Advertisements
Want create site? Find Free WordPress Themes and plugins.

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

ڈاکٹروں کے مطابق احسن اقبال کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

پاکستان کے شہر نارووال میں وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کو اُن کے آبائی حلقے میں ایک شخص نے فائرنگ کر کے زخمی کر دیا ہے۔ احسن اقبال نارووال کے علاقے کنجروڑ میں ایک کارنر میٹنگ میں شریک تھے۔ وہ ضلعی ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور ڈاکٹروں کے مطابق اُن کی حالت خطرے سے باہر ہے۔پاکستان کے سیاسی رہنماؤں اور صحافیوں سمیت مختلف حلقوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے وزیر داخلہ پر فائرنگ کے واقعے کی مذمت کی ہے۔اس وقت پاکستان میں ٹوئٹر پر #AhsanIqbal ٹرینڈ کر رہا ہے۔پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اسد عمر نے وزیر داخلہ احسن اقبال پر ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے ٹویٹ کی کہ ’اللہ انھیں جلد صحتیاب کرے اور حملہ آور کو پکڑ کر فوری سزا دی جائے۔صحافی مظہر عباس نے کہا کہ ’اچھا ہو گا کہ تمام سیاسی جماعتیں وزیر داخلہ احسن اقبال پر ہونے والے حملے کی مذمت کریں۔ یہ دوسروں کے لیے بھی تنبیہ ہے۔‘پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما عمران خان نے بھی احسن اقبال پر ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے۔سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر شیری رحمان نے احسن اقبال پر ہونے والے حملے مذمت کی۔ انھوں نے ٹویٹ کی کہ ’احسن اقبال کے زخمی ہونے پر بہت افسوس ہوا ہے۔ امید ہے کہ وہ جلد صحتیاب ہوں گے، اُن کے خاندان کے لیے نیک خواہشات اور اللہ اُن سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔‘عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اافراسیاب خٹک نے ٹویٹ کی کہ احسن اقبال پر فائرنگ کے واقعے پر ملک کا ہر شہری حیران ہے۔ انھوں نے احسن اقبال کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذہب کو مسلح کرنا ایسا راستہ ہے جو مہلک تباہی کی جانب جاتا ہے۔پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے احسن اقبال پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اُن کی مکمل صحتیابی کے لیے دعا کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس واقعے میں ملوث شخص کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار احسین نے وزیر داخلہ پر ہونے والے حملے پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات سے قبل سیاستدانوں پر ہونے والے ایسے حملوں بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں۔ پاکستان کی فوج کے شعبہ ابلاغ عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے ٹویٹ کی ہے کہ بری فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ نے بھی احسن اقبال پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اُن کے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔ادھر پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے بھی احسن اقبال پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ ‘حملہ کرنے والا تو ایک ذریعہ ہے، جو سیاسی فوائد کے لیے ، اپنا بدلہ چکانے کے لیے اُن کی سرپرستی کر رہے ہیں اور انھیں اکساتے ہیں وہ اصل مجرم ہیں۔’

Did you find apk for android? You can find new Free Android Games and apps.
Advertisements

©2018 Cyberian.pk

 
or

Log in with your credentials

or    

Forgot your details?

or

Create Account