Advertisements
Want create site? Find Free WordPress Themes and plugins.

کسی بھی شعبے میں کامیابی کے لیے مشکلات سے گزرنا عام ہے، لیکن اگر آپ کا تعلق کسی عددی اقلیت سے ہے تو یہ مشکلات کئی گنا بڑھ بھی سکتی ہیں۔ پاکستان میں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے چند نمایاں افراد کی زندگی میں بھی مذہب کی بنیاد پر ناپسندیدگی، حقوق کی پامالی، اور آگے بڑھنے کے مواقع نہ ملنا ایک عام مسئلہ رہا ہے۔ بی بی سی اردو کی فرحت جاوید نے ایسے ہی کچھ افراد سے بات کی جن کی کہانیاں یہاں بیان کی جا رہی ہیں۔’اس برادری سے ہوں جہاں توہینِ مذہب کا قانون آپ کا انجام ہے‘’آخرکار میں اقلیت ہوں اور میرا تعلق اس برادری سے ہے جہاں توہینِ مذہب کا قانون ہی آپ کا انجام ہے’۔ یہ خدشات عزوبہ عظیم کے ہیں جو اس وقت پنجاب کے شہر گجرات میں بطور اسسٹنٹ کمشنر تعینات ہیں۔ ’لوگوں نے جو نفرت پھیلائی ہے اس سے خوف آتا ہے‘ ’خاکروب کو پہلے نہلایا جائے پھر علاج ہو گا‘وہ ماضی میں ایک نوکری اس لیے چھوڑ چکی ہیں کہ ان کے مطابق ان کے اِردگرد موجود بعض افراد نے مذہب کے نام پر انہیں ہراساں کیا، ‘اس سے پہلے کہ وہ توہینِ مذہب کا الزام لگاتے ، میں نے استعفی دینا بہتر سمجھا’۔
اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

