تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ پاکستانی ریاست اسامہ بن لادن کی کسی قسم کی مدد کر رہی تهی: احسن اقبال

پاکستان کے شہر نارووال میں وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کو اُن کے آبائی حلقے میں ایک شخص نے فائرنگ کر کے زخمی کر دیا ہے۔ احسن اقبال نارووال کے علاقے کنجروڑ میں ایک کارنر میٹنگ میں شریک تھے۔ وہ ضلعی ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور ڈاکٹروں کے مطابق اُن کی حالت خطرے سے باہر ہے۔پاکستان کے سیاسی رہنماؤں اور صحافیوں سمیت مختلف حلقوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے وزیر داخلہ پر فائرنگ کے واقعے کی مذمت کی ہے۔اس وقت پاکستان میں ٹوئٹر پر #AhsanIqbal ٹرینڈ کر رہا ہے۔پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اسد عمر نے وزیر داخلہ احسن اقبال پر ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے ٹویٹ کی کہ ’اللہ انھیں جلد صحتیاب کرے اور حملہ آور کو پکڑ کر فوری سزا دی جائے۔صحافی مظہر عباس نے کہا کہ ’اچھا ہو گا کہ تمام سیاسی جماعتیں وزیر داخلہ احسن اقبال پر ہونے والے حملے کی مذمت کریں۔ یہ دوسروں کے لیے بھی تنبیہ ہے۔‘پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما عمران خان نے بھی احسن اقبال پر ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے۔سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر شیری رحمان نے احسن اقبال پر ہونے والے حملے مذمت کی۔ انھوں نے ٹویٹ کی کہ ’احسن اقبال کے زخمی ہونے پر بہت افسوس ہوا ہے۔ امید ہے کہ وہ جلد صحتیاب ہوں گے، اُن کے خاندان کے لیے نیک خواہشات اور اللہ اُن سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔‘عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اافراسیاب خٹک نے ٹویٹ کی کہ احسن اقبال پر فائرنگ کے واقعے پر ملک کا ہر شہری حیران ہے۔ انھوں نے احسن اقبال کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذہب کو مسلح کرنا ایسا راستہ ہے جو مہلک تباہی کی جانب جاتا ہے۔

@a_siab کی ٹوئٹر پر پوسٹ کا خاتمہ

Every citizen of the country is shocked and concerned at the incident of firing at Interior Minister Ahsan Iqbal. Glad that he has survived the attack. Thoughts & prayers are with Ahsan Iqbal. Weaponising religion is a path to horrible disaster.— Afrasiab Khattak (@a_siab) مئی 6, 2018

@a_siab کی ٹوئٹر پر پوسٹ سے آگے جائیں

پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے احسن اقبال پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اُن کی مکمل صحتیابی کے لیے دعا کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس واقعے میں ملوث شخص کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

@CMShehbaz کی ٹوئٹر پر پوسٹ کا خاتمہ

Strongly condemn the assassination attempt on my friend Ahsan Iqbal… Just spoke to him & he is in high spirits MashaAllah … Those who indulged in this heinous act will be brought to justice… PMLN will not be browbeaten into submission… Prayers for quick recovery!! -ss— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) مئی 6, 2018

@CMShehbaz کی ٹوئٹر پر پوسٹ سے آگے جائیں

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار احسین نے وزیر داخلہ پر ہونے والے حملے پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات سے قبل سیاستدانوں پر ہونے والے ایسے حملوں بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں۔ پاکستان کی فوج کے شعبہ ابلاغ آمہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے ٹویٹ کی ہے کہ بری فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ نے بھی احسن اقبال پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اُن کے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔ادھر پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے بھی احسن اقبال پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ ‘حملہ کرنے والا تو ایک ذریعہ ہے، جو سیاسی فوائد کے لیے ، اپنا بدلہ چکانے کے لیے اُن کی سرپرستی کر رہے ہیں اور انھیں اکساتے ہیں وہ اصل مجرم ہیں۔’

Advertisements

©2018 Cyberian.pk

 
or

Log in with your credentials

or    

Forgot your details?

or

Create Account