Advertisements
Want create site? Find Free WordPress Themes and plugins.

پاکستان میں اقلیتی احمدیہ برادری کی نمائندہ جماعتِ احمدیہ پاکستان نے حال ہی میں جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں سنہ 2017 کو احمدیہ برادری کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے حوالے سے ’برا‘ سال قرار دیا ہے۔ سالانہ رپورٹ کے مطابق انتخابی اصلاحات بل میں ترمیم کے ذریعے احمدیوں کو انتخابی فہرستوں میں اندراج سے محروم کیا گیا۔ جماعتِ احمدیہ پاکستان کے ترجمان سلیم الدین کے مطابق اس عمل کے ذریعے دانستہ احمدیوں کو سیاست میں حصہ لینے سے روکا جا رہا ہے جو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔’جب مسلمان، ہندو، سکھ، مسیحی، پارسی اور دیگر مذاہب کے پیروکاروں کا اندراج مشترکہ انتحابی فہرستوں میں ہو سکتا ہے، تو احمدیوں کا کیوں نہیں؟‘اسی بارے میںپاکستان میں مذہبی اقلیتیں مشکلات کا شکار ہیں: رپورٹقیامِ پاکستان سے اب تک احمدیوں کا ریکارڈ طلبایک ’کافر‘ پکا پاکستانیان کا کہنا تھا کہ انتخابی فہرستیں مشترکہ ہونی چاہییں اور جب تک ایسا نہیں ہوتا ان کی برادری کے افراد انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔جماعتِ احمدیہ کی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ختمِ نبوت کے رہنما اور مجلسِ احرار پاکستان کے سیکریٹری جنرل عبدالطیف خالد چیمہ کا کہنا تھا کہ ایسا درست نہیں کہ احمدی برادری کے افراد کو سیاست سے دور رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ’سنہ 1974 کی قراردادِ اقلیت اور سنہ 1984 کے آرڈیننس نے ان کی حیثیت کو متعین کر دیا ہے جسے وہ ماننے سے مسلسل انکاری ہیں۔ جب آئین نے ان کو ساتویں اقلیت قرار دے دیا ہے تو وہ ریاست سے حقوق تو لیتے ہیں مگر فرائض پورے نہیں کرتے۔‘ان کا کہنا تھا کہ جماعتِ احمدیہ کی رپورٹ ’من گھڑت‘ ہے اور یہ کہ اخباروں میں ان کا موقف بھی سامنے آتا ہے بلکہ ان کا اپنا ایک اخبار بھی ہے۔ تاہم جماعتِ احمدیہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گذشتہ برس خصوصاٌ اردو ذرائع ابلاغ میں احمدیوں کے خلاف ’بےبنیاد خبریں شائع کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔‘ سال بھر میں 3936 خبریں اور 532 ایسے مضامین شائع کیے گئے جو جماعتِ احمدیہ پاکستان کے ترجمان سلیم الدین کے مطابق احمدیوں کے خلاف پراپیگینڈا پر مبنی تھے۔’اگر کسی ایک پارٹی کی خلاف خبر لگائی جائے تو صحافتی اصولوں کا تقاضا ہے کہ اس کا موقف بھی لیا جائے تاہم کسی اخبار نے کبھی احمدیہ برداری کا مؤقف شائع نہیں کیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

Image caption

رپورٹ کے مطابق احمدیوں کو دیگر عقائد کے قبرستانوں میں دفن کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کی حکومت نے احمدیہ رسالوں اور لٹریچر کے اشاعت پر سنہ 2015 سہ پابندی عائد کر رکھی ہے جو کہ ’بلاجواز اور غیر آئینی عمل ہے۔‘سالانہ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سنہ 1984 میں احمدی مخالف قوانین کے اطلاق کے بعد سے دسمبر سنہ 2017 تک 264 احمدیوں کو ان کے عقیدے کی وجہ سے قتل کیا گیا۔ اس دوران احمدیوں پر 379 حملے ہوئے جبکہ 27 عبادت گاہوں کو تباہ اور 33 کو بند کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق احمدیوں کی 39 قبروں کی بے حرمتی کی گئی جبکہ 66 کو دیگر عقائد کے قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

Did you find apk for android? You can find new Free Android Games and apps.
Advertisements

©2018 Cyberian.pk

 
or

Log in with your credentials

or    

Forgot your details?

or

Create Account