عزوبہ عظیم گجرات میں بطور اسسٹنٹ کمشنر تعینات ہیںعزوبہ عظیم نے ہمیں بتایا کہ کیسے ان کے دفتر میں ایک بااثر شخص نے ‘غنڈہ گردی’ کی اور ان سے متعلق یہ کہا کہ وہ ‘محض توہینِ مذہب کے قانون کی مار’ ہیں۔ ‘اس دن مجھے احساس ہوا کہ میری یہ پوزیشن بھی میرا تحفظ نہیں کر سکتی’۔ لیکن وہ کہتی ہیں کہ انھیں بطور سرکاری افسر ‘شہریوں کی مدد کے لیے’ اپنا اثرورسوخ استعمال کرنے کا موقع ملا ہے۔ ‘کوئی بزرگ جو دس سال سے چکر لگا رہا ہے اور جس کی فائل بار بار گم ہو جاتی ہے، تو جب میں اس کی فائل اس کو دے دیتی ہوں تو وہ پیار سے سر پر ہاتھ پھیرتے ہیں۔ ایسے موقع پر آپ بھول جاتے ہیں کہ میرا مذہب کیا تھا۔ وہاں آپ کو صرف انسانیت یاد رہتی ہے’۔پاکستان میں عیسائیت سے تعلق رکھنے والے افراد کل آبادی کا 1.59 فیصد ہیں۔مسیحی برادری کو پاکستان میں انتہائی سنگین حالات کا سامنا رہا ہے۔ انھیں توہینِ مذہب کے الزامات کے تحت مقدمات کا سامنا رہا ہے اور کبھی کبھی ایسے واقعات کا نتیجہ پوری آبادی کو بھی بھگتنا پڑا۔2013 میں لاہور کی جوزف کالونی میں مسیحی آبادی کے 125 سے زائد گھروں کا نذر آتش کیا جانا اس کی بڑی مثال ہے۔یہی نہیں مسیحی آبادی ملک میں دہشت گردی کا بھی نشانہ بنتی رہی ہے اور 2013 میں ہی پشاور میں آل سینٹس چرچ میں خودکش دھماکوں میں 80 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ عزوبہ سمجھتی ہیں کہ ملک میں غیر مسلم شہریوں کے خلاف اکثر توہینِ مذہب کے قانون کا غلط استعمال کیا جاتا ہے۔’تعلیم کے ذریعے بچوں میں برداشت پیدا کرنے کی ضرورت ہے، جب ہمارے نصاب میں ‘کافر’ جیسے الفاظ استعمال ہوں گے تو ہم اپنے بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں’۔
اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ویرو کوہلی کھیتوں میں مزدوری کے ساتھ ہی ساتھ انسانی حقوق کے لیے کام کرتی ہیںجبری مشقت کا شکار افراد کی مدر ٹریساحیدرآباد کے قریب پھلیلی نہر کے کنارے ویرو کوہلی کا دو کمروں کا کچا گھر سندھ میں جبری مشقت کا شکار افراد کے لیے آزادی کا راستہ ہے۔ یہاں ان غریبوں کی ’مدر ٹریسا‘ ساٹھ سالہ ویرو کوہلی رہتی ہیں۔ ‘میں نے کبھی نہیں سوچا کہ میرے پاس مدد مانگنے آنے والا خاندان ہندو ہے، مسلمان ہے یا کسی اور مذہب کا۔ میں تو یہ سمجھتی ہوں کہ یہ مظلوم خاندان ہے اور میں نے اس کی مدد کرنی ہے’۔ تھر کے ہاری کی بیٹی سینیٹ کی امیدوارویرو کوہلی: جبر کے نظام کی باغیویرو کوہلی کھیتوں میں مزدوری کرتی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ انسانی حقوق کے لیے کام کرتی ہیں۔ وہ جو کماتی ہیں اس کا زیادہ حصہ جبری مشقت کا شکار ان خاندانوں کو رہا کرانے میں خرچ ہو جاتا ہے جو اندرونِ سندھ کے مختلف علاقوں میں وڈیروں کے کھیتوں پر کام کرتے ہیں۔ ویرو کوہلی ہندو ہیں اور انہیں کم و بیش اسی رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو ہمارے معاشرے میں اقلیتوں کے ساتھ عام طور پر روا رکھا جاتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ کئی لوگ ایسے بھی ہیں کہ ‘ان سے پانی مانگو تو ہاتھ کا پیالہ بنانے کو کہتے ہیں اور پھر گلاس فاصلے پر رکھتے ہیں کہ ہندو کے ہاتھ سے ٹکرا نہ جائے’۔ ویرو کوہلی نے کئی برس جبری مشقت میں گذارنے کے بعد بالاخر اس سے چھٹکارا حاصل کیا۔انھیں 2016 میں انسانی حقوق کے صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا اور اس سے قبل انھیں امریکہ میں غلامی کے خلاف ‘فریڈرک ڈگلس فریڈم’ ایوارڈ دیا گیا تھا۔ ویرو دیگر کسانوں کی رہائی کے لیے بھی کوششیں کرتی رہیں اور ان کوششوں کے نتیجے میں انھوں نے’چھ ہزار کسان رہا کروائے ہیں’۔ویرو اب بھی محنت مزدوری کرتی ہیں مگر وہ غریب خاندانوں میں جبری مشقت اور ان کے حقوق سے متعلق آگاہی بھی پھیلاتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ’کسان دو بڑی وجوہات کے باعث زمینداروں کی قید میں آتے ہیں۔ ایک ہے حساب کتاب چونکہ کسان پڑھے لکھے نہیں ہیں اس لیے وہ لیے جانے والے قرض کا حساب نہیں رکھ پاتے اور دوسرا زمیندار کی نظر اس کی جوان بچیوں پر ہوتی ہے’۔
اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

