Advertisements
Want create site? Find Free WordPress Themes and plugins.

Image caption

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے یہ فیصلہ متفقہ طور پر دیا ہے

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ارکان پارلیمان کی نااہلی کی مدت کے تعیّن سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی تاحیات ہے یعنی اس شق کے تحت نااہل ہونے والا شخص عمر بھر الیکشن نہیں لڑ سکتا۔سابق وزیر اعظم اور حکمراں جماعت کے قائد میاں نواز شریف اور حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیر خان ترین کی نااہلی بھی آئین کے اُسی آرٹیکل کی تحت ہی ہوئی ہے۔یہ بھی پڑھیےآئین اور عدلیہ کے مطابق صادق اور امین کون؟عمران خان اور جہانگیر ترین نااہلی کیس کے اہم نکاتنااہلی کب تک، 62 ون ایف کی تشریح کے لیے عوامی نوٹس چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل پانچ رکنی بینچ نے آرٹیکل ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح کے لیے دائر کی گئی درخواستوں کی سماعت کے بعد 14 فروری کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جو جمعے کو سنایا گیا۔ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح کا فیصلہ جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریر کیا ہے اور کمرہ عدالت میں اُنھوں نے ہی اس فیصلے کے آپریشنل حصے کو پڑھ کر سنایا۔پچاس سے زائد صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے مشترکہ طور پر دیا ہے جبکہ اس بینچ میں شامل جسٹس عظمت سعید نے اس ضمن میں آٹھ صفحات پر مشتمل ایک اضافی نوٹ بھی تحریر کیا ہے۔اگرچہ حکمراں جماعت کے قائد میاں نواز شریف آئین کے آرٹیکل کی تشریح سے متعلق سپریم کورٹ میں دائر ہونے والی درخواستوں کا حصہ نہیں تھے تاہم اُن کی طرف سے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح کا اختیار سپریم کورٹ کو نہیں بلکہ پارلیمنٹ کو ہے۔عدالت نے آئین کے اس آرٹیکل کی تشریح کے لیے دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران عدالتی معاون بھی مقرر کیے تھے جس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر مرحومہ عاصمہ جہانگیر بھی شامل تھیں۔حالیہ کچھ عرصے کے دوران سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کی طرف سے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے خلاف متعدد فیصلے دیے گئے ہیں جن میں نواز شریف کی بطور رکن پارلیمنٹ نااہلی، اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل مسترد ہونا، نواز شریف کو پارٹی کی سربراہی سے الگ کرنا، ان کی طرف سے سینیٹ کے انتخابات میں امیدواروں کو جاری کیے گئے ٹکٹ ہولڈرز کو آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت کے علاوہ ان کے خلاف دائر ہونے والے نیب کے تین ریفرنس کو یکجا کرنے کی درخواستوں کو مسترد کرنا شامل ہیں۔آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح کے مقدمے میں نواز شریف درخواست گزار نہیں تھے تاہم ان کی نااہلی آئین کے اسی آرٹیکل کے تحت ہوئی تھی۔نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 62 ون ایف امیدوار کی اہلیت جانچنے کے لیے ہے، اس میں نااہلی کی معیاد کا ذکر نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

جہانگیر ترین بھی اسے آرٹیکل کے تحت نا اہل ہوئے ہیں

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عوام کو صادق اور امین قیادت ملنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں ہوتا آئین میں بھی لکھا ہوا ہے کہ ایسے شخص کی نااہلی تاحیات رہے گی اس لیے جب تک عدالتی ڈیکلریشن موجود ہے، نااہلی رہے گی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا جب تک جس بنیاد پر نااہلی کا فیصلہ کیا گیا ہے اگر اس فیصلے کے خلاف کوئی فیصلہ آجاتا ہے اور تو یہ نااہلی غیرموثر ہوجائے گی۔ ’فیصلہ پہلے آتا ہے اور ٹرائل اور مقدمہ بعد میں کیا جاتا ہے‘ وفاقی وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے اس فیصلے کے ردعمل میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فیصلہ پہلے آتا ہے اور ٹرائل اور مقدمہ بعد میں کیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

Image caption

سابق وزیر اعظم اور حکمراں جماعت کے سربراہ میاں نواز شریف بھی پانامہ لیکس سے متعلق مقدمے میں اسی شق کا شکار بنے

ان کا کہنا تھا کہ ‘ آج بھی نیب ٹرائل کورٹ میں جاری ہے۔ کوئی بھی دستاویز موجود نہیں جس کے مطابق نواز نے اپنے بیٹے سے تنخواہ لی ہو۔’ مریم اورنگزیب نے کہا کہ ‘نواز شریف ابھی تک کوئی بھی الزام ثابت نہیں ہوا اور اسی الزام کی بنیاد پر انھیں نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔’انھوں نے کہا کہ ‘پہلے نااہل کیا پھر پارٹی کی صدارت سے ہٹایا اور سینیٹ کے الیکشن سے روکا گیا اور آج نااہل کر دیا۔ جس وزیراعظم کو پاکستان کے عوام نے ووٹ سے منتخب کیا اس کا فیصلہ پاکستان کے عوام کریں گے۔’ خیال رہے کہ مقدمے کی آخری سماعت کے موقع پر اٹارنی جنرل اشتراوصاف نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ کہ عدالت کو کسی بھی رکن پارلیمان کو نااہل قرار دینے کے لیے ہر مقدمے کو الگ الگ دیکھنا ہوگا۔اٹارنی جنرل کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کا تعین نہیں ہے اور پارلیمنٹ ہی اس کے تعین کے بارے میں قانون سازی کر سکتی ہے۔ ادھر پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس فیصلے کے بعد ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’میرا ماننا ہے کہ سیاستدانوں کے مستقبل کے بارے میں ایسے فیصلے پاکستان کے عوام کو کرنے چاہییں۔ بدقسمتی سے مسلم لیگ نون اور پی ٹی آئی نے خود ہی ہماری سیاست کو عدالتی رنگ دے دیا ہے۔ نہال، نواز، اور ترین کو اب اپنے کیے کے نتائج بھگتنے پڑیں گے۔‘

@BBhuttoZardari کی ٹوئٹر پر پوسٹ کا خاتمہ

I am of the belief that it’s the people of Pakistan who should make such decisions about the fate of politicians. Unfortunately it is PTI & PMLN themselves who have forced the judicialization of our politics. Naehal Nawaz & Tareen must now face the consequences of their actions.— BilawalBhuttoZardari (@BBhuttoZardari) 13 اپریل، 2018

@BBhuttoZardari کی ٹوئٹر پر پوسٹ سے آگے جائیں

پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے اس فیصلہ کے بارے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت جہانگیر ترین کی نااہلی کا فیصلہ تسلیم کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’نواز شریف کو اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔ سپریم کورٹ ملک کی سب سے بڑی عدالت ہے اور تمام فیصلے آپ کی مرضی کے نہیں آ سکتے۔‘

Did you find apk for android? You can find new Free Android Games and apps.
Advertisements
0 Comments

Leave a reply

©2018 Cyberian.pk

 
or

Log in with your credentials

or    

Forgot your details?

or

Create Account