجھتی ہیں۔

’شنگھائی تعاون تنظیم میں اقتصادی مفاد ہے، مثلاً چین کے ساتھ پاکستان اور انڈیا دونوں کا اقتصادی اور معاشی مفادات وابستہ ہیں، دفاعی تعاون ہے، اور پھر اگر عالمی سطح پر دیکھیں تو انڈیا اور چین کے درمیان مقابلے کا رجحان بھی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ انڈیا سمجھتا ہے کہ وہ اس میز پر ضرور بیٹھے، جہاں چین کے ون روڈ ون بیلٹ منصوبے پر بات چیت ہو رہی ہے۔‘

انڈس کمیشن پر بات چیت کے علاوہ اعلی سطح پر آخری بار اگست 2016 میں انڈین وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سارک ممالک کے وزرائے داخلہ کی کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان آئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

ماہرین کے خیال میں ایس سی او کے اس اجلاس میں شرکت سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات پر جمی برف پگھل سکتی ہے

کیا عالمی طاقتیں مذاکرات کی راہ ہموار کر رہی ہیں؟

سینئر صحافی متین حیدر کے خیال میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان مذاکرات ماضی میں بھی کسی نہ کسی عالمی طاقت کی کوششوں کی وجہ سے ہوئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اس بار بھی یہ امکان ہے کہ بیجنگ اور ماسکو ہی ان دونوں ملکوں کو بات چیت کی میز پر لا رہے ہیں۔ خاص طور پر اسلام آباد میں جاری اس اجلاس میں انڈین وفد کی شرکت اور اجلاس کی کامیابی کی صورت میں امید ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان جامع مذاکرات بھی شروع ہو جائیں گے۔‘

متین حیدر کے مطابق ’اگر دونوں ملکوں کے درمیان برف پگھلتی ہے تو یہ خوش آئند بات ہے اور جنوبی ایشیا کی ان دو بڑی طاقتوں کے درمیان بات چیت سے خطے کے کئی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اب پاکستان میں امریکی اثرورسوخ بڑی حد تک کم ہو گیا ہے اور ’اس کی جگہ چین نے لے لی ہے، جبکہ اسلام آباد اور ماسکو کے درمیان بھی ماضی قریب میں تعلقات خاصے بہتر ہو گئے ہیں۔ جبکہ انڈیا کے لیے روس کی اہمیت اپنی جگہ موجود ہے، ایسے میں چین اور روس، انڈیا اور پاکستان کو مستقبل میں مذاکرات کی میز پر یقیناً لا سکتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

اگست 2016 میں انڈین وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سارک ممالک کے وزرائے داخلہ کی کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان آئے تھے

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب تنازعات کا پرامن حل کا راستہ جامع اور بامعنی مذاکرات ہیں۔ جس کے بعد انڈیا کی وزیرِ دفاع نے بھی کہا تھا کہ انڈیا پاکستان کی جانب سے امن پر کسی بھی رائے کو سنجیدگی سے لے گا۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے حالیہ اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ رکن ممالک رواں برس روس میں ہونے والی مشترکہ فوجی مشقوں میں شرکت کریں گے، جس میں پاکستان اور انڈیا بھی شامل ہیں۔

اس سے قبل یومِ پاکستان یعنی 23 مارچ کو ایک غیر معمولی اقدام کے طور پر پاکستان نے اسلام آباد میں انڈین ہائی کمیشن کے فوجی اتاشی سمیت اعلیٰ عہدیداروں کو فوجی پریڈ دیکھنے کی دعوت دی تھی جسے انڈین ہائی کمیشن نے قبول کیا تھا۔

اس اجلاس کا پاکستان میں انعقاد کتنا اہم ہے؟

ماہرین اس اجلاس کے پاکستان میں انعقاد اور اس میں دہشت گردی کے معاملے پر انڈیا کی شرکت کو اہم اور خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔

تجزیہ کار اور بین الاقوامی امور کی ماہر گل مینا بلال احمد کہتی ہیں کہ اس سے دنیا، خصوصا خطے میں یہ پیغام گیا ہے کہ پاکستان میں اس معاملے پر بات چیت کو ایک بڑی تنظیم کا اجلاس منعقد کرانے کے لیے ماحول سازگار ہے۔ ان کے مطابق خطے میں قیامِ امن اور دہشت گردی کا خاتمہ اس معاشی ترقی کے لیے لازمی ہے جو چین اور روس یہاں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس لیے یہ اجلاس نہایت اہم ہے۔

ان کے مطابق اس اجلاس کے پاکستان میں کامیاب انعقاد ایف اے ٹی ایف میں بھی پاکستان کو فائدہ پہنچا سکتا ہے، ’اس اجلاس کے انعقاد کے موقع پر یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ اس وقت پاکستان کا ایک اعلی سطح کا وفد بنکاک میں ایف اے ٹی ایف میں بریفنگ دے رہا ہے، جس میں امید ہے کہ ایک مثبت پیش رفت جون میں سامنے آ جائے گی۔‘

Did you find apk for android? You can find new Free Android Games and apps.
Advertisements
Show More

Related Articles

Close
Close