مہندر پال سنگھ کا کہنا ہے کہ سکھ ہونے کی وجہ سے انھیں ترجیح بھی دی جاتی ہے’شر پھیلانے والوں کی تعداد کم ہے‘اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے مہندر پال سنگھ بھی کئی مشکلات کے باوجود کرکٹ کے کھیل میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ وہ پاکستان کی قومی کرکٹ اکیڈمی تک پہنچنے والے پہلے سِکھ کرکٹر ہیں جو دسمبر 2016 میں ایمرجنگ کرکٹر منتخب ہوئے۔ رائٹ آرم فاسٹ بولر مہندر سنگھ سمجھتے ہیں کہ بطور سِکھ انھیں بہت زیادہ تعصب کا سامنا نہیں کرنا پڑا تاہم ‘کوئی (سکھ کے) ساتھ کھانا نہیں کھاتا، کوئی پانی نہیں پیتا۔ یہ مسائل ہیں مگر سب کے ساتھ نہیں ہیں’۔ ’گردوارہ جہاں مسلمان دیے جلاتے ہیں‘ ’شکر ہے کہ کرکٹ میں سکھ لڑکا سامنے آیا‘وہ سمجھتے ہیں کہ بطور سِکھ انہیں بہت زیادہ تعصب کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ان کے خیال میں مذہبی بنیادوں پر تعصب پھیلانے والے افراد کی تعداد بہت کم ہے۔ ‘ایسے لوگوں کو نظرانداز کرنا بہتر ہے، کیونکہ ملک میں اکثریت سِکھ برادری کو عزت دیتی ہے’۔ تاہم انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ‘ان کا خاندان دہشتگردی سے متاثر ہوا، اور دھمکیوں کے نتیجے میں علاقہ بھی چھوڑنا پڑا’۔مہندر پال سنگھ کا تعلق خیبر ایجنسی سے ہے، ان کا خاندان 2002 میں امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے ننکانہ صاحب منتقل ہوگیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ کرکٹ میں بھی بعض اوقات تنگ نظری کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن ‘ایسا کسی مسلمان کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے، اور اس قسم کے رویے کو اگنور کیا جانا چاہیئے’۔ ‘صرف سکھ ہونے کی وجہ سے مجھے فیور بھی ملتی ہے۔ میں واحد گریڈ ٹو کرکٹر ہوں جو جب چاہوں ٹریننگ کے لیے نیشنل کرکٹ اکیڈمی آ سکتا ہوں’۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں تقریباً 15 ہزار سکھ آباد ہیں۔ مہندر پال سنگھ کے خیال میں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے کئی افراد سمجھتے ہیں کہ ان کے لیے مواقع نہیں ہیں،’لیکن یہ تاثر غلط ہے۔ نوجوانوں کو خود آگے بڑھنا چاہیے۔
اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ہلڈا سعید خون کے نمونوں سے مجرموں تک پہنچنے والی پہلی پاکستانی خاتون ہیں’سوائے خاکروب کے کچھ اور بننے کا موقع ہی نہیں دیا جاتا‘کراچی کی رہائشی ہلڈا سعید کا تعلق مسیحی برادری سے ہے۔ وہ پاکستان کی پہلی سیرالوجسٹ یعنی ماہرِ خون بنیں، اور ریپ کیسز ، قتل اور ایسے دیگر مقدمات میں خون کے نمونوں اور آلات کا تجزیہ کرتی تھیں لیکن بطور سماجی کارکن انہوں نے ضیا دور میں حدود آرڈیننس سمیت خواتین کے حقوق کی پامالی کرنے والے دیگر قوانین کے خلاف آواز بلند کی۔70 کی دہائی میں جب ایڈز جیسے امراض اور جنسی صحت کے بارے میں بات کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا، ہلڈا سعید نے ان امراض کے بارے میں آگاہی پھیلانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ وہ کہتی ہیں ‘جب پاکستان کا جھنڈا ڈیزائن کیا گیا تو اس میں ایک سفید پٹی تھی۔ مگر آج کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ ہم اس جھنڈے کا حصہ نہیں ہیں’۔ہلڈا سعید نے شادی تو مسلم گھرانے میں کی تاہم اپنے مذہب پر قائم بھی رہیں۔ ‘تفریق کا سامنا شادی کے بعد کیا، کیونکہ میرا شوہر مسلمان ہے اور میں نہیں۔ میں مسیحی ہی رہی تو آس پاس موجود لوگ کہتے تھے کہ یہ تو مسیحی ہے اس کے ساتھ کھانا نہ کھائیں، انھیں اپنے گھر نہ بلائیں’۔ہلڈا سمجھتی ہیں کہ غیرمسلموں کے لیے بنیادی حقوق کی فراہمی سے لے کر ملازمتوں کے مواقع تک کے بارے میں حکومتی پالیسیاں آئین سے متصادم ہیں۔ ‘روزگار کا کوٹہ زیادہ صفائی کے عملے کی نوکریوں پر لاگو ہوتا ہے۔ آپ کو سوائے خاکروب کے کچھ اور بننے کا موقع ہی نہیں دیا جاتا۔ ہمیں لگتا ہے۔ اس ملک کی پالیسیاں آئین کے خلاف جا رہی ہیں اور آئین جن بنیادی حقوق کی فراہمی یقینی بناتا ہے، وہ حقوق نہیں دیے جا رہے۔‘

Did you find apk for android? You can find new Free Android Games and apps.
Advertisements
0 Comments

Leave a reply

©2018 Cyberian.pk

 
or

Log in with your credentials

or    

Forgot your details?

or

Create Account