Advertisements
Want create site? Find Free WordPress Themes and plugins.

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

پاکستان کے وزیر داخلہ احسن اقبال کو آپریشن کے بعد آئی سی یو میں منتقل کر دیا گیا ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔احسن اقبال گذشتہ روز نارووال کے علاقے کنجروڑ میں کارنر میٹنگ کے بعد ہونے والے قاتلانہ حملے میں زخمی ہو گئے تھے۔یہ کارنر میٹنگ احسن اقبال کے آبائی گاؤں کے قریب علاقے میں ہو رہی تھی جہاں وفاقی وزیر مسیحی برادری سے خطاب کر رہے تھے۔مقامی ایس ایچ او شہباز احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ جیسے ہی کارنر میٹنگ ختم ہوئی وہاں موجود ایک شخص نے اُن پر گولی چلائی جس سے وزیر داخلہ زخمی ہو گئے۔سرکاری ٹی وی کے مطابق احسن اقبال کو مزید 24 گھنٹوں کے لیے آئی سی یو میں رکھا جائے گا۔اطلاعات کے مطابق ان پر قاتلانہ حملے کا مقدمہ ناروال میں شاہ غریب تھانے میں درج کر لیا گیا ہے اور اس میں اقدام قتل اور دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔حملہ آور عابد حسین کو مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Punjab Police

Image caption

صوبائی ترجمان ملک احمد خان کا کہنا ہے کہ حملہ آور کا نام عابد ہے اور وہ قریبی گاؤں کا رہائشی ہے

مزید پڑھیےسکیورٹی خدشات اور انتخابی معرکہ’اللہ اور رسول کی محبت پر کسی کی اجارہ داری نہیں‘احسن اقبال کو ضلعی ہسپتال نارووال میں ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد سروسز ہسپتال لاہور منتقل کر دیا گیا تھا۔ڈاکٹروں کے مطابق گولی احسن اقبال کے بازو پر لگی جہاں کہنی کے قریب سے یہ ہڈی توڑتے ہوئے پیٹ میں گھس گئی۔ ان کے پیٹ سے گولی نکالنے کے لیے آپریشن کیا گیا۔احسن اقبال کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے لاہور منتقل کیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ
EPA

Image caption

احسن اقبال کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے لاہور منتقل کیا گیا

مسلم لیگ ن کے صدر اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے حملے کے مذمت کرتے ہوئے ٹویٹ کیا ‘ میں اپنے دوست احسن اقبال پر قاتلانہ حملے کی کوشش کی شدید مذمت کرتا ہوں’۔’میری ان سے بات ہوئی ہے اور ماشا اللہ ان کے حوصلہ بلند ہیں۔ اس گھنگاؤنے فعل میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔’ان کا کہنا تھا کہ ‘ابھی ان سے بات ہوئی ہے اور وہ ماشااللہ بلند حوصلہ ہیں اور جو بھی اس گھناونے کام میں ملوث ہیں انھیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا’۔احسن اقبال کے بیٹے احمد اقبال نے مقامی ٹی وی چینل کو بتایا کہ احسن اقبال کی حالت خطرے سے باہر ہے اور وہ ہوش میں ہیں۔صوبائی ترجمان ملک احمد خان کا کہنا ہے کہ حملہ آور کا نام عابد ہے اور وہ قریبی گاؤں کا رہائشی ہےپولیس نے حملہ آور کو حراست میں لے لیا ہے لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ حملہ آور کا مقصد کیا تھا جبکہ اس حوالے سے مزید تفتیش جاری ہے۔صوبائی ترجمان ملک احمد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ حملہ آور کا نام عابد ہے اور وہ قریبی گاؤں کا رہائشی ہے۔ طلال چوہدری کے مطابق مشتبہ حملہ آور کی عمر 20 سے 22 سال ہے۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے وزیر داخلہ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے آئی جی پنجاب سے اس واقعے کی رپورٹ طلب کی ہے۔

Did you find apk for android? You can find new Free Android Games and apps.
Advertisements
0 Comments

Leave a reply

©2018 Cyberian.pk

 
or

Log in with your credentials

or    

Forgot your details?

or

Create Account